#حُبّ
#از_لائبہ_نوید
#چودھویں_قسطوہ بیڈ پہ بیٹھی موبائل فون پر الماس رمشہ سے باتیں کررہی تھی ، اس دن اس نے آمان کو سب بتادیا تھا لیکن تب کے بعد سے دوبارا کچھ نہیں ہوا تو وہ کسی کا مذاق سمجھ کر اس واقعے کو بھلا چکے تھے، زریاب بھی اس بار بھی ویکینڈ پر نہیں آیا تھا مگر ایک بات جو اسے پریشان کررہی تھی وہ ماما کا حتمی راویہ تھا ، جیسے وہ سوچ چکی تھیں کہ اس کی شادی اب صرف شہریار سے ہی ہو گی
وہ سوچوں میں گم تھی کہ امان دروازے پہ دستک دیتا کمرے میں داخل ہو گیا
" کیسی ہو عجیب سی_ " اسنے کمرے میں آتے ہی اسے چھیڑا
" خود ہونگے عجیب سے _ " وہ ہنسی
" ہاتھ دکھاؤ ، کیسا ہے اب _ " اسنے بیڈ پہ اس کے برابر میں بیٹھتے اس کا ہاتھ پکڑ کے دیکھا "ہونہہ کافی بہتر ہے اب_ "
" کیا کررہی تھیں؟ روم سے باہر کیوں نہیں آراہی ہو اتنے دن سے ؟ _ " امان نے پوچھا کیوں کہ وہ پچھلے 4 دنوں سے کمرے کی نظر ہوچکی تھی باہر آتی تو یا تو كھانا کھانے یا وہ بھی کمرے میں منگا لیتی 'آمان اس کا ہاتھ پکڑے پوچھنے لگا تو وہ نظریں چرا گئی
" بس ایسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے نہ اس لیے " اسنے بہانہ بنایا
" ایسی بھی کوئی طبیعت خراب نہیں ہے کہ تم کمرے سے باہر ہی نا آ سکو، کام تو کوئی ویسے بھی نہیں کرتی ہو تم پھوہڑ _ " اس کی طرف سے غیر متوقع طور پر کوئی جواب نہ آیا تو امان اسے دیکھنے لگا پِھر بولا
" ماما سے ناراض ہو ؟ _ "
" نہیں _ "
" سچ کہو_ "
" ہاں ہوں_ "
" کیوں ہو ؟ _ "
" تم نہیں جانتے ؟ _ " اسنے تیز نظروں سے اسے دیکھا
" جانتا ہوں_ "
" تو پِھر ؟ _ "
" ماما نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا کہ تم ایسے ناراض ہوجاؤ . . . _ " امان کو اسکی یہی عادت اچھی نہیں لگتی تھی کہ کوئی بات اسکی پوری نا کی جائے تو وہ ناراض ہوجاتی تھی مگر وہ ناراضگی 1 گھنٹے سے زیادہ کی نہیں ہوتی تھی . . . . . مگر اِس بار بات بھی بڑی تھی تو ناراضگی بھی طویل تھی . . . .
ابریش خاموش تھی
" ہر بات ہمیشہ پوری ہوتی ہے نا تمہاری پِھر اگر کسی بات کے لیے ماما پاپا منع کردیں تو منہ بنا کر کیوں بیٹھ جاتی ہو ؟ _ " نا چاھتے ہوئے بھی اس کا انداز سخت ہو گیا تھا
" تمہیں بات پتا بھی ہے ؟ _ " ابریش کو غصہ آرہا تھا . . . امان بھی اسے نہیں سمجھ رہا تھا
" ہاں پتا ہے بہت اچھی طرح _ "
" ہاں تو پِھر ؟ تم تو کہتے تھے کہ تم ہمیشہ میرا ساتھ دوگے پِھر جب اب مجھے تمہاری ضرورت ہے تو تم بھی سب کی طرح یہی کہہ رہے ہو کہ میں غلط ہوں _ " اسنے آنسوں ضبط کرتے امان کے کندھے پر سَر رکھ لیا
" میں نے کہا تھا ، مگر یہ بھی کہا تھا کے بات ڈھنگ کی ہوگی تو ساتھ دونگا _ " اسنے ابریش کے گرد بازوں پھیلا لیا لیکن اسکی بات پر اسنے تڑپ کر سَر اٹھایا
" تو ڈھنگ کی بات نہیں ہے کیا یہ ؟ پسند ہے مجھے وہ اس ہی سے کرنی ہے شادی مجھے . . . کسی شہریار سے نہیں کرنی_ " آنسوں آنکھوں سے بہنے کو تیار تھے اور اسکی روندی شکل دیکھ کر امان کو بے ساختہ ہنسی آئی تو اسنے واپس اس کا سَر اپنے کاندھے پر رکھ لیا
" پاگل ہو تم_ " اسے سمجھ نہیں آیا وہ اور کیا کہے
" ہاں پاگل ہی ہو جو سب پر بھروسہ کرلیتی ہوں . . . ماما پاپا نے بھی جھوٹ کہا اور تم نے بھی_ " وہ روٹھ گئی تھی
" ایگزیکٹلی!! یہی پروبلم ہے تمہاری 'سب پر بھروسہ کرلیتی ہو تم' ، سمجھتی ہو جس نے تم سے مسکرا کر بات کرلی وہ تمھارے لیے اچھا ہے . . . جب کے ایسا نہیں ہے ابریش . . . "
