Silent_Writer_01
آتشِ ذوق (Aatish-e-Zauq)
"وہ روز خود کو سمجھاتی، روز خود کو تسلی دیتی... مگر اندر کا شور تھمتا ہی نہ تھا۔ محفل میں بیٹھے بیٹھے جب آنسو پلکوں کی دہلیز تک آ جاتے، تو وہ چپ چاپ اٹھ کر اندھیرے کمرے کی پناہ لے لیتی۔ اسے سننے والا کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ اس نے اپنوں سے ہی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ اب عید آتی تو وہ تیار ہونا بھی بھول جاتی... کیونکہ جب روح بکھر جائے، تو باہر کی سجاوٹ بے معنی لگتی ہے۔"