اس نے گاڑی اسکول کے گیٹ پر روکی اور ہارن بجایا۔ چوکیدار نے اسے دیکھ کر پوچھا تو اس نے "مس صالحہ کو بجھوادیں"۔ کہہ کر اسے بلانے کا کہا اور خود گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں صالحہ کسی استانی کے ساتھ باہر آئی۔ اس نے دوسری لڑکی کو خدا حافظ کہا اور مسکراتی وجدان کی طرف بڑھی۔
"اسلام علیکم"۔ اس نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔
"وعلیکم سلام۔ کیسا گزرا دن؟"۔
"بہت اچھا۔ پتا ہے سب مجھے مس صالحہ کہہ رہے تھے حتی کہ دوسری ٹیچرز بھی"۔ وہ اتنی خوش تھی کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کررہی تھی۔
"ظاہر ہے اب آپ ٹیچر ہیں"۔ وجدان ہنس دیا۔
"ہاں"۔ وہ اس کی بات کو محسوس کرکے دل سے مسکرائی۔ اچانک موبائل پر بپ ہوئی تو اس نے اپنا فون چیک کیا۔
"ابھی گھر جانا ہے یا پھر یونیورسٹی؟"۔ وجدان نے اسے موبائل میں غرق دیکھا تو خود کو پوچھنے سے روک نہ پایا۔
"یونیورسٹی جانا ہوگا۔۔ کلاس شروع ہونے والی ہے میسج آیا کلاس کے گروپ میں"۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کا جواب دیا۔
"اور پھر دوپہر کا کھانا رہ جائے گا آپ کا؟"۔ اس نے بنھویں اٹھا کر پوچھا۔ صالحہ کی پل بھر میں رونے والی حالت ہوئی۔
"میں دوپہر کا کھانا بنا کر آنا بھول گئی۔۔۔ مجھے لگا تھا آج کلاس نہیں ہوگی مگر گروپ پر گیارہ بجے کا مسیج آیا ہوا ہے جو کہ میں نے اب دیکھا"۔ وہ روہانسی ہوئی۔ وہ اپنے بستے میں یونیورسٹی کی کتابیں ساتھ رکھتی تھی۔
"کوئی بات نہیں! میں آپ کو راستے میں سے کچھ دلادیتا ہوں۔۔۔"۔ اس نے گاڑی کی رفتار تھوڑی آہستہ کی۔
"مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ میں آپ کی بات کررہی ہوں۔ آپ کیا کھائیں گے دوپہر میں"۔ وہ پریشان نظروں سے اپنی انگلیوں کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ وجدان نے گردن پھیر کر اسے دیکھا جو اس کے لیے پریشان ہورہی تھی۔
"آپ پریشان ہورہی ہیں؟"۔ اس کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیلی۔ صالحہ نے نگاہیں اٹھائیں اور اسے دیکھ کر پھر جھکالیں۔
"آپ کو بھوک لگی ہوگی"۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ مسکرایا ہو۔
"خیر تو بھوک تو لگی ہے لیکن میں گھر جاکر سینڈوچ کھالوں گا۔ ابھی آپ کی کلاس شروع ہونے والی ہے"۔ اس نے بیک مرر دیکھتے ہوئے گاڑی سیدھے راستے موڑی۔ صالحہ خاموش ہوگئی۔ اس نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور باہر کے منظر سے لطف اندوز ہونے لگی۔
وجدان نے گاڑی یونیورسٹی کے آگے روکی۔
"آپ کی کلاس کب آف ہوگی؟"۔ وہ اپنا ہرا گاؤن اتاررہی تھی کہ وجدان نے اس سے پوچھا۔
"پانچ بجے تک"۔ اس نے گاؤن تہہ کیا اور بیگ میں رکھنے لگی۔ وہ بستہ پہلے ہی کتابوں اور فائلوں سے بھرا ہوا تھا۔ وجدان نے ہرے گاؤن پر ہاتھ جمایا اور اسے اٹھا کر پیچھے والی سیٹ پر رکھ دیا۔
"مس صالحہ آپ کا بستہ ہرا گاؤن برداشت نہیں کرسکتا اس لیے اسے یہیں رہنے دیں"۔ شریر انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر صالحہ نے سوچا تھا کہ وہ اسے یہ موقع نہیں دے گی۔ چہرے ہر ہلکا تبسم پھیلا۔
"آپ کی بس کب تک آئے گی؟"۔ وجدان نے وقت دیکھا۔
"وہ پانچ بجے تک آجائے گی۔۔۔"
