"اندر آجائیں آپ"۔ ملازم اسے کہتا لاؤنج کی راہ دکھانے لگا۔ وہ باغ سے ہوتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئے۔ وہ لاؤنج اس وقت خالی تھا۔ وجدان بڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں داجی اور ان کے دو بیٹے اندر داخل ہوئے۔ سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
"کیسے ہو برخوددار"۔ داجی کو وہ پہلی نظر میں بہت اچھا لگا تھا۔
"الحمدوللہ"۔ اس نے ٹہھر کر جواب دیا۔
"تم یہاں اپنی بہن کے لیے آئے ہو جہاں تک مجھے حیدر نے بتایا ہے"۔
وجدان نے نگاہیں اٹھا کر سامنے بزرگ کر دیکھا جنہیں سب داجی کہہ کر پکار رہے تھے۔
"بہن کے رشتے کے سلسلے میں"۔ اس نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے بات کی تصحیح کی۔
"بات تو ایک ہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں تم ہمارے رسم و رواج سے واقف ہوگے"۔ داجی نے صاف وٹہ سٹہ کی بات کرنی چاہی۔
"جی انکل۔ اس نے وٹہ سٹہ کے متعلق بتادیا تھا۔۔ اور ہاں میں راضی ہوں"۔ اس نے یہ کہتے ہوئے اپنا دل سخت کیا تھا۔ وہ ان کو جانچنا چاہتا تھا۔ اسے اپنی بہن دینی تھی یہاں اور وہ ان کے رویے معلوم کرنا چاہتا تھا۔
"یہ رسم و رواج ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ہمارے خاندان میں اور ہم اس سے منہ نہیں موڑتے"۔ کبیر صاحب حویلی کے اصولوں کے بارے میں تفصیل سے بتانے لگے۔ وہ اس سب میں کچھ نہ بولا سوائے اثبات میں سر ہلانے کے۔
"ہم عورتوں کو زیادہ آگے پڑھانے خلاف ہیں کیونکہ اس سے وہ باغی ہوجاتی ہیں"۔ یہ بات داجی نے جان بوجھ کر کہی تھی۔۔۔
داجی کی اس بات پر وجدان انہیں آنکھیںِ پھاڑے دیکھنے لگا۔
"کیسی بغاوت؟"۔ اس نے یک ٹک تینوں کو دیکھا۔
"وہ خاندان سے منہ موڑ لیتی ہیں اور اپنے فیصلوں کا اختیار خود رکھنے کی کوشش کرتی ہیں"۔ داجی کے لہجے میں حقارت تھی۔
"میری بہن بھی بہت آگے تک پڑھ رہی ہے اور اس میں تو کسی قسم کی بغاوت نہیں پیدا ہوئی۔۔۔ کیا وہ آپ کو قبول ہوگی؟"۔ وجدان نے ایک آئبرو اچکا کر پوچھا۔ اسے خوف محسوس ہورہا تھا کہ اس کی بہن یہاں کیسے رہے گی؟۔ ایسے لوگوں کے درمیان جو عورتوں کو ترقی ہی کرنے نہیں دیتے۔
"نہیں! یہ سن کر تو بلکل بھی نہیں کہ تم صالحہ سے شادی کرنے پر راضی ہو"۔
وجدان ان کے جواب سے مطمئن نہ ہو پایا۔
ملازم نے اندر آکر چائے کی ٹرے رکھی اور چلا گیا۔
"باتیں تو بہت ہوگئی ہیں۔ آپ مجھے شادی کی تاریخ بتادیں تاکہ ہماری طرف سے بھی تیاری شروع ہوجائے"۔ وجدان نے بڑھ کر چائے کا کپ ہاتھوں میں تھاما۔
"اگلے ہفتے ایک چھوٹی سی تقریب کردیں گے نکاح کی"۔ داجی نے اپنا فیصلہ سنایا۔
"اگلے ہفتے؟ اتنی جلدی؟"۔ وہ ششدر ہوگیا۔
"ہاں برخوددار۔۔ اگلے ہی ہفتے"۔ ان کے لہجے میں ایک رعب تھا۔
"اور کہاں پر ہوگی یہ تقریب؟"۔ وجدان کا اس حویلی میں دم گھٹنے لگا۔
"حویلی میں"۔ کبیر صاحب کی اس بات پر وجدان نے تیزی سے نفی میں سرہلایا۔
