Story cover for Mashgala-E-Ishq (Complete) by Rajput_Aqs
Mashgala-E-Ishq (Complete)
  • WpView
    LECTURES 27,689
  • WpVote
    Votes 1,585
  • WpPart
    Chapitres 10
  • WpView
    LECTURES 27,689
  • WpVote
    Votes 1,585
  • WpPart
    Chapitres 10
En cours d'écriture, Publié initialement sept. 30, 2019
"مشغلۂ عشق" اصل میں "داستانِ عشق" ہے۔
اور پھر، جب بات آئے عشق کی تو عشق میں کوئی منطق نہیں ڈھونڈی جاتی بلکہ اُس کے سحر میں کھویا جاتا ہے۔
یہ بھی ساری منطقوں  سے پرے۔ ایک چھوٹی سی افسانوی کہانی ہے۔  جس کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسے میں نے اپنے لفظوں سے قلم بند کرنے کی ممکن حد تک کوشش کی ہے۔
دل سے لکھی کہانی ہے، دل سے پڑھیں۔ 
امید کرتی ہوں آپ کو پسند آئے گی۔

دعاؤں کی طالب،
راجپوت اقصیٰ
Tous Droits Réservés
Inscrivez-vous pour ajouter Mashgala-E-Ishq (Complete) à votre bibliothèque et recevoir les mises à jour
ou
#164urdu
Directives de Contenu
Vous aimerez aussi
مكافات عمل , écrit par SafaChishti
1 chapitre En cours d'écriture
زندگی کیا واقعی وقت کو دہراتی ہے ؟میں نے کیا صفا کے ساتھ اتنا برا کیا؟ کیا میں یہ ہی desrve کرتا ہوں ؟ سوچوں کی منطق حیدر کی دماغ میں گاڑی کی طرح چل رہی تھیں مگر بلقیس بی بلکل ٹھیک کھا کرتی تھی شاید کے بیٹا تم اپنی جوانی میں تم اپنی اولاد کا مستقبل بنا رہے ہوتے ہو وقت اپنا ادھار نہیں رکھتا اسے چکانا ہی پڑتا ہے پھر چاہے کتنے معصوم لوگو اسکی زد میں لپٹ جایئں گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوۓ حیدر دماغی طور پر کہیں اور تھا اسے دادی ماں کی باتیں یاد آرہی تھیں جو دادی اسے اکثر کہا کرتی تھیں جب وہ لڑکی ذات کو کھلونے کے سوا کچھ نہیں سمجھتا تھا دلوں سے کھیلنا اور پھر اس سے لطف لینا حیدر کو مزہ دیتا تھا زارا ؛ حنا ؛ الوینا ؛ کتنی لڑکیاں کتنی معصوم محبتوں سے دل لگی کی شادی کے نام پر ہتھے سے اکھڑ جانا شادی میں اس سے کرونگا جس کو کسی مرد نے دیکھا نہ ہو . تم بس enjoy کرو بےبی یہ دن بس اچھا وقت گزارنے کے لئے ہوتے ہیں شادی کے لئے نہیں اور اسے سامنے کھڑی لڑکی کے جذبات کی انكے آنسوؤں کی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی مگر آج 45 سالہ حیدر کو اپنی معصوم بیٹی ردا میں ہر لڑکی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا تھا ۔ جس کی بارات عین شادی والے دن لوٹ گئی صرف اس لئے کے ردا کا جہیز کم لگا تھا اور حیدر لاچار باپ تھا بارات کی واپسی اک لڑکی کے لئے سارے دروازے بند کردیتی ہے کمرے میں قید ردا کی سیسكیياں حیدر سے چھپ تو نہیں سکتی تھیں۔ میری گناہ کی سزا میری معصوم بیٹی کو مل رہی ہے حیدر دکھ کی اتھاہ گہرائی میں ڈوب جاتا وقت خود کو دہرا رہا تھا ۔ وقت کا طمانچہ اتنی زور سے لگا تھا کے حیدر کی روح تک کانپ گئی حیدر جائے نماز پر بیٹھا خدا کے سامنے روتا گڑگڑاتا مگر دل کو سکوں میسر نہ ہوتا بیٹا یہ تیرے رب کا معاملہ نہیں یہ تیرے بندے کا معاملہ ہے جب تک بندہ معاف نہیں کرتا رب بھی معاف نہیں کرتا بلقیس با نو غم سے نڈھال حیدر کو کہتی در در بھٹکتا حیدر ان انسانوں کو تلاش کرتا جن کے جسموں کو کھلونا سمجھتا تھا جنکے جذبات کو ڈرامہ سمجھ کر مكهی کے پر کی طرح اڑا دیتا تھا مگر حیدر کی تلاش کا سفر کب ختم ہوگا؟ اک سوچ یہ بس اڑ کر رہ گئی
𝐏𝐘𝐀𝐀𝐑 𝐊𝐄 𝐊𝐈𝐒𝐒𝐄❤✨ 𝐁𝐎𝐎𝐊 𝟏, écrit par QueenAnB
128 chapitres En cours d'écriture
𝐁𝐎𝐎𝐊 𝟏 𝐎𝐅 𝐏𝐘𝐀𝐀𝐑 𝐊𝐄 𝐊𝐈𝐒𝐒𝐄❤✨ 𝗗𝗲𝘀𝗶 𝘀𝗵𝗼𝗿𝘁 𝘀𝘁𝗼𝗿𝗶𝗲𝘀 📜✨ 𝗥𝗼𝗺𝗮𝗻𝘁𝗶𝗰 𝗙𝗮𝗶𝗿𝘆𝘁𝗮𝗹𝗲𝘀🌹 𝗖𝘂𝘁𝗲 & 𝗽𝗮𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻𝗮𝘁𝗲 𝗽𝗮𝗶𝗿𝘀 ❣️ 𝗢𝗻𝗲 𝘀𝘁𝗼𝗽 𝗳𝗼𝗿 𝗥𝗼𝗺𝗮𝗻𝗰𝗲, 𝗳𝗮𝗺𝗶𝗹𝘆, 𝗰𝗼𝗺𝗲𝗱𝘆 𝗝𝗼𝗶𝗻 𝗺𝗲 𝗶𝗻 𝗳𝗶𝗻𝗱𝗶𝗻𝗴 & 𝗿𝗲𝗸𝗶𝗻𝗱𝗹𝗶𝗻𝗴 𝗟𝗼𝘃𝗲🎬 . . . 1.𝘎𝘪𝘭𝘢𝘩✨ (completed) 2.𝘑𝘶𝘴𝘵𝘢𝘫𝘰𝘰 🌟 (completed) 3.𝘒𝘩𝘶𝘭𝘥 🌧 (completed) 𝐙𝐮𝐛𝐞𝐫𝐢 𝐬𝐞𝐫𝐢𝐞𝐬-1 4.𝘉𝘦𝘴𝘩𝘶𝘮𝘢𝘢𝘳 🌷 (completed) 𝐙𝐮𝐛𝐞𝐫𝐢 𝐬𝐞𝐫𝐢𝐞𝐬-2 5.𝘛𝘢𝘬𝘳𝘢𝘢𝘳 🌻 (completed) 𝐙𝐮𝐛𝐞𝐫𝐢 𝐬𝐞𝐫𝐢𝐞𝐬-3 𝙵𝚞𝚛𝚝𝚑𝚎𝚛 𝚉𝚞𝚋𝚎𝚛𝚒 𝚜𝚎𝚛𝚒𝚎𝚜 𝚝𝚘 𝚋𝚎 𝚌𝚘𝚗𝚝𝚒𝚗𝚞𝚎𝚍 𝚒𝚗 𝙿𝚈𝙰𝙰𝚁 𝙺𝙴 𝙺𝙸𝚂𝚂𝙴 ❤✨ 𝙱𝙾𝙾𝙺 𝟸 #2 on short out of 124k stories✨(21/06/21) #7 on Pakistan out of 62.3k stories✨ (11/06/21) #6 on Stories out of 56.8k stories ✨ (14/09/21) #4 on aesthetic out of 31k stories ✨(27/08/21) #2 on shortstorycollection out of 14.4k stories ✨ (8/08/21) #1 on urdu out of 10.1k stories(22/10/21) #1 on lovestories out of 2.08k stories (03/06/21) #1 on youngwritershortstory out of 3.71k stories✨(12/05/2021)
Vous aimerez aussi
Slide 1 of 10
مكافات عمل  cover
دیمک cover
Hasil e Mohabbat cover
HEARTBEATS cover
Lamhay Kuch Adhuray Se By Aleena Farid cover
Family or Wife(Completed) cover