امان کی بات پر کچھ کہنے کے لیے ابریش نے لب کھولنے چاہے مگر امان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چُپ رہنے کو کہا اور پِھر خود لمبا سانس لیتا دوبارہ بولنے لگا تو لہجے میں جیسے التجا تھی
" اپنی آنکھیں کھولو اپنے ارد گرد ہونی والی چیزوں پر غور کرو ابریش ، کچھ بھی ویسا نہیں ہے جیسے تمہیں نظر آرہا ہے . . . اب بچی نہیں رہی ہو تم ، اپنا بچپنا چھوڑدو ، _ " امان کی سمجھ سے باہر تھا کہ اپنی بہن کو کیسے سمجھائے جو کہ اب تک دنیا کو ایک فینٹیسی سمجھتی تھی
" تم کہاں پہنچ گئے ہو یار میں تم سے زریاب کی بات کررہی ہو اور تم بیٹھے بیٹھاۓ لیکچر دے رہے ہو تھکتے نہیں ہو ایسی باتیں کر کر کے؟ _ " وہ چڑ گئی تھی اور اسکی بات پر امان ہنسا تو وہ اور زیادہ چڑ گئی " کیوں ہنسے جا رہے ہو، میرا دماغ خراب ہو رہا ہے اور تمہیں ہنسی آرہی ہے "
" دماغ ہے تمھارے پاس؟ چیک کرواو_ " اسنے ابریش کے سَر کو انگلیوں سے دروازے کی طرح بجا کر دیکھا "خالی ہے بلکل"
" امان بدتمیزی مت کرو، مجھے بتاؤ میں کیا کروں_" اس نے اسکی غیر سنجیدگی سے چڑ کر اسکا ہاتھ اپنے سر سے جھٹکا
" شہریار سے شادی کرلو ، سمپل " اسنے کندھے اچکائے
" اف، تم سے تو بات ہی کرنا فضول ہے_ " وہ غصے سے خولتی اٹھی اور اپنے کمرے کی چیزیں سمیٹنے لگی مطلب صاف تھا کہ اب دفع ہوجاؤ کمرے سے مگر وہ بھی ڈھیٹ بنا بیٹھا رہا تو کن اکھیوں سے اسے دیکھتی ابریش آخر کار ہار مانتی دوبارہ بیڈ پہ آ بیٹھی
" کیا مسئلہ ہے تمہارا ؟ جاؤ نہ میرے کمرے سے "
" میرا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے تم اپنا مسئلہ کہو _ "
" تم لوگوں نے زریاب کو دیکھا تک نہیں ہے. . . اس سے ملے تک نہیں اور اسے ریجکٹ کر دیا . . . . اور 10 سال کے بعد آئے ہوئے شہریار کے لیے تم لوگ فوراً مان گئے ہو . . . کیا گارنٹی ہے تم لوگوں کے پاس کہ وہ پہلے جیسا شہریار ہی ہوگا ؟ _ " وہ غصے سے کھولتی بولی جا رہی تھی کہ امان نے اسے ٹوکا
" جتنا زریاب کو دیکھنا تھا نا ہم نے دیکھ چکے ہیں بلکہ بہت اچھی طرح سے دیکھ چکے ہیں اسلئے یہ بات تو تم کرو ہی مت اور تمھارے پاس . . . _ "
" ایک منٹ ! ! ! کہاں ملے زریاب سے تم ؟ _ " وہ چونکی تھی تو اس کے چونکنے پر امان کی چلتی زبان کو بریک لگا اسنے غلط وقت پہ غلط بات کہہ دی تھی . . . .
اسے وہ ابھی صاف لفظوں میں کچھ نہیں بتا سکتا تھا کیوں کہ اسے ابھی زریاب کی کوئی بات بری لگنی ہی نہیں تھی کہ اسکی آنکھوں پر تو ابھی زریاب کی محبت کی پٹی بندھی تھی جو کہ محبت تھی بھی نہیں صرف ایک وقتی انسیت تھی . . . .
" کہیں نہیں . . . . _ " وہ بیڈ سے اٹھا
"تم بات مکمل کئے بغیر نہیں جاسکتے آمان"اسے اٹھتا دیکھ کر وہ غصے سے بولی مگر وہ ان سنا کر کے دروازے کی طرف بڑھا مگر رکا . . . پلٹا
" تمہاری شادی شہریار سے ہی ھوگی اب وہ تم پر ہے کہ اپنی شادی کی تیاری رُو دھو کر کرو یا ویسے جیسے تم ہمیشہ سے چاہتی تھیں_"
سخت الفاظوں میں ابریش سے کہتا وہ کمرے سے جا چکا تھا جب کہ کچھ لمحوں کے لیے ابریش بیڈ پہ سن بیٹھی رہی پِھر چونکی اور اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں پھر سائڈ ٹیبل پہ پڑا لیمپ اٹھا کر زور سے کمرے کے دروازے پر دے مارا
"بدتمیز انسان_"

YOU ARE READING
*Hubun* (On Pause)
General FictionInstead Of A Man Of Peace And Love . . I Become A Man Of Violence And Revenge...... "HUBUN" (love)