"آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا کبیر صاحب"۔ طلعت نے گیلی ہوتی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔
"مجھے خوف محسوس ہورہا ہے طلعت۔۔ وہ تو ابھی اتنی بڑی بھی نہیں! ایک انجان شہر میں کیسے رہے گی۔۔۔ اور اس شخص کی فطرت کا بھی علم نہیں"۔ ان کے لہجے میں خوف واضح تھا۔
"داجی کا ایک فیصلہ میری دھی کی زندگی برباد نہ کردے کبیر"۔ انہوں نے افسوس سے بستر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
"مجھے یہ امید نہیں تھی حیدر سے"۔ کبیر صاحب نے نفی میں سرہلایا۔
"آپ تو کہہ سکتے تھے داجی سے۔۔۔"۔ انہوں نے شوہر کو دیکھا۔
"میں کیسے کہتا طلعت"۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے بےدردی سے چہرہ رگڑا۔
"ہاں! جو شخص اپنی بہن کے وقت نہ بول پایا وہ اپنی بیٹی کے وقت کیسے بول سکتا تھا"۔ لہجہ صاف طنزیہ تھا۔ کبیر نے کرب سے آنکھیں میچیں۔ دو آنسو آنکھوں سے نکلے اور گال پر بہنے لگے۔
"خدارا ایسا مت کہا کرو طلعت۔۔۔ میں اندر سے مرنے لگتا ہوں"۔ وہ ہاتھ جوڑ کر تڑپ کر بولے تھے۔
"سچ سہہ نہیں پاتے نا؟۔ آپ نے تو گزارلی زندگی اطمینان سے۔۔۔ وہ آپ کی بہن تھی کبیر۔۔۔ وہی بہن جس سے خود سے زیادہ محبت کرتے تھے نا آپ؟ جب اسے آپ کی ضرورت پڑی تو آپ داجی کے ساتھ کھڑے ہوگئے؟ اس نے اپنی زندگی اسی کمرے میں گزاردی۔۔۔ جوانی کا حسن ایسے ہی ختم ہوگیا اس کا۔۔۔ آپ نے بھی تو پسند کی شادی کی ہے کبیر۔۔ کیا آپ پسند نہیں کرتے تھے مجھے؟۔ کیا آپ کا رشتہ نہیں آیا تھا میرے لیے؟۔ اس کا بھی آسکتا تھا۔۔ بشارت حسین کا بھی آسکتا تھا اس حویلی میں اس کا ہاتھ مانگنے مگر آپ لوگوں نے ایسی نوبت ہی نہ آنے دی۔ اس کی محبت اس سے چھین لی اور وہ ناامید ہو کر گاؤں سے چلا گیا"۔ وہ کٹیلے لہجے میں بہت کچھ بول گئی تھیں۔ کبیر کا دل نے کسی نے مٹھی میں جکڑا۔
"میں تھک گیا ہوں"۔ وہ نڈھال ہوگئے۔ "داجی سے کچھ کہنا میرے بس کی بات نہیں ہے طلعت"۔
"یعنی ہماری دھی کی زندگی برباد؟"۔ انہوں بنھویں اچکا کر پوچھا۔
"دعا کرو تمہارا داماد بہت اچھی فطرت کا ہو۔ وہ اس کا بہت خیال رکھے طلعت۔ دعا کرو وہ ارحم کو بھول جائے اور اپنے شوہر کے ساتھ اچھی ازدواجی زندگی گزارے۔۔۔ بس اب ہم دعا ہی مانگ سکتے ہیں۔ وہ حویلی سے نکل جائے گی مجھے بہت خوشی ہے۔ پھر اسے ابا جان کے اصولوں پر نہیں چلنا پڑے گا"۔ وہ تھک گئے تو بستر پر لیٹ گئے۔ طلعت زمین پر کھڑی ہوگئی اور باہر جانے کے لیے چادر اور چپل پہنے لگیں۔
"آپ کو زمینوں پر نہیں جانا؟"۔ انہوں نے مڑ کر ان سے پوچھا۔
"میں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں"۔ انہوں نے کروٹ لیتے ہوئے کہا تو طلعت اثبات میں سرہلاتیں باہر نکل گئیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
"باقی شاپنگ کرنے کب جائیں گے بھائی؟"۔ وجیہہ نے کھانے کی میز پر چمک کر پوچھا۔
"تم لسٹ بنالو! کل کی چیزوں میں جو جو کمی تھی ہم وہ اگلی بار پوری کردیں گے"۔ وجدان نے وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
"آپ ابھی واپس جارہے ہیں آفس؟"۔
"ہاں صرف دوپہر کے کھانے کے لیے آیا تھا"۔ وجدان نے مسکرا کر جواب دیا اور کھانا ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
