محبت کرنا اور محبت ہو جانا دو مختلف صورتیں ہیں. لیکن ان دونوں صورتوں میں جو شے مشترکہ ہے وہ ہے "اِقرار" محبت کے ہو جانے کا "اقرار لازم ہے".
محبت ایک فطری جزبہ ہے جسے انسان دوسرے فریق کی نظروں سے بھی محسوس کر لیتا ہے مگر کبھی کبھار اس محبت کا اقرار لفظوں سے کرنا لازم ہو جاتا ہے.
میری یہ کہانی بھی ایسے کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو محبت کی دنیا میں قدم تو رکھ چکے ہیں مگر اس کے اقرار کرنے سے ڈرتے ہیں. آخر کب تک؟ "اقرار تو لازم ہے".
یہ کہانی ہے نا چاہتے ہوئے بھی غلطی ہوجانے کی۔ یہ کہانی ہے اس غلطی کے خمیازے کی۔ یہ کہانی ہے عریبیہ ارحان کی نوک جھوک سے پیار کی پیار سے بدگمانی کی۔ یہ کہانی ہے در یار سے دل یار تک کے سفر کی۔
یکطرفہ محبت! آہ جس میں ایک شخص اپنی انا، غرور، وقار اور عزت نفس کو مار کر اس شخص کی طرف بڑتا ہے جو اپنے حسن، غرور و انا سے پتھر کا بن چکا ہوتا ہے... آخر کب تک وہ پتھر پتھر رہ سکتا ہے؟ ایک نہ ایک دن تو اسے موم ہونا ہی ہے...