"آپ کو لگتا ہے میں اپنی بہن کو عروسی جوڑے میں حویلی لے کر آؤں گا تاکہ نکاح ہوسکے؟ پہلے وہ دلہن بنے گی پھر سفر کرتے ہوئے حویلی آئے گی؟ نکاح کے بعد حویلی لے جائیے گا۔ آپ کو بھی میری ایک شرط ماننی پڑے گی۔۔۔ شادی شہر میں ایک قریبی ہال میں ہوگی۔۔۔ ہال کا خرچہ سب میں پورا کردوں گا مگر یوں میں اپنی بہن کو دلہن بنا کر دنیا کو دکھاتے ہوئے شہر سے گاؤں نہیں لاؤں گا"۔ وہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہوئے بولا۔
داجی خاموش ہوگئے۔ وہ ان کی خلاف ورزی کررہا تھا مگر انہیں اس وقت خود کو یہ سب ہونے دینا تھا۔
"شرط قبول ہے تمہاری۔ تمام اہتمام پھر تمہاری جانب سے ہوں گے۔ حیدر کو شہر کی تقریب کے بارے میں بتادینا۔ ہم پہنچ جائیں گے"۔ وہ مان گئے تھے۔
باہر اچانک آواز آئی تو وجدان نے لاؤنج کے کھلے گیٹ کے باہر دیکھا جہاں باغ کا تھوڑا حصہ نظر آرہا تھا۔ بارش شروع ہوچکی تھی اور باہر سے لڑکیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔ اس نے نگاہیں پھر سے داجی پر مرکوز کرلیں۔
"آنے والے ہفتے کو تمہارا اور صالحہ کا نکاح ہوجائے گا اور ساتھ میں تمہاری بہن اور حیدر کا بھی"۔ انہوں نے بات مکمل کرنی چاہی۔
وجدان کو شادی کے لفظ سے کوفت ہورہی تھی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
"ٹھیک ہے مجھے منظور ہے"۔ وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس گفتگو نے اس کا ایک گھنٹہ لے لیا تھا۔
"کھانے کا اہتمام بھی شامل ہے اس گفتگو میں"۔ داجی کا لہجہ ایسا تھا جیسے کھانے کا پوچھ کر احسان کررہے ہوں۔
"جی نہیں شکریہ"۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ حیدر لاؤنج سے اندر داخل ہوا۔
"آپ اتنی جلدی جارہے ہیں؟"۔ اسے اتنی جلدی جاتے دیکھا تو حیدر کو لگا کہ داجی نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہے جس سے وجدان خفا ہوگئی۔
"بارش تیز ہورہی ہے اور مجھے جلد از جلد شہر جانا ہے"۔ وہ بنا تاثر دیے لاؤنج سے باہر بارش دیکھنے لگا۔
"او اچھا۔۔۔ تو۔۔ وہ تاریخ کب کی طے ہوئی؟"۔ وہ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگا۔
"آنے والے ہفتے کی"۔ وجدان نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بتایا۔
"شہر میں یا یہیں؟"۔ اس نے وقفے سے پھر پوچھا۔
"شہر میں۔۔۔ تمام اہتمام میں کردوں گا۔ آپ صرف اپنی تیاری مکمل رکھیں۔۔۔ میسج پر تمہیں تقریب کا مقام بھی دیدوں گا"۔ وہ قدم باہر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ حیدر اس کے سامنے کھڑا ہوا۔
"آپ مطمئن ہیں نا؟"۔ یہ سوال حیدر کے دماغ میں کھٹک رہا تھا۔
"اگر نہیں ہوتا تو بھی شادی ہونی ہے۔۔۔ آپ سے ملاقات ہوتی ہے ہفتے کو"۔ وجدان نے آگے ہاتھ بڑھا کر اسے اللہ حافظ کہا اور باہر نکل آیا۔
"آئیں میں گیٹ تک چھوڑ دوں"۔ وہ اس کے پیچھے آنے لگا۔ وہ لاؤنج سے باغ میں داخل ہوئے جہاں دو لڑکیاں پوری چادر میں خود کو محفوظ کیے بارش کا مزا لے رہی تھیں۔