"کب آئیں گے؟"۔ وجیہہ نے اداسی سے پوچھا۔
"اب کام کا بوجھ نہیں۔۔۔ جلدی آجاؤں گا"۔ وہ مسکراتا ہوا کچن سے ہاتھ صاف کرتا اس کے بال بکھیرتا چلاگیا۔ وجیہہ نے دکھ سے اسے جاتے دیکھا۔ وہ اس گھر سے جانے سے پہلے اپنے بھائی کے ساتھ بہت سا وقت بتانا چاہتی تھی۔ گہری سانس لیتی ہوئی برتن سمیٹتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ شاہ جی سے بات کرکے اب مطمئن بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اللہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو اس کے لیے بہتر ہوگا۔
"پھپھو۔۔۔ چلیں اٹھیں آپ کے بال بناؤں۔ آپ کیا میرے بغیر بال بھی نہیں بناسکتیں۔۔ میں شادی ہو کر چلی جاؤں گی تو بھی ایسی ہی رہیں گی پیاری پھپھو۔۔۔؟ چلیں اٹھیں نا"۔ وہ انہیں نیند سے جگاتے ہوئے بولی۔۔ افشاں کسمساتے ہوئے حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
"ایسے کیا دیکھ رہی ہیں پیاری پھپھو؟ میری شادی نہیں ہوسکتی کیا۔۔ آپ کو پتا ہے داجی نے میرا رشتہ پکا کردیا"۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھیں۔
"کیا ہوا پھپھو؟ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ غلط سمجھ رہی ہیں جس سے رشتہ پکا کیا ہے وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔" وہ جس دل سے یہ بات کررہی تھی یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔ افشاں کا چہرہ فق ہوگیا۔ داجی نے ایک اور لڑکی کی زندگی برباد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
صالحہ نے نظریں چرانی چاہیں۔
"آپ کو لگ رہا ہے کہ جو حال فضیلہ باجی کا ہوا ہے وہ میرا ہوگا؟ ہے نا؟ نہیں ہر کوئی فضیلہ باجی کے شوہر جیسا نہیں ہوتا۔۔ داجی نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا اور زبردستی ایک شخص سے شادی کروادی تھی۔۔۔ مگر وہ شخص اچھا نہیں نکلا۔۔۔ مگر اس کا۔۔۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ۔۔کہ میری بھی شادی ایسے ہی کسی شخص سے ہوگی؟۔ وہ دکھنے میں بہت اچھا ہے اور یقیناً اچھا آدمی بھی ہوگا۔۔ وہ ویسے بھی مجھے پسند کرتا ہے اور بہت محبت سے لایا یے رشتہ۔۔۔" اس نے زندگی میں اتنے جھوٹ کبھی نہیں بولے تھے جتنے اب کہہ دیے تھے۔
وہ اب بھی اسے ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھیں۔
"پھپھو۔۔۔ موڈ ٹھیک کریں۔ اور ہاں! مہندی آپ لگائیں گی میری! آپ بھی کام والا سوٹ پہنیں گی۔ میرے لیے وہ دن اسپیشل بنانے میں میری مدد کریں گی نا؟"۔ اس نے محبت سے انہیں دیکھا تو وہ تیزی سے سرہلانے لگیں۔
"پھر ٹھیک ہے۔۔ اس ہفتے کو شادی یے میری تو آپ میرے لیے اچھے اچھے کہڑے پہنیں گی جب تک میری شادی نہیں ہوجاتی میں آپ کو تیار رہتے دیکھوں۔ کیونکہ شادی کے بعد میں شہر چلی جاؤں گی اور پھر جب بھی میں آپ کو سوچوں گی تو مجھے مسکرانے والی افشاں پھوپھو ملیں گی"۔ اس نے مسکراتے ہوئے ان کا پیلا سوٹ نکالا جو کہ کتنے سال پرانا تھا۔
"شاہ جی نے پرہیزی کھانا بنادیا ہے۔ وہ ایک بہت اچھے باورچی ہیں"۔ وہ اب موضوع بدل کر شاہ جی کا ماضوع لے آئی۔ وہ شاجی کا موضوع جان بوجھ کر نکالنا چاہتی تھی۔ تھوڑا تھوڑا کرکے داستان دل تک پہنچانا چاہتی تھی۔
