قسط نمبر 9

71 7 0
                                    

فاز اور عزہ کی مہندی کی تقریب خوب رونق زدہ تھی۔ ایسے میں خان ولا کے مکین اب مہندی کی رسم شروع کرنے جا رہے تھے۔
”چلو بھئی سب سے پہلے عاصمہ بھابھی اور سلامت بھائی کی باری ہے۔۔“ کہنے والے بابر تھے۔
”میں عاصمہ بھابھی کو بلا کر لاتی ہوں“ عائشہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھیں۔
”بابا میری باری کب آئے گی؟“افزا نے بے صبری سے پوچھا تھا۔
”بیٹے پہلے بڑے کرلیں پھر آپ سب بچوں کی باری“ بابر نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے کہا تھا۔
”افف کب پورے ہوں گیں سب بڑے“ اس نے منہ پھلاتے ہوئے کہا۔
”افزا آؤ ہم اپنا فوٹو شوٹ کر رہے ہیں۔۔ وہ کر لیتے ہیں۔ پھر مہندی لگا لیں گیں“ اینڈی نے آکر اس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
”اوکے تم باقی گینگ کو جمع کرو۔۔ میں بس ابھی آئی“ افزا  نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
”اوکے بابا سب سے پہلے بچوں میں سے میں کروں گی رسم“ وہ  کہتے ہوئے اپنا بھاری لہنگا سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”جاؤ“ وہ خوشی سے بولے۔ اینڈی کو دیکھ کر ان کے من میں اک خیال آیا تھا۔۔ جو فلحال انہوں نے گھر میں کسی سے بھی شئیر نہیں کیا تھا۔۔ بہت جلد وہ یہ بات سمیر سے کر نے والے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی۔۔ سب بڑے اپنی اپنی باری پوری کر کے سائیڈ پر اکھٹے ہو گئے تھے۔
”چلو دانیر تم شروع کرو۔۔“ بابر کے کہنے پر افزا نے منہ پھلایا۔
”بابا“ اس  نے خفگی سے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔
”بڑے سے چھوٹا ہوگا۔۔“ بابر نے تنبیہ کر تے ہوئے کہا۔ وہ مزید منہ پھلا کر کھڑی ہو گئی۔
”بابا اس حساب سے کینڈی کی باری سب سے آخر میں آئے گی“ سمیر نے یہاں بھی اینڈی کو چھیڑنا بہت اہم سمجھا تھا۔
”کینڈی نہیں اینڈی“  اینڈی نے اسے گھورا۔ اک بار پھر سب ہنس پڑے۔
”کیوں آئے گی اس کی  باری سب سے اینڈ پر؟“ زمل نے پوچھا۔
”کیونکہ کینڈی سائز میں سب سے چھوٹی ہوتی ہے  “سمیر نے کھی کھی کرتے بتایا تھا۔
”یو۔۔“اینڈی نے اسے یوں گھورا جیسے اسے کچا چبا جائے گی۔
”چلیں دانیر بھائی آپ رسم کریں۔۔ یہ لوگ یونہی لڑتے رہیں گیں“ افزا نے وہاں  فاز کے ساتھ باتیں کرتے دانیر کو مخاتب کرتے ہوئے کہا تھا۔
”دانیر ایسے نہیں۔۔ پارٹنر کہاں ہے تمہاری؟“ فاز کے شرارت سے کہنے پر زمل خفت سے سر جھکا گئی۔
”چلو بیٹا۔۔ نو سنگلز آلاؤڈ“ وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”بیٹا آنا تونے بعد میں میرے پاس ہی ہے“دانیر اسے گھورتے ہوئے بولا۔
”چل چل۔۔ بھابھی کوبلا“ وہ اسے دانت دکھاتے ہوئے بولا۔
”مسز دانیر خان“اس نے دلنشینی سے  زمل کو پکارا۔۔ وہ اس کے یوں پکارنے پر ششدر رہ گئی۔
سب کزنز نے مل کر ہوٹنگ شروع کر دی تھی۔۔
ہنہ جتنا بھی سویٹ بن جائیں مانوں گی پھر بھی نہیں وہ دل میں سوچتے  عزہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
سب نے انہیں شرارت سے دیکھا اور ڈھیر ساری فوٹوز اور وڈیوز بنائی تھیں۔
”چلو اب افزا کی باری۔“ سب نے کہا تھا۔۔
”افزا کیلےبیٹھے گی؟“ سمیرنے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”نہیں تم میرے ساتھ بیٹھو۔“ افزا نے اس  کا بازو دبوچتے ہوئے کہا۔