"رفاہ بارش اور تیز ہوگئی ہے"۔ وجدان کے کانوں تک آواز پہنچی تو اس کے قدم بےاختیار رک گئے۔۔ اس کے پیچھے حیدر بھی حیرت سے رک گیا۔
وہ پہچانتا تھا اس آواز کو۔۔۔ اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کو! وہ اس کی عزت بننے والی تھی اور یہ احساس بھی عجیب تھا۔ وہ پل بھر کو رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ صالحہ نے بےدھیانی میں گردن موڑی تو وہ پیچھے ہی کھڑا تھا۔۔۔ صالحہ کی سانسیں پل بھر کو رکی تھیں اور وہ شخص آگے بڑھ گیا۔
"یہ کون تھے صالحہ باجی؟"۔ رفاہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئی۔ بارش کی بوندیں ان پر تیزی سے گررہی تھیں اور وہ خاموش کھڑے تھے۔۔۔ صالحہ سن ہوگئی تھی۔
"یہ وہی تھے جن سے شہر میں ویر نے ملاقات کی تھی۔۔۔ مگر۔۔۔ یہ یہاں کیوں آئے ہیں؟"۔ اسے پریشانی ہونے لگی۔ حیدر ان کو دروازے تک چھوڑ کر پلٹا تھا اور صالحہ کو خاموش کھڑا دیکھتا ہوا نظریں چراتا آگے بڑھ گیا تھا۔
"باجی ژالہ باری ہورہی ہے"۔ رفاہ کی آواز میں بلا کی خوشی تھی۔۔۔ صالحہ کے چہرے پر خوشی کے جذبات دوبارا نمودار ہوئے اور وہ آسمان کو تکنے لگی۔ یہاں داجی نہیں تھے ورنہ ان دونوں کی اب تک شامت آچکی ہوتی۔۔۔
رفاہ اب تیز بارش میں جھوم رہی تھی۔ وہ ایک پیاری سی چھوٹی لڑکی تھی۔۔۔ جسے صالحہ کی طرح بارشوں سے بہت لگاؤ تھا۔ ایک نادان سی گھنی پلکوں اور لمبے بالوں والی لڑکی تھی جو کہ بہت کم عمر تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ وہ جھومتے جھومتے مڑی تو اس کی رنگت فق ہو گئی۔ وہ بنا کوئی تاثر دیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ صالحہ نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو شرجیل کھڑا تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ شرجیل سنجیدگی سے رفاہ کو دیکھتا مڑ گیا اور رفاہ کا دل حلق میں آگیا۔
"چلیں باجی اندر چلتے ہیں"۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑتی بولی۔
"ہاں بارش بھی ہلکی ہوگئی ہے"۔ اس نے انکار کرنا مناسب نہ سمجھا۔
"میں اپنے کوارٹر میں جارہی ہوں کیونکہ میں مکمل بھیگ چکی ہوں باجی"۔ رفاہ کی بات پر صالحہ نے اسے گردن موڑ کر دیکھا جو کالے کپڑوں میں مکمل بھیگ چکی تھی۔ وہ ونی تھی اس لیے اس کے پاس اسی رنگ کا جوڑا تھا۔ صالحہ اثبات میں سرہلاتی اندر مڑگئی۔ کمرے میں جا کر اس نے کپڑے تبدیل کیے اور سکھاتی نیچے آگئی۔ شام ہونے کو تھی۔ بادل چھٹ رہے تھے اور قریب ہی سورج نکلنے والا تھا۔ وہ باورچی خانے میں داخل ہوئی۔
"شام کی چائے بنادیں شاہ جی"۔ اس نے پتیلیوں میں جھانک جھانک کر شاہ جی کو کہا۔
"ساجد شام کی چائے بناؤ حویلی والوں کے لیے"۔ انہوں نے پیچھے بیٹھے دوسرے باورچی کو حکم دیا۔ صالحہ خاموش ہوگئی۔ شاہ جی تمام باورچیوں کے سربراہ تھے۔
"کیا ہوا صالحہ بی بی؟ آپ کیوں مرجھا گئیں؟"۔ شاہ جی نے اس کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
