armanomin

‏بات
          	کچھ سُوجھی نہیں ھے
          	تجھ سے کہنے کے لیے
          	یہ تحیر بھی بہت ھے
          	زندہ رھنے کے لیے
          	آؤ بے سوچے 
          	زمانے بھر کی ھم باتیں کریں
          	عمر تو ساری پڑی ھے
          	کچھ نہ کہنے کے لیے
          	۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
          	ن-م راشد

Letters299

Hey dear give a chance to my work
          ♡♡♡
          I know it interrupt you but.. I'd like to tell you something.
          I'm writing a novel but it didn't complete yet. https://www.wattpad.com/story/367960546?utm_source=android&utm_medium=link&utm_content=story_info&wp_page=story_details_button&wp_uname=Rafatwrite
          ~~~
          https://www.wattpad.com/story/367962671?utm_source=android&utm_medium=link&utm_content=story_info&wp_page=story_details_button&wp_uname=Rafatwrite
          By clicking on the link you may find my novel. 
          The name of the novel is "Khawab-Gah" which means "Dreamland". It shows the innocence of love and life lessons. 
          It is available in both language Urdu and English.. and through my profile you can visit my instagram also.

armanomin

‏بات
          کچھ سُوجھی نہیں ھے
          تجھ سے کہنے کے لیے
          یہ تحیر بھی بہت ھے
          زندہ رھنے کے لیے
          آؤ بے سوچے 
          زمانے بھر کی ھم باتیں کریں
          عمر تو ساری پڑی ھے
          کچھ نہ کہنے کے لیے
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
          ن-م راشد

armanomin

دو ہی لوگوں کی  جگہ  نظم  میں  ہے، آ جاؤ
          آؤ لے چلتے ہیں ، افلاک  ُگھما  لائیں  تمہیں!
          یاد رکھو گے کہ شاعر سے محبت کی تھی!!
          
          ___گلزار

domdaddypancake

This board u_u wah wah 

armanomin

@agust-em Oh well thanks :)
Reply

domdaddypancake

@armanomin 
            Just saying I like the poetry on your board >.>
Reply

armanomin

اک ترا دکھ ہی نہیں تھا کہ پریشاں ہوتے
          
          یہ جو پہناوا ہے زخموں پہ، مداوا تو نہیں
          یہ جو آنکھیں ہیں، ترے نور سراپا کی قسم
          اس قدر پھوٹ کے روئی ہیں کہ اب یاد نہیں
          کون سا درد کہاں آن ملا تھا ہم کو
          کس جگہ ضبط پریشان ہوا پھرتا رہا
          نہ ہمیں راس رہا ہجر نہ ملنے کی گھڑی
          اب تمہیں کیسے کہیں زخم پہ مرہم رکھو
          اب تمہیں کیسے کہیں ہم سے کہیں آ کے ملو
          اب تمہیں کیسے کہیں آنکھ سے بہتے ہوئے شخص
          اب ہمیں اور کئی دکھ بھی تو ہو سکتے ہیں!!!
          

armanomin

درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں
          زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں
          درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں
          درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
          ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت
          درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں
          درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں!

armanomin

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
          ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی
          
          نظر آتا ہے جو، ویسا نہیں ہوتا کوئی شخص
          خود کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی
          

armanomin

".........کوئی" تو ہو جو۔۔
          تسلیوں کے حروف دے کر
          رگوں میں بہتی اذیتوں کا
          غرور توڑے۔۔
          "کوئی " تو ہو جو۔۔
          حدوں سے بڑھتا
          یہ درد بانٹے۔۔
          
          مگر یہ" کوئی" کبھی ملاہے؟؟؟
          مگر یہ " کوئی " کہیں نہیں ہے ......
          مگر یہ" کوئی" ..... "کوئی " نہیں ہے_____!