باب-۱۶

98 27 18
                                        

کے ساتھ بحث کر رہی تھی التجا کے نام پر۔ وہ اس وقت اپنی ماں
"امی۔۔ دے دیں نا پیسہ نۓ کپڑے لینے ہیں"
امی: ایک بار کہہ تو دیا نہیں۔۔
کبھی کچن تو کبھی لاؤنج میں وہ اپنی ماں کہ پیچھے پیچھے گھوم رہی تھی۔
صالحہ: امی بس ایک نیا سوٹ لینا ہے۔۔ پلز نا
امی: ہرگز نہیں۔۔
وہ اب کچڑا پھینک نے کیلئے دروازہ کے باہر ڈسٹ بن کی کے پاس گئ تھی، اور صالحہ ان کے پیچھے گئ۔
امی: الماری کھولتے ہی تمہارے سارے کپڑے زمین کو چومنے لگتے ہیں۔ اور اب تمہیں اور کپڑے چاہیے
وہ اب تھک کر صوفہ پر بیٹھ گئ تھی اور صالحہ بھی انہی کہ بغل میں آکر بیٹھ گئ۔
صالحہ: آپ کو کیا ہی پتہ ہے۔۔۔ کینٹین میں تو بس آۓ دن کھانے کی چیزوں کے پرائز میں اضافہ ہی ہو رہا ہے
امی: ایک بار کہہ دیا نا۔
صالحہ: ہر بار تو میں نہیں کہتی اس بار سامنے سے کہہ رہی ہوں۔۔ پلز!
وہ تقریبً ایک ہفتہ سے یہ بات دُہرا رہی تھی۔ بھابھی بھی اپنے کمرے سے نکل کر پانی لینے گئ تھی اس نے انہیں بھی صوفہ پر بیٹھا لیا۔
صالحہ: آپ بتائیں بھابھی۔۔ اب بندہ دوستوں کے ساتھ ہوگا تو جیب میں پیسے تو ہونے ہی چاہیے ورنہ کیا ہی عزت رہ جاۓ گی میرے گھر کی۔۔ وہ لوگ تو یہی سمجھیگیں نا کہ کیسے گھر والے ہیں اس کے کچھ پیسہ کوڑی نہیں دیتے۔۔
امی: دیکھا ہے میں نے تمہاری سہیلیوں کو۔۔ وہ لوگ ایسی بلکل بھی نہیں ہے۔ بلکہ تم ہی ایسی ہو۔
عبداللہ: ارے کہانی بنا رہی ہے۔ میں تو کہتا ہوں امی آپ اب سے جو بھی پیسہ انہیں دیں رہی ہے وہ بند کردیں۔۔ اور میرے حصہ میں ہی کچھ اضافہ کردیں۔۔
صالحہ: منحوس کہی کہ۔۔۔ دوسروں کی ترقی سے جلوگے تو جہنم نصیب ہوگا تمہیں
ابو: بھئ کس کہ جہنم کا فیصلہ سُنایا جا رہا ہے
اس کے والد ذاکر کے ساتھ گھر میں داخل ہورہے تھے۔ عبداللہ صوفہ کے قریب ہی ایک کرسی لگاکر اس میں بیٹھ گیا تھا اور اپنے منافع کا انتظام کررہا تھا۔
صالحہ: مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے اور یہ۔۔
عبداللہ: ضرورت نہیں کہتے اسے فضول خرچ کہتے ہیں
اس نے صالحہ اور اس کے والد کے درمیان اپنی بات رکھی۔
صالحہ: یہ پھر سے بکواس کررہا ہے۔۔ میں کہہ رہی ہوں اس پہلے بولیں چُپ رہے یہ
ذاکر ماحول کی سرگرمی کو نظرانداز کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلاگیا لیکن اس کی بیوی یہی صوفہ پر اسی طرح بیٹھی رہی۔ اب ان دونوں کے درمیان حالات پہلے سے بہتر ہوگۓ تھے۔
ابو: پیچھلے مہینہ بھی تو ایک نیا سوٹ لیا تھا نا
صالحہ: ارے تو وہ پارٹی اور فنکشن والا تھا، ابھی مجھے کالج جانے کیلئے چاہیے روزمرہ میں استعمال کیلئے۔
ابو: او اچھا۔
اس کے والد تو راضی ہی تھے لیکن اس کی امی نہیں اور عبداللہ، وہ تو اپنے منافع خوری کرنے میں مصروف تھا۔
بالآخر اسے دو نۓ کپڑے لینے کیلئے پیسے مل ہی گۓ۔ اس کی خوشی کا تو اندازہ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے ندا سے سب سے پہلے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
اس کا کمرہ پھیلا ہوا تھا۔ نہایت ہی عجیب سا ماحول ہو رکھا تھا۔ کپڑے بستر پر ایسی حالت میں بِکھرے تھے جیسے کسی نے انہیں ہفتوں سے پھیک رکھا ہو۔ سامنے پڑی ٹوکری (کپڑے دھونے کا باسکٹ) میں اتنے کپڑے جمع ہوگۓ تھے کہ اب ان میں سے کچھ باہر زمین پر بھی نظر آرہے تھے۔
صالحہ: ہا ندا۔ آواز آرہی ہے تو
یہاں وہاں کی فضول باتوں کے بعد اس نے شامنگ کا پوچھا۔
ندا: ہاں یار بالکل ٹھیک کہا تم نے۔ میں بھی بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں۔ مجھے تو اس بار اپنی بہن کی بھی شامنگ کرنی پڑےگی اس بار وہ بہت بیزی ہے۔
پھیلے ہوۓ کپڑوں کہ درمیان وہ لیٹی ہوئ تھی۔ اپنے بائیں کان میں فون لگاۓ داہنی ہاتھ سے اپنے بالوں کو گھوما رہی تھی۔ اس کہ سیدھے بال اگر گنگھریلے ہوتے تو وہ اس کے سفید شفاف چہرہ پر اور بھی زیادہ خوبصورت لگتے۔
صالحہ: اچھا چلو پھر نیکسٹ ویک ہم ڈن کرتے ہیں۔
اس نے فون تو کٹ کردیا تھا لیکن اسی کو چلانے میں بیزی ہوگئ۔
◇◇◇
آج کا سفر اس کیلئے ایک مختلف قسم کا تجربہ تھا۔
وہ اس وقت کھانا کھا کر اپنے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ اسے اس کتاب کا خیال آیا۔
جلدبازی میں اٹھتے وقت اس کے پاؤں کا پاجامہ اینڑی سے کافی اور اور گھٹنے سے تھوڑا نیچے درمیانی طور پر آگیا تھا۔
الماری کہ سامنے کھڑے ہوکر وہ جلدبازی میں اسے تلاش کر رہا تھا۔
واحد: کیا کر رہے ہو یار۔ اگیارہ بج چُکے ہیں سو جاؤ ورنہ کل بھی لیٹ ہوجاۓ گا۔
اس نے اپنے منہ سے چادر ہٹاتے ہوۓ کہا۔ اس کی آنکھیں کمرے میں اچانک ہوئ روشنی کی وجہ سے کھلی تھی۔
بغیر اس کی باتوں پر غور کۓ وہ اسی جلدبازی میں کچھ دیر تک وہا کھڑا تلاش کرتا رہا۔ آخر اسے وہ کپڑوں کہ تہہ کے درمیان ملی۔
بغیر بتی بُجھاۓ وہ اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔
I thought once how Theocritus had sung

خواب گاہ Tahanan ng mga kuwento. Tumuklas ngayon