EPISODE 10

2.6K 147 34
                                    

وہ گھر پہنچے تو تصبیہا نے کھانا لگا دیا اور خود صحن میں چلی گئی ۔۔۔۔ جب وہ کافی دیر نہیں آئی تو موصب صحن میں گیا تو وہ کرسی پر گھٹنوں میں منہ رکھ کر بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

تصبیہا ۔۔۔۔یہاں کیا کررہی ہو ۔کھانا نہیں کھارہیں ؟؟

اس کی آواز سن کر تصبیہا نے چہرا اٹھایا اس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں ۔۔۔

تم رو رہی ہو؟؟؟ کیوں کیا ہوا ؟؟؟ میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں ہے ابھی۔۔۔۔
موصب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے ہوا کیا ہے .

موصب وہ کتنی تکلیف میں ہوگا ۔۔۔۔۔تصبیہا کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے

تم حسن کی بات کررہی ہو؟
موصب اسے پہلی مرتبہ اسے اداس اور روتا ہوا دیکھ رہا تھا

موصب کہ سوال پر اس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

تصبیہا یہ سب اللہ کی مرضی ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ہم صرف دوا دے سکتے ہیں اس میں شفا دینا اللہ کا کام ہے اور پھر موت تو برحق ہے نا ۔ کچھ جلدی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ،کچھ دیر سے مگر جانا تو ہے نا۔۔۔۔
وہ پہلی بار اس طرح نرمی سے اس کے ساتھ بات کر رہا تھا

چلو کھانا کھالو ٹھنڈا ہورہا ہے ۔۔۔

مجھے بھوک نہیں لگ رہی ،تم کھا لو۔۔۔وہ ابھی بھی دکھی تھی

تم چل رہی ہو یا اٹھا کر لے کرجاوں .
موصب نے تیوری چڑھا کر کہا

تصبیہا چپ چاپ اٹھی اور اندر چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تصبیا ظہر کی نماز پڑھ کر کیفے ٹیریا میں آئی تو سب وہیں بیٹھے باتیں اور ہنسی مزاق کررہے تھے ۔ وہ وہاں آکر بیٹھی توسعد بولا

یار تصبیہا کی گڈویل دن با دن بڑھتی جارہی ہے ہوسپیٹل میں تم لوگوں نے نوٹ کیا ۔۔۔
سعد نے اسے تنگ کرنا چاہا ۔موصب بھی وہیں بیٹھا تھا ۔۔۔تصبیہا پہلے تو مسکرائی اور بولی ..
اللہ تو سب کو عزت دینا چاہتا ہے۔!

وہ ہمیں اعزاز کی اس مسند پہ بٹهانا چاہتا ہے جس کے ہم لائق تو نہیں ہوتے... لیکن وہ ہماری اوقات نہیں اپنی عطا دیکهتا ہے.۔۔
اور انسان ذلت کی راہ پہ ہمیشہ چلتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بهی کہ اس راہ میں سوائے رسوائی اور خالی دامن کے کچه ہاتھ نہیں آنا لیکن نفس کی انگلی تهامے, شیطان کی راہ پہ چلتے انسان پهر ایسی بهول بهلیوں میں کهو جاتا ہے کہ جس سے واپسی کے تمام راستے کهو جاتے ہیں... اور مسدود راہوں پہ پهر اللہ کی یاد ستانے لگتی ہے...
ہمیں اللہ تب ہی یاد کیوں آتا ہے جب گناہوں کی ذلت سارے وجود کا احاطہ کر لیتی ہے... جب نفس کی دهول سے بند آنکهیں دیکهنے سے قاصر ہو جاتی ہیں... جب مردہ روح میں ظلمت کے اندهیرے اپنے پنجے گاڑ لیتے ہیں...
یہ بهی نعمت ہے...اک نعمت... اللہ کا اس وقت یاد آ جانا... کتنے ہی اس لذت یاد الہی سے نا آشنا اس دنیا سے چلے گئے...
اور اللہ چاہے ذلت کی پستیوں میں ہی کیوں نہ یاد آئے اسے یاد کر لینا...
اللہ کو کیچڑ میں لپٹا کنول بهی قبول ہے.. وہ ہاتھ بڑها کہ اپنی محبت سے, بہت چاہت سے اس کیچڑ کو دهو ڈالے گا... اسےکبهی بهولنا مت... اسے بس اخلاص اور ندامت کا اک چوٹا سا آنسو منانے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔

mohabbat ki deewangi.  CompleteWhere stories live. Discover now