شروع اللّٰہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے..
یہ کہانی ہے ہنسنے ہنسانے والے دوستوں کی...یہ کہانی ہے اتنی مسافتوں کے بعد بھی خود ترسی کا شکار نہ ہونے والی لڑکی کی..یہ جسم سے نہیں روح سے محبت کی کہانی ہے...یہ حور کی مع صوم دل کی کہانی ہے..یہ حمزہ کی محبت کی اور ہنزلا کے عشق کی کہانی ہے..یہ سفر وسیلۂِ ظفر کی کہانی ہے...
یہ میرا پہلا ناول ہے امید کرتی ہوں آپ سب کو میری یہ کوشش پسند آۓ گی اور آپ سب میرا ساتھ ضرور دیں گے..
یہ کہانی ھے ایک ایسی لڑکی کی جس کی روح نے صرف محبت کرنا سیکھا تھا❤۔ جسکے آنے سے محفل سج جاتی تھی😜 شوخ چنچل رنگوں میں بسنے والی تھی وہ. پر محبت کے نام پر دھوکا دیا گیا💔 ۔اور وہ ھنسنا بھول گ ئی تھی😢
یہ ایک آفسانہ ہے جس میں ایک لڑکی کے مسائل اور اس کے اللہ سے شکووں پر مبنی کہانی بیان کی گئی ہے جسے اللہ تعالی کے اسے نچلے طبقے پر رکھنے پر بے شمار شکوے ہوتے ہیں اور ایک دن یہ شکوے اسے کوئی بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کردیتی ہیں اور پھر اس مصیبت سے اسے اللہ کی ذات ہی نکالتی ہے۔
یہ کہانی ھے پانچ لوگوں کی یہ کہانی ھے عادت ھوجانے کی جو الودرہ کو ھوگٸی تھی یہ کہانی ھے عادت پیار میں بدلنے کی جو آذان کے ساتھ ہوا یہ کہانی ھے پیار محبت میں بدلنے کی جو استرام اور زرعلمان کے ساتھ ہوا یہ کہانی ھے محبت عشق میں بدلنے کی جو وہ خوابوں میں رہنے والی شہزادی ہی کر سکتی تھی یہ کہانی ھے عزت کی مان کی قربانی کی یہ کہانی ھے انتقام کی ❤
یہ کہانی ہے عاریہ شاہ اور بازل خان کی۔ دو الگ رستوں پر
چلنے والوں کی۔ انتقام کی آگ میں جلتے بازل اور اپنے باپ پر قربان
ہوئی عاریہ کی اب دیکھنا یہ ہے کے انتقام جیتتا ہے یہ معصومیت ۔
اس ناول کی تمام کردار فرضی ہیں اور انکا کسی شخص سے کوئی تعلق
نہیں ہے اور اگر ایسا کچھ نکلتا ہے تو وہ اتفاقیاں ہو گا۔
یہ کہانی ہے انتقام اور محبت کی۔ مناہل سکندر، ایک ایسا کردار جو انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اپنی محبت اور سب رشتوں کو کھو دیتی ہے۔ شایان خان، وہ کردار جو اپنے انتقام کی تکمیل کی خاطر اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پیروں تلے کچل دیتا ہے۔ یہ کہانی کمزور محبت اور ماضی سے جڑے رشتوں کی راز کھولے گی۔ کیا محبت ، انتقام سے جیت پاۓ گی؟ یہ جاننے کے لیۓ پڑھئیے شایان اور مناہل کی زندگی کا سفر...
"میرا ہاتھ چھوڑو" وہ اس کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوانے اور اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی.
"چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا." مقابل کی نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں. اس کے الفاظ سن کر اسے طیش آیا تھا.
"تم جیسا گھٹیا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا." اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا.
"بتانے کا شکریہ، اور امید ہے کہ دیکھو گی بھی نہیں." وہ جتنی مزاحمت کر رہی تھی اس کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہوتی جا رہی تھی.
اس کی انگلیاں اسے اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں محسوس ہورہی تھیں. تکلیف کی شدت سے آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہورہا تھا.
"ک..کیا چاہتے ہو تم؟" آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگنے کو بےتاب تھے.
"تم....تمہیں چاہتا ہوں." وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا.
اسے اس کی آنکھوں سے جھلکتے جنون سے خوف محسوس ہ