"مجھ سے رابطے میں رہیے گا۔ موبائل آن رکھیے گا اور ضرورت پڑنے ہر بلا جھجک کال کرے گا۔ بس نہ آئے تو پریشان مت ہوئے گا بلکہ مجھے اطلاع دے گا اور بس آجائے تو میسج کرکے ضرور آگاہ کریے گا"۔ وہ اسے تاکید کررہا تھا اور وہ چوں کی طرح اس کی باتیں نگاہیں نیچے کیے سن رہی تھی۔
"جی ضرور"۔ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
"میں تقریباً چھ بجے تک آفس سے گھر کے لیے نکل جاؤں گا"۔ وجدان نے جیب سے چابی نکالی اور اس کی جانب بڑھائی۔ یہ چابی اس نے کچھ دن پہلے ہی صالحہ کے لیے بنوائی تھی۔ "گھر میں داخل ہوجائیں تو بھی میسج کرکے اطلاع دیجیے گا۔ دروازہ اچھے طریقے سے لاک رکھے گا"۔ وہ اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا اور وہ بار بار ہاں میں سرہلارہی تھی۔
"جاؤں میں؟"۔ اسے خاموش ہوتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔ وجدان نے اس کے معصوم چہرے کو ایک نظر دیکھا اور اثبات میں سرہلادیا۔ وہ گاڑی سے اتر کر چادر لیپیٹتی اور بیگ تھامتی اندر چلی گئی۔ وہ جب تک اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوئی وہ اسے دیکھتا رہا۔ جب محسوس ہوا کہ وہ جا چکی ہے تو اس نے گاڑی میں چابی گھمائی۔ اب اسے گاڑی گھر کی جانب موڑنی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ گھر پہنچ کر فریج کنگھالنے لگا مگر اسے بریڈ نہ ملی۔ بھوک کی شدت سے اب پیٹ آوازیں دے رہا تھا۔ صبح چھ بجے کا کیا ناشتہ صبح ہی ہضم ہوگیا تھا۔ کباب تلتے ہوئے تیل کے ہلکے ہلکے چھینٹے اچھل کر اسے تڑپانے کا کام کررہے تھے۔ اس نے ہاٹ پاٹ کنگھالا تو وہ خالی تھا۔ اب وہ کوئی ایسی چیز تلاش کررہا تھا جس کے ساتھ کباب کو کھاسکے۔ اسے جلد سے جلد آفس پہنچنا تھا۔ تمام کوششیں بیکار گئیں تو وہ دو سِکے ہوئے کباب جو فریج میں رکھے تھے اور اب فرائینگ پین میں قریب جلنے والے تھے انہیں نکال کر اخبار میں لپیٹتا گھر لاک کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور سڑک پر لے آیا۔ اب وہ ساتھ ساتھ برابر والی سیٹ پر رکھے کباب بھی وقفے وقفے سے کھا رہا تھا۔ بھوک ناقابلِ برداشت ہورہی تھی ورنہ وہ آفس پہنچ کر ہی پیٹ بھرتا۔ وہ کباب بھی بقول اس کے خیال کے بہت جلدی ختم ہوگئے تھے۔ بھوک اب بھی بےحد لگی تھی مگر اب رات کا انتظار کرنا تھا۔ خالی اخبار فولڈ کرتا وہ آفس کے سامنے گاڑی روک کر اترا۔ بڑھ کر گارڈ کو چابی دی تاکہ وہ گاڑی پارک کرسکے اور عمارت میں داخل ہوگیا۔ اب وہ آفس میں ہی کچھ منگوا کر کھانے والا تھا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
"تم کہاں جاریے ہو؟"۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی اور اب حیدر کو تیار ہوتا دیکھ رہی تھی۔
"زمینوں پر"۔ اس نے کالا واسٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
"اور کب لوٹو گے؟"۔ اس کے قریب آکر اس کے کندھے کو نرمی سے جھاڑتے ہوئے پوچھنے لگی۔ حیدر نے اس کی طرف رخ موڑا۔
"تم جب کہو گی"۔ ہاتھوں کی انگلیوں سے جیا کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتا ہوا وہ مسکرا کر بولا۔
وجیہہ کے چہرے پر تبسم پھیلا۔
"شام سے پہلے پہلے"۔ وہ جھٹ سے بولی۔
حیدر نے ٹہھر کر اسے دیکھا۔