Saathi cover
داستانِ محبت / Dastan E Mohabbat  cover
میں تیرا ہوا cover
𝐏𝐘𝐀𝐀𝐑 𝐊𝐄 𝐊𝐈𝐒𝐒𝐄❤✨ 𝐁𝐎𝐎𝐊 𝟏 cover

مكافات عمل

1 chapitre En cours d'écriture

زندگی کیا واقعی وقت کو دہراتی ہے ؟میں نے کیا صفا کے ساتھ اتنا برا کیا؟ کیا میں یہ ہی desrve کرتا ہوں ؟ سوچوں کی منطق حیدر کی دماغ میں گاڑی کی طرح چل رہی تھیں مگر بلقیس بی بلکل ٹھیک کھا کرتی تھی شاید کے بیٹا تم اپنی جوانی میں تم اپنی اولاد کا مستقبل بنا رہے ہوتے ہو وقت اپنا ادھار نہیں رکھتا اسے چکانا ہی پڑتا ہے پھر چاہے کتنے معصوم لوگو اسکی زد میں لپٹ جایئں گاڑی کو ڈرائیو کرتے ہوۓ حیدر دماغی طور پر کہیں اور تھا اسے دادی ماں کی باتیں یاد آرہی تھیں جو دادی اسے اکثر کہا کرتی تھیں جب وہ لڑکی ذات کو کھلونے کے سوا کچھ نہیں سمجھتا تھا دلوں سے کھیلنا اور پھر اس سے لطف لینا حیدر کو مزہ دیتا تھا زارا ؛ حنا ؛ الوینا ؛ کتنی لڑکیاں کتنی معصوم محبتوں سے دل لگی کی شادی کے نام پر ہتھے سے اکھڑ جانا شادی میں اس سے کرونگا جس کو کسی مرد نے دیکھا نہ ہو . تم بس enjoy کرو بےبی یہ دن بس اچھا وقت گزارنے کے لئے ہوتے ہیں شادی کے لئے نہیں اور اسے سامنے کھڑی لڑکی کے جذبات کی انكے آنسوؤں کی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی مگر آج 45 سالہ حیدر کو اپنی معصوم بیٹی ردا میں ہر لڑکی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا تھا ۔ جس کی بارات عین شادی والے دن لوٹ گئی صرف اس لئے کے ردا کا جہیز کم لگا تھا اور حیدر لاچار باپ تھا بارات کی واپسی اک لڑکی کے لئے سارے دروازے بند کردیتی ہے کمرے میں قید ردا کی سیسكیياں حیدر سے چھپ تو نہیں سکتی تھیں۔ میری گناہ کی سزا میری معصوم بیٹی کو مل رہی ہے حیدر دکھ کی اتھاہ گہرائی میں ڈوب جاتا وقت خود کو دہرا رہا تھا ۔ وقت کا طمانچہ اتنی زور سے لگا تھا کے حیدر کی روح تک کانپ گئی حیدر جائے نماز پر بیٹھا خدا کے سامنے روتا گڑگڑاتا مگر دل کو سکوں میسر نہ ہوتا بیٹا یہ تیرے رب کا معاملہ نہیں یہ تیرے بندے کا معاملہ ہے جب تک بندہ معاف نہیں کرتا رب بھی معاف نہیں کرتا بلقیس با نو غم سے نڈھال حیدر کو کہتی در در بھٹکتا حیدر ان انسانوں کو تلاش کرتا جن کے جسموں کو کھلونا سمجھتا تھا جنکے جذبات کو ڈرامہ سمجھ کر مكهی کے پر کی طرح اڑا دیتا تھا مگر حیدر کی تلاش کا سفر کب ختم ہوگا؟ اک سوچ یہ بس اڑ کر رہ گئی