"کیا آپ چائے نہیں بنا سکتے؟ آپ اچھی بناتے ہیں"۔ اس نے التجا کرتے ہوئے پوچھا۔
شاہ جی اس معصوم سی لڑکی کو التجا کرتے دیکھا تو مسکرادیے۔
"کیوں نہیں بنا سکتا۔۔ ضرور بنا سکتا ہوں بی بی۔۔۔ اب آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے تو میں کیسے انکار کرسکتا ہوں"۔ صالحہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
"مجھے آپ کے ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے شاہ جی"۔ وہ اپنے ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بےخودی سی بولی۔
"مجھے یہ سن کر اچھا لگا میری دھی۔ اب لگتا ہے روز چائے مجھے ہی بنانی پڑے گی"۔ وہ محبت سے مسکراتے ہوئے پتیلی چولہے پر چڑھانے لگے۔
"آپ کو پتا ہے شاہ جی میرا کل رزلٹ آیا تھا اور سوائے ایک دو کے کسی نے مجھ سے ابھی تک یہ نہیں پوچھا کہ کیا ہوا صالحہ پاس ہوگئی؟"۔ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات نہیں کررہی تھی۔ بلکہ اس پتیلی کو دیکھ رہی تھی جسے شاہ جی نے تھوڑی دیر پہلے چڑھائی تھی۔
وہ اس کا چہرہ تکتے رہے۔
"دوسروں کا مجھے علم نہیں ہے مگر میں نے اس لیے نہیں پوچھا تھا کہ مجھے علم تھا آپ کے پاس ہونے کا". وہ خفیہ انداز میں مسکرائے۔
"آپ کو معلوم ہے؟"۔ وہ حیران ہوئی۔
"اگر مجھے معلوم نہ ہوتا تو میں یہ تحفہ کیسے دینے کا سوچتا؟"۔ انہوں نے اپنی جیب سے ایک بریسلٹ نما چیز اس کے ہاتھ میں رکھی۔ صالحہ نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ وہ ایک خبصورت سا چاندی رنگ کا بریسلٹ تھا جس پر گولڈن موتی لگے تھے۔
"یہ تو بہت خوبصورت ہے شاہ جی، لیکن یہ مہنگا لگتا ہے"۔ اس نے دونوں بنھویں ملا کر بتایا۔ شاہ جی نے مسکرا کر اثبات میں سرہلایا۔
"انمول چیزیں انمول لوگوں کو دیا کرتے ہیں۔ میرے پاس ایک اور ہے! مگر وہ میں نے کسی اور کے لیے رکھا ہے"۔ وہ کسی کو سوچ کر مسکرادیے۔
"کس لیے شاہ جی؟"۔ وہ اب انہیں انہماک سے دیکھ رہی تھی۔
"ایک اور خاص بندے کے لیے۔۔۔"
چہرے پر دل چھو لینے والی مسکراہٹ برپا ہوئی۔
"کیا میں بھی آپ کے لیے خاص ہوں؟"۔ وہ متحیر ہوئی ان کی باتوں میں کھو سی گئی تھی۔
"ہاں۔۔۔"۔ وہ ساتھ ساتھ کام بھی کررہے تھے۔
"آپ دل موہ لینے والی باتیں کرتے ہیں شاہ جی"۔ اس نے سر جھٹکا۔
"اچھا؟ مجھے کبھی معلوم نہیں ہوا یا پھر یہ میری دل کی آواز ہے"۔
"آپ نے کبھی شادی کیوں نہیں کی شاہ جی؟"۔ یہ وہ سوال تھا جس پر وہ پل بھر کے لیے خاموش ہوئے تھے۔ وہ اس چھوٹی سی افشاں کو کیا بتائے۔۔
"تم جاننا چاہتی ہو؟"۔ انہوں نے بنھویں اچکا کر پوچھا تو صالحہ نے اثبات میں سرہلادیا۔
"بتاؤں گا تمہیں! بہت جلد بتاؤں گا تمہیں کہ میں نے شادی کیوں کی"۔ وہ کہہ کر چپ ہوگئے۔
"مجھے اچھا لگا سن کر کہ میں آپ کے لیے خاص ہوں ورنہ اس حویلی میں پھپھو کے علاوہ میں کسی کے لیے خاص نہیں شاید"۔ وہ اداسیوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھی۔ اس نے وہ بریسلیٹ ہاتھ میں پہن لیا۔ شاہ جی کا دل کسی نے گویا مسل دیا تھا۔