"میرا وعدہ رہا"۔ کہتا ساتھ اس کے گال چھوتا سنگھار میز سے اپنا موبائل اٹھانے بڑھا۔
"ہم شہر کب جائیں گے؟"۔ وجیہہ کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ شہر جانے کا کتنی شدت سے انتظار کررہی ہے۔ اس کے سوال پر وہ خود کو رک کر آئینے میں دیکھنے لگا۔
"اسی ہفتے جائیں گے تم پریشان مت ہو"۔ اسی شہر میں کسی اپنے کا چہرہ یاد آیا تو دل بوجھل ہوگیا۔
"میں شرمندہ ہوں حیدر۔۔۔ میں نے اپنے بھائی کا استعمال کیا تھا"۔ وہ دکھ سے ٹوٹ کر بولی۔ حیدر کا چہرہ اس کی جانب اٹھا۔
"اور میں نے اپنی پوری بہن قربان کردی"۔ اس نے گہری سانس لی۔ "مگر وہ خوش ہے اس سے بڑی اور کیا بات ہوگی۔۔ مجھے اور کیا چاہیے محض ایک معافی کے۔۔۔ وہ میری ہے بہن ہے جیا۔ جن لڑکیوں کے اپنے بھائی ہوتے ہیں وہ لڑکیاں مشکل وقت اور پریشانی میں اپنے بھائیوں کو پکارتی ہیں۔۔۔ مگر وہ تو مجھ سے خفا ہے۔ میں اس کی یہ ناراضگی بہت جلد مٹا دوں گا"۔ وہ پھیکا سا مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا۔ وجیہہ نے اپنی گیلی آنکھیں رگڑیں اور چہرے پر پانی مارنے واش روم کی سمت بڑھ گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
بال اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں گھڑی اور کندھوں پر خاکی شال تھی۔ ہلکی ہلکی داڑھی جو اسے پروقار بناتی تھی، چہرے پر سج رہی تھی۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسے پندرہ منٹ میں حویلی کی زمینوں کے لیے نکلنا ہے۔ وہ باغ سے ہوتا ہوا حویلی کے دروازے تک جانے لگا کہ باغ کے جھولے پر بیٹھی گم سم سی رفاہ کو دیکھ کر رک گیا۔ اس کی نگاہیں گھانس کو تک رہی تھیں اور ذہن الجھا ہوا تھا۔ جھولا آہستہ آہستہ آگے پیچھے ہورہا تھا۔ کچھ دیر وہ یوں ہی اس کی حالت پر غور کرنے لگا۔ وہ اتنی سن ہوئی بیٹھی تھی کہ اس کی موجودگی سے لاعلم تھی۔ وہ خود کو اس کی جانب بڑھنے پر روک نہ پایا۔
"کیا ہوا رفاہ؟"۔ اس نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اونچا کیا۔ اس کی یوں اچانک آمد کو دیکھ کر وہ یکدم پیچھے ہوئی۔ رفاہ کے یوں پیچھے ہٹ کر خوف سے دیکھنے پر شرجیل اسے دیکھتا رہ گیا۔ اب اسے کوارٹر سے اپنے کمرے میں شفٹ کرنا کافی حد تک ضروری ہوگیا تھا۔
"ایسے کیوں بیٹھی ہو تم؟"۔ وہ اس کے برابر میں آبیٹھا۔
"نن۔نہیں تو۔۔۔بس یونہی"۔ وہ نگاہیں اب بھی گھانس پر ٹکی تھیں۔
"وجہ بتاؤ رفاہ شرجیل؟"۔ چادر کے اندر سے نکلتی اس کی زلفوں کو دیکھ کر لہجہ نرم کرکے پوچھ رہا تھا۔
"بابا کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔ مگر ملنے کا دل نہیں ان سے". وہ آبدیدہ ہوگئی تو کہتے کہتے رک گئی۔ شرجیل نے گردن پھیر کر اسے بہت غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں جس سے محسوس ہوتا تھا کہ یہ پہلے بھی روتی رہی ہے۔ اس کا دل کسی نے اپنی مٹھی میں جکڑا اور وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اسے کھڑا کرنے لگا۔ رفاہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی۔ شرجیل اس بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہ اسے باقی مردوں کے ساتھ زمینوں کے لیے نکلنا ہے، اس کا ہاتھ پکڑتا حویلی کے دروازے تک آگیا۔ باغ میں داخل ہوتا حیدر شرجیل کو رفاہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے گاڑی میں بٹھاتا دیکھ سکتا تھا۔
