Anjum
3 stories
انصاف بقلم آسیہ ملک....《completed》 by Aseaa75
Aseaa75
  • WpView
    Reads 10,539
  • WpVote
    Votes 951
  • WpPart
    Parts 16
It's a story about war Insaf love relations ..... About social evils ....A girl who lives a lively life but her ends is hearty ...... A girl who sacrifice her life for taking revenge of her sister ..... A boy who cried with blood tears because of relatives .... A boy who believe blindly his relatives......A boy who lost his every thing so keep supporting and read this story
آفت! by SabihaRehman1
SabihaRehman1
  • WpView
    Reads 55,942
  • WpVote
    Votes 2,358
  • WpPart
    Parts 19
یہ کہانی ہے ایسی لڑکی کی جو زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے۔۔اس میں آپ کو پیار،مستی،شرارت سب ملے گا😋اس میں پیار بھی ہے غصہ بھی ہے۔کہیں شدید محبت ہے تو کہیں شدید نفرت بھی ہے۔۔۔اس میں کٹھی میٹھی شرارتیں بھی ہے۔۔۔اس میں سب سے اچھی بات جو مجھے لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں میں نے ہجروں کہ حق میں آواز اٹھائی ہے۔یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایسے نہیں ہیں اللہ نے ان کو ایسا بنایا ہے۔۔تو ہمارا کوئی حق نہیں بنتا کہ ہم ان کو حقیر سمجھے ان کو کمتر سمجھے ان کو ذلیل کریں ایسا کوئی حق نہیں دیا ہمیں اللہ پاک نے۔۔۔اللہ کی مرضی ہے سب اس کہ ہاتھ ہے وہ چاہے تو ہمیں بھی ان جیسا بنا دے اور ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔۔میری اپیل کے سب سے کہ ایسے لوگوں کی عزت کریں ان کہ ساتھ پیار سے پیش تا کہ وہ بھی ہماری وجہ سے عزت والا پیشہ اپنائے۔۔امید ہے آپ کو میری پہلی تحریر پسند آئے گی انشاللہ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔۔اور میرے ناول کو پڑھ کہ کمینٹس میں ضرور بتائیے گا کہ کیسی لگی میری پہلی تحریر۔۔۔۔شکریہ!!
MOHABBAT by Haya Fatima  by hayaf244
hayaf244
  • WpView
    Reads 142,054
  • WpVote
    Votes 4,909
  • WpPart
    Parts 28
یہ کہانی ہے انتقام اور محبت کی۔ مناہل سکندر، ایک ایسا کردار جو انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اپنی محبت اور سب رشتوں کو کھو دیتی ہے۔ شایان خان، وہ کردار جو اپنے انتقام کی تکمیل کی خاطر اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پیروں تلے کچل دیتا ہے۔ یہ کہانی کمزور محبت اور ماضی سے جڑے رشتوں کی راز کھولے گی۔ کیا محبت ، انتقام سے جیت پاۓ گی؟ یہ جاننے کے لیۓ پڑھئیے شایان اور مناہل کی زندگی کا سفر... "میرا ہاتھ چھوڑو" وہ اس کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوانے اور اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی. "چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا." مقابل کی نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں. اس کے الفاظ سن کر اسے طیش آیا تھا. "تم جیسا گھٹیا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا." اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا. "بتانے کا شکریہ، اور امید ہے کہ دیکھو گی بھی نہیں." وہ جتنی مزاحمت کر رہی تھی اس کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہوتی جا رہی تھی. اس کی انگلیاں اسے اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں محسوس ہورہی تھیں. تکلیف کی شدت سے آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہورہا تھا. "ک..کیا چاہتے ہو تم؟" آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگنے کو بےتاب تھے. "تم....تمہیں چاہتا ہوں." وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا. اسے اس کی آنکھوں سے جھلکتے جنون سے خوف محسوس ہ