”نہ بھائی۔۔ میں تو نہ بیٹھوں“ سمیر نے فوراً نفی میں سر ہلاتے کہا۔
”میں اکیلی ہی کافی ہوں۔۔ہنہ“ وہ منہ بناتے کہہ کرعزہ کی سائیڈ پر بیٹھی۔۔ رسم کر کے کھڑی ہو گئی۔۔
”چلو بیٹا اب سمیر تمہاری باری“ دانیر نے اسے شرارت سے کہا تھا۔ اس کا یوں مسکرا کر سمیر کو بلانا زمل کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔ حیرت ہے فراگ پرنس اتنی مسکراہٹیں کیوں پاس کر رہے ہیں۔
”میری پارٹنر؟“سمیر نے اتنے معصومانہ انداز میں پوچھا کہ  اس کے سنگل ہونے پر سب کو افسوس ہونے لگا۔
”تمہاری نہیں تمہارا پاٹنر“ دانیر نے اسے یوں سمائل پاس کی جیسے جانے کتنی یاری رہی ہو ان دونوں میں۔
”میری پاٹنر ہلاکو خان“ اس کے منہ سے پھسلا۔
”کیا کہا ہے؟“ وہ سختی سے پوچھا۔۔ ہاں البتہ اس کی یہ سختی مصنوعی تھی۔۔ سب کا سانس رکا۔۔ سمیر کیسے اس ہلاکو خان کے سامنے ہی اسے ہلاکو خان کہہ گیا تھا۔
”کچھ نہیں دانیر بھائی“ وہ یوں معصوم بنا جیسے اس نے ابھی کچھ کہا ہی نہیں تھا۔
”چلو پھر بیٹھو عزان کے ساتھ“ دانیر نے مسکراہٹ روک کر سنجیدگی سے کہا۔۔ اینڈی کو ساتھ بٹھانے کا خواب آنکھوں میں سجائے وہ نہ چاہتے جیسے تیسے کر کے عزان کے ساتھ وہاں بیٹھا۔۔ رسم کی۔۔ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائی۔ ہلاکو  خان نے تو میری محبت ہی ہلاک کر دی۔۔ انہیں بتانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔ بظاہر مسکرا کر دانیر کو دیکھتا وہ دماغ میں یہ سوچے جا رہا تھا۔۔
ان دونوں کے جانے کے بعد اینڈی اور منسا کی باری تھی۔۔ وہ دونوں بھی اپنی رسم کر کے وہاں سے اتری تھیں۔۔ باقی رسومات  اپنے مقرر کردہ پلان کے   مطابق ادا کی گئی تھیں۔۔ مہندی کا فنکشن بہت خوب رہا تھا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”زمل یار۔“عزان نے ویلکم کے لئے پھول تیار کرتے ہوئی زمل کو پکارا۔
”ہاں بولو موٹو“ اس نے اپنے کام میں مگن جوا ب دیا۔
”ایک بات سمجھ نہیں آرہی“ اس نے الجھن سے اسے دیکھتے ہوئے  کہا۔
”کیا  بات؟“زمل نے اسے دیکھا۔
”یہ  ہم لڑکے والوں کی سائیڈ پر ہیں یا لڑکی والوں   کی سائیڈ پر“ اس نے کنفیوژن سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”جہاں جتنا فائدہ ہوگا وہاں ہوں گیں ہم“ اس نے ہنس کر بتایا۔
”یعنی کیا مطلب؟“ وہ معصومیت سے پوچھا۔
”یعنی جیسے آج لڑکی والوں کی رسومات ہیں آج ہم وہ انجوائے کریں گیں۔۔ اور کل لڑکے والوں کی ہوں گی۔۔ کل ہم لڑکے والوں  کے ساتھ۔۔“ زمل نے اسے ہنس کر بتایا۔
”عزان تم کسی بھی سائیڈ پر ہو، تمہاری بہن لڑکے والوں کی سائیڈ پر ہے “ دانیر کی آواز پر وہ دونوں مڑے
”کیوں جی؟“ عزان کے بھی یوں منسا کی طرح معصومیت سے پوچھنے پر وہ مسکرا دیا۔
”کیونکہ یہ تمہاری بہن نہیں بھابھی ہے“ دانیر کے یوں کہنے پر زمل نے اسے گھورا۔
”نہیں تو۔۔۔“ وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
”عزان میں تمہارے  ساتھ اک دن  لڑکی والوں کی سائیڈ پر ہوں گی۔۔“ وہ گھور دانیر کو رہی تھی اور بات عزان  سے کر رہی تھی۔
”دیکھ لیں گیں۔“دانیر نے اسے مسکرا کر مگر چیلنج کرتی نگاہوں سے دیکھا۔