"یہ بریسلیٹ بہت خوبصورت ہے شاہ جی۔۔۔ میں اسے ساری عمر سنبھال کر رکھوں گی۔ اس لیے بھی تاکہ مجھے یاد رہے کہ میں کسی کی نظروں میں خاص ہوں"۔ وہ مسکرائی اور باہر نکل گئی۔ ایک چھوٹے سے تحفے نے اسے بےحد خوش کردیا تھا۔ اور شاہ جی خود کا تیار کررہے تھے۔ وہ اب چاہتے تھے کہ صالحہ جان لے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی۔۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
شام کی چائے پر آج سب ہی ایک ساتھ لاؤنج پر بیٹھے تھے۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں دادی لاؤنج میں آئے تو سب خاموش ہوگئے۔ صالحہ اپنا بریسلیٹ ثریا کو دکھانے میں مصروف تھی۔
"آج کے آنے والے مہمان بہت خاص تھے ہمارے لیے"۔ داجی نے بات کا آغاز کیا۔ صالحہ نے لفظ "مہمان" سنا تو کان کھڑے کرلیے۔ شبیر صاحب خاموش بیٹھے تھے کیونکہ جو بات داجی بتانے لگے تھے اس سے ان کی بیٹی کا دل ضرور ٹوٹنے والا تھا۔
"ہم نے صالحہ کا رشتہ پکا کرلیا ہے۔ کبیر تمہیں اعتراض تو نہیں؟"۔ انہوں نے گردن موڑ کر پیچھے بیٹھے ہوئے بیٹے سے پوچھا۔ لوازمات سے بھری ٹرے سجاتے اندر آتے شاہ جی کے ہاتھ سے ٹرے لڑکھڑائی۔ داجی ماتھے پر بل ڈال کر انہیں دیکھا تو وہ معذرت کرتے میز پر ٹرے رکھ کر کچن کے پاس جا کھڑے ہوئے۔۔ وہ ان کی گفتگو سننا چاہتے تھے۔
"آپ کے آگے ہماری بات ہی کہاں ٹھہرتی ہے ابا جان!"۔ وہ تو تھوک نگلتے ہوئے بظاہر مسکرائے اور صالحہ کی جانب دیکھنے لگے جس کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہو رہا تھا۔ "مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے"۔ انہوں نے یہ الفاظ صالحہ کی رنگت دیکھتے ہوئے کہے تھے۔ ثریا ماتھے پر بل ڈالے داجی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ لاؤنج میں سکوت کا عالم چھا گیا۔ حیدر کا دل چاہا کہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔
"ہم جانتے ہیں تم ہمارا کہا کسی صورت نہیں ٹال سکتے"۔ انہوں نے اکڑ سے گردن اٹھائی۔
طلعت نے اپنے شوہر کبیر کو دیکھا جو بڑی آسانی سے داجی کا فیصلہ مان گئے تھے۔
"ہم نے صالحہ کا رشتہ اس لڑکے سے طے کر دیا ہے جو دوپہر میں آیا تھا اور حیدر کا رشتہ اس کی بہن سے! نکاح کے ساتھ رخصتی کی تقریب آنے والے ہفتے کو ہوگی"۔ ثریا کی رنگت اڑی تھی اور صالحہ کو اپنے گرد اندھیرا محسوس ہوا تھا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ وہ ایسے کسی کے ساتھ رشتہ کیسے جوڑ سکتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ ارحم کی منگتیر رہ چکی اور ارحم کو مرے دو ہفتے بھی نہیں ہوئے۔
"میں نہیں کروں گی شادی داجی۔ ایسا ظلم مت کریں۔ میں نے تو آپ کی ہر بات مانی ہے آپ بھی میری بات مان لیں مجھے شادی نہیں کرنی خدارا داجی!"۔ اسے نہیں معلوم کہ وہ کب چیخی تھی۔ طلعت نے غم سے اپنے پیشانی پر ہاتھ مارا تھا۔
