- از قلم بریرہ فاطمہ -
" کلاس کسی آرٹ گیلری کا منظر پیش کررہی تھی ہر جگہ کیلیگرافیز ہی کیلیگرافیز تھی۔ دیوانی اسکریپٹ ، خطِ ثلث ، خطِ نستعلیق اور بہت سے دلچسپ و دلنشین خطاطی کے نمونے کلاس کی زینت کو چار چاند لگا رہے تھے ، وہ سب کل کے سیمینار اور ایگزیبیشن کا سامان تھا جو کہ ایک مخصوص وقت تک کے لیئے وہاں رکھا تھا ۔
• " تم کیا پہن رہی ہو کل ؟ ماہرہ نے تانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو کے ان بہترین کیلیگرافیز کو دیکھ کر لطف انداز ہورہی تھی اور انکی تصاویر لینے میں مصروف تھی ۔“ماہرہ تانیہ کی خطاطی میں بیج میٹ تھی ”
• " یار میری کل کے لیے ایک لونگ میکسی ہے ڈارک پرپل کلر میں ، تم بتاؤ ؟" تانیہ نے ماہرہ کی طرف متوجہ ہو کر اپنا موبائل بیگ میں ڈالتے ہوئے اس سے کہا ۔
• اچھا واہ ! میری فش ٹیل فراک ہے یار ۔ اچھا سنو نقاب ہٹاؤ گی کل ؟ ماہرہ نے قدرے سنجیدگی سے تانیہ سے پوچھا ۔ !
"• تانیہ نے چونک کر ماہرہ کی طرف دیکھا ۔ یہ کیسا سوال ہے ؟ کیوں ہٹاؤں گی اور ہٹانا ہی ہوتا تو لگاتی کیوں؟ عجیب بات ہے ۔ ! “تانیہ کو ماہرہ کی بات کافی عجیب لگی تھی اور تھوڑا غصہ بھی ابھر آیا تھا جسے وہ برداشت کررہی تھی” ۔
• اچھا یار مطلب ہے کہ بڑا سیمینار ہے تم تیار ہوگی تو پھر نقاب کیسے کرو گی؟ اور تم تو کر بھی ہوسٹینگ رہی ہو ۔ چہرے کے تاثرات وغیرہ میں مسائل نہیں ہونگے ؟ ماہرہ انتہائی کنفیوزن میں تانیہ سے یہ سب کہہ رہی تھی ۔ !
• باقی لڑکیوں میں سے ایک دو اور بھی ماہرہ کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں ۔ "
"• تانیہ اب بلکل متوجہ ہو کے بیٹھ گئی تھی اور انتہائی سنجیدہ بھی ۔ اسنے اپنا بیگ اٹھا کر گود میں رکھ لیا اور اسکے اوپر ہاتھوں کو ٹکا لیا اب وہ پوری طرح سے ماہرہ کی طرف متوجہ تھی ۔ ! (دیکھو میری بات سنو ۔ پہلی بات یہ کہ مجھے تیار ہونے کے بعد نقاب لگانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ٹھیک ہے ، دوسرا یہ کہ میری میم فابیہ سے بات ہو چکی ہے میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر نقاب ہٹانے کا مطالبہ کریں گی تو کسی اور کو ہی دیکھ لیں میں کمپیرنگ نہیں کروں گی ۔ اور پرفارم مجھے کرنا ہے ناں وہ میرا کام ہے کہ نقاب کے ساتھ کیسے بہترین پرفارمنس دینی ہے کیسے نہیں تو اس پر بھی میں کام کر چکی ہوں ، تیسری اور سب سے اہم بات میں نقاب اس لیئے نہیں لگاتی ماہرہ کہ میں حسین ہوں ، یا نہ اس لیئے کہ میں حسین نہیں میں اللہ کی رضا کے لئے پردہ کرتی ہوں اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ میں کوئی پارسا نیک پروین ہوں یا بہت زیادہ شدت پسند ۔ نہیں دیکھو میں بھی کو-ایجوکیشن میں زیرِ تعلیم ہوں لیکن بس پردے والے اس حکم کو پلو سے باندھ لیا ہے میں نے تاکہ اللہ اس وجہ سے مجھ سے راضی رہے اور باقی آزمائشوں اور گناہوں سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ جس دن میں پیاری لگ رہی ہوں گی جب میرا چہرہ باعثِ فتنہ بھی ہو سکتا ہے تو تم ہی بتاؤ اس دن مجھے نقاب کی زیادہ ضرورت ہے یا ابھی ؟ جبکہ ابھی تو میں کام اور تھکان کی وجہ سے بھوت دکھ رہی ہوں ۔جب ابھی نقاب میں ہوں تو اس دن تو یہ بلکل بھی ممکن نہیں کہ میں نقاب ہٹادوں اور یار مجھے بغیر نقاب کے الجھن ہوتی ہے لگتا کے جیسے سب کی نظروں کا مرکز ہوں میں ۔ اور مجھے لوگوں کی نظروں کا مرکز بننا پسند نہیں ہے ، میں چاہتی ہوں زیادہ سے زیادہ کام نقاب میں رہ کر کروں تاکہ میری طرف سے لڑکیوں کو پیغام جائے کہ پردہ ہماری کامیابی کی راہوں میں آڑ نہیں ہے ،میں تو کہوں گی تم لوگ بھی نہ ہٹاؤ تم سب کا ایک وقار اور معیار ہے نقاب ہٹاؤ گی تو وہ پست نہ ہوجائے ۔) تانیہ ہر جملہ ٹھہر ٹھہر کر انتہائی تحمل سے بول رہی تھی ۔ پھر ایک لمبی سانس بھری اور دوبارہ گویا ہوئی ۔ اب کچھ رہ تو نہیں گیا ناں ؟

YOU ARE READING
آزمائش 🍁
General Fictionایسی تکلیف جو تمہیں اللہ سے دور کردے ، " سزا ہے " اور ایسی تکلیف جو تمہیں اللہ پہلے سے زیادہ قریب کردے، " آزمائش ہے " ۔