"آپ کو پتا ہے انہوں نے کبھی شادی ہی نہیں کی"۔ وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی کپڑوں کو ہینگر سے نکال رہی تھی۔۔ "آج صبح جب میں باغ میں بیٹھی تھی تو وہ مجھے اپنی کہانی سنانے لگے۔ ان کی زندگی میں ایک لڑکی تھی جو کہ بہت خوبصورت تھی بلکل آپ کی طرح۔۔۔" اس نے یہ کہتے ہوئے سنگھار میز کے آئینے میں دیکھا تاکہ اس میں آنے والا افشاں کا عکس دیکھ سکے۔ افشاں جو بالوں میں جوڑا باندھ رہی تھی، اس کا ہاتھ لمحہ بھر کو بال گھماتے ہوئے رکا۔
"وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اس کے عشق میں اب تک اس قدر مبتلا ہیں کہ آج تک شادی نہیں کر پائے۔۔۔"۔
"وہ لڑکی ایک حویلی میں رہتی تھی اور۔۔۔۔" اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑنی چاہی جس پر افشاں نے مڑ کر اسے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو "اور"؟۔
"پھر اس لڑکی کی شادی ہوگئی! مگر وہ ابھی بھی اسی سے عشق کرتے ہیں"۔ اس نے آخر میں کہانی تبدیل کردی مگر وہ اتنا جان گئی تھی کہ وہ بشارت حسین کا پتہ پھینک چکی ہے۔
افشاں مطمئن ہوگئی اور بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔
"یہ جوڑا میں جلدی سے استری کرکے لارہی ہوں پھپھو"۔ اس نے مسکرا کر بتایا اور باہر نکل آئی۔
وہ نگاہیں موڑ کر اس کی پشت تکتی رہ گئیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ شاہ جی اور ان کی داستان ملتی جلتی یے۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ ٹھیک نہیں تھی۔ اس کا دل ہول اٹھا رہا تھا اور اسے اپنی دنیا اجڑتی محسوس ہورہی تھی۔
"آپ اداس ہیں؟"۔ مردانہ آواز پر وہ جھٹکے سے مڑی تھی۔ وہ اسے یک ٹک تک رہا تھا اور اب وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی۔
"نہیں تو"۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
"رشتوں کا غم منا رہی ہیں اور رشتہ بھی وہ جو ابھی قائم بھی نہیں ہوا تھا"۔
"خدارا شاہ زل صاحب۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑدیں۔ میں کچھ دیر تنہا رہنا چاہتی ہوں"۔ ثریا تڑپ کر بولی۔
"جارہا ہوں میں مگر یہ یاد رکھیے گا کہ وہ شخص کبھی آپ کا نہیں تھا جس نے کبھی آپ کو خود کے لیے پکارا نہ ہو، جس نے ہمیشہ آپ کو دیکھ کر اپنا رستہ بدل لیا ہو"۔ وہ لال ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہوا مڑ گیا۔ ثریا کو لگا اس کے اندر کچھ ٹوٹا ہے۔ ہاں وہ اس کا دل تھا جو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
اتوار کا دن بھی یوں ہی گزر گیا۔ جیسے جیسے وقت گزررہا تھا صالحہ کے دل میں وحشتیں بڑھتی چلی جارہی تھیں۔
"آج ہم شہر سے اس کا عروسی جوڑا بھی لے آئیں گے"۔
YOU ARE READING
زنجیر (مکمل)
Randomیہ کہانی ہے حویلی کے رسم و رواج کی اور ان رسموں کی زد میں آئی لڑکیوں کی۔ قید و بند کی۔ ظلم و ستم کی۔ رسم و رواج کی پابندیوں سے ہونے والے نقصانات زندگیاں برباد کرنے کا تجربہ رکھتے ہے۔ جو حق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ حق اس سے چھیننا قطعی بہادری نہی...
