سمجھ جب دنیا کی لگی
خود کو تیری محبت میں گرفتار پایا
ازل سے تجھی کو تو چاہا ہے
تیرا ہی نام حرف آخر قرار پایاذد کی تو بس تیری ہی کی
تیرے ہی خیال کو سر پر سوار پایا
اک تجھے ہی دل میں بسنے کی اجازت ہے
اور کسی نے، نا یہ مقام پایاتجھ سے تیری ہی شکایت کی
پھر جود ہی کو تیری وکالت کرتا پایا
خود کو تیرے ہی لیے تڑپایا ہے
تیرا ہی ذکر ہے سکونِ ہستی قرار پایاتیرے ہی گرد میری دنیا گھومی
تجھے ہی لازم و ملزوم پایا
آنکھ تو دل کا آئینہ ہے
اس دل میں کوئی اور نہ جھانک پایادنیا ساری میرے خلاف بولی
پر خدا کو اپنا گواہ پایا
یہ صوفی کے عشق کی حد ہی تو ہے
نہ کوئی مدِمقابل آیا نہ کوئی تجھے سوچ پایا
