تم حقیقت نہیں ہو، حسرت ہو۔
جو ملے خواب میں، وہ دولت ہو۔
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں،
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو۔
تم ہو خوشبو کہ خواب سی خوشبو،
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو۔
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں،
یانی ایسی ہو جیسے فرقت ہو۔
تم ہو انگڑائی رنگ و نگھت کی،
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو؟
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ؟
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو!
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں؟
تم میری زندگی کی عادت ہو!
داستان ختم ہونے والی ہے۔
تم میری آخری محبت ہو!
-جون ایلیا-
- DołączyłMay 19, 2023
Obserwowani
Zarejestruj się, aby dołączyć do największej społeczności pisarskiej
lub
If the world is to end tomorrow, my only wish is to wake up and see your face first thing in the morning! @DeyswritesZobacz wszystkie posty na Tablicy