"داجی میں آگے پڑھنے کا بھی نہیں کہوں گی۔ میں نہیں روں گی اور آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی مگر یوں نہ کریں!"۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کبیر بٹ کا دل کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا تھا۔ شرجیل نے کچن کے دروازے پر کھڑی رفاہ کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے صالحہ کو دیکھ رہی تھی۔
"خاموش لڑکی اگر اتنا ہی ظلم ہو رہا ہے تم پر تو ہمیں نہیں اپنے ویر سے کہو جس نے تمہارے نکاح کا خیال پہلے ہی دماغ بنایا ہوا تھا وہ اس شہری لڑکی کو پسند کرتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی شادی تب تک اس لڑکی سے نہیں ہوگی جب تک تمہارا نکاح اس کے بھائی سے نہیں ہوگا!۔ حیدر اس لڑکے سے جس کا نام وجدان ہے اس سے پہلے ہی تم سے شادی کی بات کر چکا ہے ہے ہم نے تو رسماً اس سے ملاقات کی ہے! حیدر یہ سب پہلے ہی طے کر چکا تھا"۔ انہوں نے ڈپٹ کر بتایا۔
صالحہ کی رنگت ایک بار پھر بھی اس نے آنکھیں پھاڑ کے بے یقینی سے حیدر کو دیکھا جو زمین کو تک رہا تھا۔
ویر ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ نہیں داجی جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔! وہ خود سے خود کو کہہ رہی تھی۔۔۔
صالحہ کے حواس جھنجھنا اٹھے۔ ثریا کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا تھا اور وہ اٹھ کر بغیر حیدر پر ایک نظر ڈالے کمرے میں گئی تھی۔ شاہ زل نے اسے جاتے ہوئے بہت غور سے دیکھا تھا۔ ہاں وہ یہ ضرور چاہتا تھا کہ حیدر ثریا سے دور ہوجائے مگر وہ ثریا کو اداس نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
"شادی کی تیاریاں شروع کردو طلعت! شادی میں زیادہ وقت نہیں۔۔۔" وہ ابھی بات مکمل کر ہی رہے تھے کہ صالح چیخی۔
"میں نہیں کروں گی شادی! میں نہیں بنوں گی قربانی کا بکرا آپ جھوٹ بول رہے ہیں ویر ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔ نہیں کر سکتا وہ اپنی بہن کے ساتھ ایسا"۔ وہ پوری قوت سے چیخی۔ حیدر لب بھینچ گیا۔ اس کا دل کٹا جا رہا تھا۔
داجی تیزی سے اٹھے اور اسے ایک تھپڑ جڑدیا۔ وہ بل کھا کر زمین پر گرتی اگر اسے شمیلہ چچی اور طلعت نہ پکڑلیتے۔ سب حیران ہوگئے۔ کبیر تکلیف سے کھڑے ہوگئے مگر کچھ بول نہ سکے۔
"لے کر جاؤ اس کو ورنہ ہم ابھی اس کو قتل کردیں گے!۔ ہمیں بھلا کیا ضرورت پڑی ہے شہر سے لڑکی لانے کی؟ ہم مانے ہی حیدر کی وجہ سے ہیں! ہم بھی دیکھتے ہیں کیسے نہیں مانتی شادی کے لیے!"۔ وہ قہر آلود لہجے میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف مڑ گئے۔ یہ جانے بغیر کہ وہ شمیلہ چچی کی بانہوں میں بےہوش ہوچکی تھی۔ شاہ جی کچن کی زمین پر بیٹھتے چلے گئے۔ آنکھ نے آنسو بہائے اور ہونٹ کپکپانے لگے۔ اس قدر بےبس وہ پہلی بار افشاں کی وجہ سے ہوئے تھے اور اب ایسے ہی بےبس وہ اس وقت تھے۔
ظالم وقت!
