السلام علیکم پیارے قارئین !
" اللہ پر ہمیشہ یقین رکھیں بعض اوقات ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے ہماری بہتری کے لیے ہوتا ہے ، رب کی رضا میں رضی ہونا سیکھ لیں یقین کریں آپ کی زندگی سنوار جائے گئی یہ بھی ایک ایسے ہی شخص کی کہانی ہے مجھے یقین ہے آپ کو اس کہانی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا آپ یہ کہانی پڑھ کر اپنی قمیتی رائے کا اظہار ضرور کریں ۔ "
" میں کوئی خاص لکھاری نہیں ہوں بس اپنی زندگی میں جو کچھ سیکھتا ہوں ، بعض اوقات دیکھتا ہوں وہی اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں اس کہانی میں بہت سی غلطیاں بھی ہوں گئیں اس کے لیے معافی چاہتا ہوں ۔ " شکریہ ۔ "
کہانی حائمہ اور ارحان کی
حائمہ کی بے پروائی کیا ارحان کو کر دیگی پاگل
کوئی نیا کردار کیا ڈالے کسی کی زندگی پہ اثر
عون آفندی کیا ہمیشہ کی طرح اس بار دے گا حائمہ کا ساتھ یا پھر....
ارحان آفندی کی برداشت کا امتحان
بہت سے مزیدار واقعات کے ساتھ ایک خوبصورت جوائنٹ فیملی کی کہانی
پڑھیں آپ
اور شکریہ ان کا جنھوں نے اسکے پہلے سیزن کو کامیاب بنایا اور زبردستی سیزن ٹو لکھوایا
یہ کہانی ہے اس لڑکی کی جو زبان سے اپنے جذبات اپنے ہی اپنوں سے شئیر نا کر سکی۔۔۔اور زندگی نے لیے اس سے کڑے امتحان۔۔یہ کہانی ہے اک لڑکے کی جو عورت ذات کو بےوفا سمجھتا ہے۔۔اور ماضی کے واقعات پر پرے ہوئے پردوں سے یکسر انجان ہے۔۔
کہانی ہے بنجاروں کی...
شملہ کے باسیوں کی.....
یاروں کی یاری کی تو...
دو دلوں کے ملنے کی...
دکھ کی اور خوشی کی...
تو محبت اور جنون کی.........
....
ایک خوبصورت داستان جس میں یار ہیں، پیار ہے، رشتے ہیں تو رشتوں میں جان ہے....
اسنے حیرت سے شیروانی کا اوپری بٹن کھولا
"کیا کہنا چاہتی ہو تم؟"
عروہ نے دوپٹے کو مزید کچھ پیچھے کرتے ہوئے حاطب کو دیکھا پھر فیصلہ کن انداز میں اپنی بات دہرائی
"یہی کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی"
عروہ کی خود اعتمادی نے اسے ایک لمحے کے لیے گڑبڑا دیا تھا
"یہ کیسا مذاق ہے،، اور ویسے بھی اب تو شادی ہو چکی ہے"
اس نے نارمل رہنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ورنہ اسے یہ مذاق ناگوار گزرا تھا، آرمی کے ڈسپلن میں رہتے ہوئے وہ اتنا سخت تو چکا تھا کہ فضول گوئی اسے اچھی نہ لگتی تھی
مگر سامنے اسکی بیوی اور نئی نویلی دلہن تھی۔شادی کی اول شب وہ کوئی ناخوشگوار بحث نہیں چاہتا تھا
"بے شک،، مگر میں پھر بھی یہ سب نہیں چاہتی. ،میں تمہارے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہتی"
"تو پھر کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو تم"
وہ اب بھی اس سب کو مذاق یا عروہ کی کوئی شرارت سمجھ رہا تھا
"یہ"
مگر عروہ نے انکی طرف دیکھے بغیر ایک گہری سانس لی۔اور موبائل فون اسکی طرف بڑھا دیا۔
سامنے سکرین پہ کسی نوجوان کی تصویر تھی،، کیپٹن حاطب جاوید نے بے یقینی سے سامنے بیٹھی دلہن کو دیکھا جو چند گھنٹے پہلے اسکے ساتھ عہد نکاح و وفا لے چکی تھی
"یہ بات کریں"