”دیکھ لیں گیں سب“ وہ عزان کوکہتی وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ دانیر اس کی بچگانہ حرکتوں پر بس مسکرا کر رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بارات کا فنکشن بہت خوب جا رہا تھا۔۔کھانا لگا دیا جا چکا تھا۔ اسے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ملی تھی اس لئے وہ ڈائننگ ایریہ  میں کھڑی اپنی پلیٹ لیے ہوئی تھی۔۔ سب سے الگ تھلگ بیٹھی دانیر کی نظروں کے حصار میں تھی۔۔اسے یہ گوارا نہیں تھا کہ  اس کی بیوی یوں سب سے الگ وہاں کھڑی ہو اور وہ خود اس سے لاتعلق رہے۔۔ وہ اٹھا اور وہاں زمل کے قریب گیا۔ وہاں دو کرسیاں منگوائیں۔۔ اک پر خود بیٹھا دوسری پر اسے اشارہ کیا۔۔ وہ اس سب کے دوران بس خاموشی سے اپنے شوہر کو دیکھتی رہی۔۔ اس نے بھی وہاں بیٹھنا ہی مناسب سمجھا تھا کیونکہ  وہ اب کھڑی رہ رہ کر تھک چکی تھی۔۔
”اکیلی کیوں ہو؟“ دانیر نے بات کا آغاز کیا۔
”آپ  نے کر دیا اس لئے“ وہ اس کہی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔
”میں ہی واپس سب ٹھیک کرنا چاہوں تو؟“ دانیر نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”تو اب وقت گزر چکا ہے“زمل نے ناراضی سے کہا۔ وہ چاہتی تھی دانیر خان اسے منائے۔۔
”وقت اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے“ دانیر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”یہ آپ کی سوچ ہے۔“ زمل نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا۔
”میری سوچ بہترین ہے“ وہ زمل کو دیکھتے ہوئے بولا۔
وہ اسے اک نظر دیکھ کر پھر سے کھانے کے دھیان ہو گئی۔
”ویسے بڑی کوئی ظالم بیوی ہو“ دانیر کے دوبارہ بولنے پر وہ دانیر کو دیکھنے لگی۔
”کون؟؟“ وہ حیران تھی۔
”تم اور کون“ دانیر نے اسے دیکھا۔
”میں نے کیا کیا؟“ وہ انجان ہوتے پوچھنے لگی۔
”ایک بار  بھی اپنے شوہر سے نہیں پوچھا آپ بھی کچھ لیں گیں یا نہیں“ دانیر نے اسے شکایت کرتے ہوئے کہا۔
”ہاں تو آپ کے سامنے پڑا ہے سب کچھ۔ کھا لیں“زمل نے نارمل انداز میں کہا۔
”اچھی بیویاں اپنے شوہر کو خود کھانا سرو کر کے دیتی ہیں“ دانیر نے مسکرا کر کہا تھا وہ اس کی بات پر حیا سے سر جھکا گئی۔
”تو پھر میں غالباً اچھی بیوی نہیں ہوں۔“ زمل کے یوں کہنے پر ہنس پڑا۔ اس کے یوں ہنسنے پر زمل نے اسے دیکھا۔ اور پھر کتنی ہی دیر بس دیکھتی رہی۔
”کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟“ اسے اتنے انہماک سے دیکھتے ہوئے دانیر نے پوچھا۔
”دیکھ رہی ہوں کہ  ہلاکو خان بھی ہنس لیتے ہیں“ زمل ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولی۔
”تم نے بھی ہلا کو خان کہنا شروع کر دیا مجھے؟“ وہ یک دم سنجیدہ ہوا۔ مگر پہلی بار تھا کہ زمل اس کے یوں اچانک سنجیدہ ہونے پر گھبرائی یا خوف میں نہیں آئی تھی۔
”یعنی آپ کو پتہ ہے آپ کو ہلاکو خان کہا جاتا ہے“ زمل ہنستے ہوئے بولی۔
”ظاہر ہے۔“ دانیر بھی مسکرایا۔
”پتہ ہے پھر کیوں ایسے کر رہے ہیں؟“ زمل بولی
”مجھے تو یہ بھی پتہ ہے تم مجھے کیا کہتی ہو۔“ دانیر مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔ اس کو یوں کہنے پر وہ گبھرا گئی۔
”میں تو کچھ بھی نہیں کہتی ہوں“ زمل نے مکڑتے ہوئے کہا تھا۔
”سڑا ہوا مینڈک کون کہتا  ہے مجھے؟“ اس  کے اس قدر ٹھیک سوال پوچھنے پر وہ سٹپٹا گئی۔
”مم۔۔۔ میں تو نہیں۔۔کہتی۔“ وہ جھوٹ بولنے لگی۔
”اب نہیں کہتی۔“ دانیر نے اس کی درستگی کرتے ہوئے کہا۔