ناقابلِ یقین لمحے!
۔۔۔★★۔۔۔
"کیا بات ہوئی؟"۔ وہ ابھی گاؤں سے لوٹا تھا۔ دماغی طور پر وہ اتنا تھک چکا تھا کہ آفس بھی نہیں گیا تھا بلکہ سیدھا گھر آگیا تھا۔ اتنی لمبی ڈرائیونگ نے اسے تھکا دیا تھا۔
"کیا پانی مل سکتا ہے؟"۔ اس نے تھکے تھکے سے لہجے میں پوچھا۔ وجیہہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ "ابھی لائی" کا کہہ کر کچن سے پانی کا گلاس لے آئی اور اسے تھما دیا۔ وہ اس قدر پیاسا تھا کہ ایک ہی سانس میں گلاس خالی کرگیا۔
"انہوں نے اس ہفتے کی شادی کی تاریخ دی ہے"۔ اس نے گہری سانس لے کر گلاس میز پر رکھا۔
"شادی کی؟ اتنی جلدی؟" اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
"ہاں انہوں نے یہی تاریخ دی ہے شادی شہر میں ہوگی۔ ایک آخری بار پوچھ رہا ہوں! سوچ لو! میں دیکھ کر آیا ہوں وہاں کے لوگوں کو اور حیدر کے داجی کی سوچ کو! ان کے خیالات ہمارے خیالات سے قطعی ملتے جلتے نہیں"۔ وہ ساتھ ساتھ جوتے بھی اتار رہا تھا۔ اس نے وجیہہ کی آخری بار رضامندی جاننی چاہی۔ وہ کیسے اس کا برا چاہ سکتا تھا؟ وہ اسے اپنی بہن نہیں بیٹی سمجھتا تھا۔
"آپ اس طرح سے اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ صالحہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے!"۔ وجیہہ نے نخوت سے کہا۔ وجدان نے گہری سانس لے کر ہوا میں چھوڑی۔ وہ اس کی بات کا غلط مطلب لے گئی تھی۔
"ایسا کیوں سوچتی ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو حویلی ہی نہ جاتا میں"۔ اس نے بےبسی سے اپنی صفائی میں کہا۔
"جب مجھے ہی پرواہ نہیں تو آپ کو کیوں مسئلہ ہے بھائی؟ آج عمر کی اس دہلیز پر کھڑے ہو کر میں نے جانا کہ ماں باپ کا زندہ ہونا کیوں ضروری ہے"۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوکر مڑنے لگی تھی وجدان نے اٹھ کر اسے گلے سے لگالیا۔ اس نے کیا کیا نہیں کیا تھا اس کے لیے! وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی محبت میں کہاں کمی رہ گئی؟۔ ہاں ہوسکتا ہے کمی رہ گئی ہو۔۔۔ کوئی خواہش وہ اس کی پوری نہ کرسکا ہو۔۔۔ وہ اس کا سگا باپ نہیں تھا۔۔۔ وہ اس کا باپ جیسا بھائی تھا مگر سگا باپ نہیں تھا۔
"رو مت جیا جان! بھائی کو تکلیف ہوتی یے نا۔۔۔ روتے نہیں ہیں! آنے والے ہفتے کو شادی ہے تمہاری اور ساتھ میری بھی اور دیکھو! ہم نے کوئی بھی تیاری نہیں کی! جاؤ منہ دھو اور کپڑے تبدیل کرو۔۔۔ جب تک میں فریش ہوجاتا ہوں پھر ساتھ باہر ڈنر بھی کریں گے اور شاپنگ بھی"۔ وہ اس کی پیشانی چومتے ہوئے محبت سے بولا۔ وہ ویسے ہی کھڑی اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
"جانا ہے کہ نہیں؟"۔ وہ جب ٹس سے مس نہ ہوئی تو وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اونچا کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔ وہ اب بھی خفگی دکھاتی چپ رہی اور اس کے گلے لگی رہی۔۔۔
"چلو ٹھیک ہے میں تو موڈ میں تھا اب اگر تمہیں ہی نہیں جانا ہے تو کوئی بات نہیں"۔ وہ اسے خود سے جدا کرتے ہوئے بولا اور مڑنے لگا۔