عروہ نے نظریں چراتے ہوئے موبائل اسکی طرف بڑھایا ۔سامنے کال چل رہی تھی۔پچھلے پندرہ منٹ سے کال چل رہی تھی ۔
اسکا دوران
یہ کہانی دو باتوں کہ گرد گھومتی ہے۔ پہلی یہ کہ انسان برا نہیں ہوتا، اعمال برے ہو سکتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ چاہے ایک مسلمان کتنا ہی اچھا کیوں نا ہو مگر وہ کبھی پرفیکٹ نہیں ہو سکتا۔ کوئی نا کوئی کمی اسکی ذات میں پھر بھی رہتی ہے۔
یہ ایک پریکٹسنگ مسلمہ 'زینا بنت عبداللہ' کی اور ایک ایتھیسٹ 'ایڈم اینڈرسن' کی کہانی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ زندگی ان کے لیے کس انداز میں کہانی بنتی ہے۔
ایسی لڑکی جو اپنے باپ کے ماضی میں کیے گئے ظلم وستم سے ڈرتی... مکافات عمل سے ڈرتی.. نئے رشتے کے بننے سے ڈرتی... کیا زندگی بھر خوف اس کے ساتھ سائے کی طرح منڈلاتا رہے گا یا کوئی رہنما.. اس کے خوف کو ختم کرنے والا ہوگا؟ کیا اسے اسکی زیست کا حاصل مل پائے گا
مکمل ناول✔
یہ کہانی ہے کسی کے جنون و عشق کی
کسی کی نفرتوں کی کسی کے ادھورے پن کی کسی کی چاہت کی تو کسی کے لاابالی اور کھلنڈر پن کے کسی کی بدمزاجی اور بدتمیزی کی۔
ہے یہ کہانی تھوڑی کھٹی میٹھی سی۔
امید ہے سب کو پسند آئے گی اگر کہیں غلطی ہوگئی تو میری اصلاح کردینا برا تبصرہ نہ کرئے کوئی۔
ہفتے میں ایک دفعہ سٹوری اپلوڈ ہو گی انشااللہ😍😍😘😘
یہ کہانی ہے انتقام اور محبت کی۔ مناہل سکندر، ایک ایسا کردار جو انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اپنی محبت اور سب رشتوں کو کھو دیتی ہے۔ شایان خان، وہ کردار جو اپنے انتقام کی تکمیل کی خاطر اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پیروں تلے کچل دیتا ہے۔ یہ کہانی کمزور محبت اور ماضی سے جڑے رشتوں کی راز کھولے گی۔ کیا محبت ، انتقام سے جیت پاۓ گی؟ یہ جاننے کے لیۓ پڑھئیے شایان اور مناہل کی زندگی کا سفر...
"میرا ہاتھ چھوڑو" وہ اس کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوانے اور اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی.
"چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا." مقابل کی نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں. اس کے الفاظ سن کر اسے طیش آیا تھا.
"تم جیسا گھٹیا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا." اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا.
"بتانے کا شکریہ، اور امید ہے کہ دیکھو گی بھی نہیں." وہ جتنی مزاحمت کر رہی تھی اس کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہوتی جا رہی تھی.
اس کی انگلیاں اسے اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں محسوس ہورہی تھیں. تکلیف کی شدت سے آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہورہا تھا.
"ک..کیا چاہتے ہو تم؟" آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگنے کو بےتاب تھے.
"تم....تمہیں چاہتا ہوں." وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا.
اسے اس کی آنکھوں سے جھلکتے جنون سے خوف محسوس ہ