”امم۔“ وہ اپنی چوری پکڑی جانے کی وجہ سے اب کچھ کہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔
”اب جانتی ہو کیا کہتی ہو؟“ دانیر نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”کیا؟“ زمل نے جھکے سر سے پوچھا۔
”فراگ پرنس“ دانیر نے گہری مسکراہٹ ہونٹوں پر دباتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا۔ جو یہ سن کر فوراً حیا سے لال ہوئی تھی۔۔
”نہیں تو۔۔“ وہ پھر مکڑی
”مسز دانیرخان میں آپ کی رگ رگ سے واقف ہوں“ دانیر نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
”آپ کیسے جانتےہیں؟“زمل حیران ہوتے پوچھ رہی تھی۔
”تمہاری ہر ایک حرکت ہر ایک بات پر میری نگاہ رہتی ہے“ دانیر نے سامنے کا منظر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”اگر واقعی جانتے ہوتے تو آج ہمارے درمیان غلط فہمیاں نہ ہوتیں۔“ وہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اچانک سے جذباتی ہوئی تھی۔۔ دانیر کا کوئی بھی جواب سنے بغیر آنکھ کا نم کنارہ صاف کرتے ہوئے  وہاں سے چلی گئی تھی۔۔ مسز دانیر ففٹی پرسنٹ مان چکی ہو۔۔۔ ففٹی پرسنٹ محنت اور سہی۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے“
اپنے عقب میں کسی کی آواز سن کر وہ مڑی۔۔
اسے کوئی نظر نہ آیا۔۔ آواز میر صاحب کی تھی۔۔ مگر وہ اسے کہیں دکھا تو نہیں تھا۔ وہ اس وقت لان میں تھی۔۔ تھوڑی سی واک کرنے زمل کے ساتھ آئی تھی۔۔ مگر زمل کسی کے بلانے پر اندر گئی تھی۔۔ وہ ابھی وہیں تھی۔۔
”میرے دل میں یونہی رہنا۔۔۔“ اک بار پھر آوا ز آئی تھی۔۔ یہ آواز سمیر کی تھی یہ تو اسے کنفرم تھا مگر وہ چھپا ہوا تھا۔۔
”کم آن سمیر آئی نو یہ تم ہی ہو“ اینڈی نے بیزاری سے کہا۔
”تم کٹھی میٹھی کینڈی بن کر“ سمیر نے ہنس کر کہہ دیا تھا۔۔
”اب اگر آپ کا کنسرٹ ختم ہو گیا ہو تو سامنے آجائیں۔“ اینڈی نے کہا تھا۔ وہ لان میں تھی مگر اسے کہیں بھی سمیر دکھائی نہیں دیا تھا۔
”دیکھتی ہو جہاں، دیکھتی ہو جسے۔“ اک بار پھر سمیر نے اسے الجھن میں ڈالا۔۔ اس نے اسے تلاشی نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھا۔
”میں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں“ سمیر اس کے سامنے اک دم سے آیا وہ گبھرا گئی۔
”تم بھی نہ۔۔ ڈرا دیا مجھے“ اینڈی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”تم ڈر گئی؟ سمیر نے اسے دیکھا۔
”امم ہاں“ اینڈی نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تم مجھ سے ڈر گئی کینڈی صاحبہ؟َ“ سمیر کے پوچھنے پر وہ پھر سے چڑی۔
”کینڈی نہیں اینڈی۔۔“ اینڈی نے اسے گھور کر کہا۔
”کھٹی میٹھی کینڈی“ سمیر نے گنگناتے ہوئے کہا۔
”میں تمہیں اب کچھ کہنا ہی چھوڑ دینا ہے“ وہ اسے ناراضی سے دیکھتے بولی۔
”کیو ں بھئی؟؟؟“ سمیر نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں اب ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی واک کر رہے تھے۔
”کیونکہ  کل میری واپسی ہے۔۔ بس کل شام تک سننا پڑے گا تمہارا یہ کینڈی پھر میری جان چھوٹ جائے گی۔“ اینڈی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہو سکتا ہے اب  تمہاری جان کبھی نا چھوٹے “ سمیر نے اسے ذو معنی نگاہوں کے حصار میں لیا۔

تیرے آنے سے (COMPLETED)Where stories live. Discover now