آرام گاہ_______
"کیوں پیتے ہو یہ زہر تم۔۔۔حالت دیکھو اپنی" میرے بکھرے بال، مدہوش حالت اور سامنے پڑے ادھ جلے درجن سگریٹ دیکھتے وہ زچ ہو کر بولی تھی " اس کے کڑوے پن نے تمہیں بھی کڑوا کر دیا ہے، رحم کرو خود پہ اور چھوڑ دو یہ نشہ"
میں، جو بیزاری کی آخری حد میں تھا ، آخر آج بول ہی پڑا۔۔۔
یہ سگریٹ، میرے لیے اتنے ہی ضروری ہیں جتنا سانس لینے کیلیے ہوا ضروری ہے، اسکا کڑوا دھواں میرے اندر جاتا ہےتو میرا دل سلگتا ہے، دماغ جلتا ہے لیکن یہ میری حقیقت سے زیادہ کڑوا نہیں ہوتا۔
میرے تلخ خیالات جو میرے دماغ میں اژدھے کی صورت پھن پھیلائے بیٹھے ہوتے ہیں اس دھوئیں کے ذریعےمیرے سامنے ہوا میں ناچتے ہوئے غائب ہوجاتے ہیں!
جب میرے اندر سچ بولنے اور ماننے کی طاقت ختم ہوتی ہے تو ادراک اور ابہام کے سارے راستے اس کے ایک کش کی نذر ہوجاتے ہیں، جب حقیقت اپنے پر پھیلائے مجھے ڈسنے کو آتی ہے تو اسکے کش مجھے اس خوف سے "فرار" بخشتے ہیں
جب میرے خالی پن کی حقیقت میرے سامنے آئنے کی طرح کھڑی ہو تی ہے تو ان سگریٹوں سے اپنے ارمان بھرتا ہوں
جب میرے اندر کے درد کلبلانے لگتے پیں اور میں پل پل اپنی اذیتوں کے ڈھیر تلے مرنے لگتا ہوں تو یہ سگریٹ، یہ نشہ مجھے سکون بخشتے ہیں، مجھے اپنی آخری آرام گاہ محسوس ہوتے ہیں!
اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ موت کے بعد کسی کی آرام گاہ بھی اس سے چھین لے۔۔۔
میں زندہ نہیں ہوں اب!
مجھے میری قبر میں دھیرے دھیرے اترنے دو!
_____گل اندام