"نہیں ناا" وہ بچوں کی طرح اس کا بازو پکڑتے ہوئے منمنائی۔
"اچھا چلو۔۔ شاباش اب جاؤ جلدی سے فریش ہوکر آؤ"۔ وہ ہنستا ہوا بولا اور اس کی پیشانی چوم کر اسے خود سے جدا کیا۔ وہ اثبات میں سرہلاتی کمرے سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ چہرہ جس کے لبوں پر وجیہہ سے بات کرتے ہوئے مسکراہٹ تھی وہ اب غائب ہوگئی۔ چہرہ مرجھا گیا اور مسکراہٹ سمٹ گئی۔ دل نے پھر تکلیف کی اور ایک صدا آئی۔۔۔ بہن کے لیے کچھ بھی۔ وہ کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑا رہا وہ نہیں جانتا تھا۔ خود سے خود کا عکس دیکھتے ہوئے وہ تھکا نہیں تھا۔ ہوش تب آیا جب وجیہہ کمرے میں داخل ہوئی اور حیرانی سے اس سے پوچھنے لگی کہ وہ کیوں نہیں تیار ہوا۔ اسے یکدم ہوش آیا۔
"نہیں۔۔ وہ۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایسے ہی چلتا ہوں! آنے کے بعد تبدیل کرلوں گا کپڑے"۔ اس نے مسکرا کر اپنے موزے پھر سے چڑھائے اور جوتے پہن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ لبوں پر مسکراہٹ جیسے جان بوجھ کر چپکائی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے آپ کو دیکھا۔ آنکھوں کے گرد ہلکے حلقے نمایاں ہورہے تھے۔ کتنے دن ہوگئے تھے اور نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ صبح والی ڈریسنگ میں وہ اب تک موجود تھا۔ بلاشبہ تھکاوٹ کے باوجود وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس نے بال بنائے اور وجیہہ کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ یہ اس کے جینے کی وجہ تھی۔ وہ تھی تو یہ تھا۔ بس یہ سوچ کر وہ اپنی ہر تھکاوٹ اس کے نام کردیتا تھا۔ وہ اس کا بھائی تھا۔۔۔ وہ یہ کرسکتا تھا۔
محبت یوں ہی تھوڑی ہوتی ہے کسی شخص سے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
صبح آذان کے وقت اس کی آنکھ کھلی تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ گزرا ہوا دن یاد آیا تو سر بھاری ہوگیا۔ ارحم اسے کثرت سے یاد آیا۔ اس کے آنسو بے اختیار آنکھوں سے بہنے لگے۔ قریب آدھا گھنٹا وہ یوں ہی سر گود میں رکھے گھٹ گھٹ کر روتی رہی۔۔۔ اسے نہیں کرنی شادی! اسے قربانی کا بکرہ نہیں بننا۔۔۔ کیسے اٹھائے وہ اس ظلم کے خلاف آواز؟۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی کہ
وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ وَاِنَّهَا لَكَبِيۡرَةٌ اِلَّا عَلَى الۡخٰشِعِيۡنَۙ ۞
ترجمہ:
صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے۔
YOU ARE READING
زنجیر (مکمل)
Randomیہ کہانی ہے حویلی کے رسم و رواج کی اور ان رسموں کی زد میں آئی لڑکیوں کی۔ قید و بند کی۔ ظلم و ستم کی۔ رسم و رواج کی پابندیوں سے ہونے والے نقصانات زندگیاں برباد کرنے کا تجربہ رکھتے ہے۔ جو حق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ حق اس سے چھیننا قطعی بہادری نہی...