"آپ کہاں لے کر جارہے ہیں"۔ وہ خوف سے سفید ہورہی تھی۔ اس کے سفید چہرے کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکا۔ تو کیا وہ اس پر اب بھی اعتبار کرنے سے ڈرتی تھی۔
"شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ کہیں ایسی جگہ نہیں لے کر جاؤں گا جہاں تم غیر محفوظ ہو"۔ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔ چوکیدار نے دروازہ کھولا اور وہ گاڑی نکالتا زن سے بھگا گیا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ کلاس لے کر باہر ہی نکلی تھی کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"اسلام علیکم رابعہ"۔ اس نے خوش دلی سے سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ جب سے یونیورسٹی کی شروعات ہوئی تھی اس کی رابعہ سے سرسری ملاقات ہوتی تھی۔ وہ اس کے ڈپارٹمنٹ میں اس کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔
"وعلیکم سلام کہاں جارہی ہو؟"۔ رابعہ نے اس کے ہاتھ میں فائلز دیکھیں۔
"جی بس میں ذرا جلدی میں ہوں۔ بس آگئی ہے میری اور اگر وہ میرے بغیر چلی گئی تو میں وقت پر گھر نہیں جاپاؤں گی"۔ وہ دور کھڑی بس کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی۔
"او اچھا چلو تم جلدی سے چلے جاؤ پھر۔۔۔ تم سے کل ملاقات ہوتی ہے"۔ اس کی بات پر صالحہ نے اثبات میں سرہلایا اور بس میں بیٹھنے کے لیے بس کی جانب بڑھنے لگی۔ پانچ بج کر دس منٹ ہوچکے تھے۔ وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ اس سے اب چلا نہیں جارہا تھا۔ پانچ منٹ بعد ڈرائیور نے بس آگے بڑھائی تو اس کی جان میں جان آئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
"کہاں لے کر جارہے ہیں؟"۔ رفاہ نے لب کاٹتے ہوئے پوچھا۔ شرجیل کو محسوس ہوا وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔
"کیا تم مجھ سے اجنبیت محسوس کررہی ہو؟ یا میری موجودگی تمہیں غیر محفوظ سی لگ رہی ہے؟"۔ گاڑی کی رفتار زیادہ تیز نہیں تھی۔ رفاہ نے نظریں موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ محسوس کرسکتا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے۔
"ایسی بات نہیں ہے مگر۔۔۔"۔ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑدی۔ شرجیل کے دل میں ہول اٹھا۔
"مگر کیا رفاہ؟ باتیں ادھوری مت چھوڑا کرو"۔ اپنے برابر میں بیٹھی اس چھوٹی سی لڑکی کو وہ گاڑی چلاتے ہوئے بمشکل دیکھ پایا تھا۔
"مگر داجی کو پتا چلا تو۔۔۔۔"۔ اب کی بار شرجیل نے اس کی بات کاٹی۔
"میں "تمہارا" لگتا ہوں یا داجی؟"۔ وہ برہم ہوا تو وہ لب کاٹنے لگی۔
"مگر پوچھ تو سکتی ہوں نا کہ کہاں لے کر جارہے ہیں؟"۔ کچھ دیر کے وقفے سے اس نے پھر پوچھا۔
"میں جہاں لے کر آنا چاہتا تھا تمہیں وہاں لے کر آگیا ہوں"۔ اس نے گاڑی گاؤں کے ایک بڑے گھر کے سامنے روکی۔ رفاہ نے ناسمجھی میں کھڑکی سے باہر جھانکا تو ٹھٹھک گئی۔ دل کی دھڑکنیں بےربط چلنے لگیں۔ اس نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا۔ آنکھیں حیرت اور بےیقینی سے پھٹنے کو تھیں۔ شرجیل ماتھے پر بل ڈالے اس کے تاثرات کا اندازہ کرنے لگا۔ پل بھر میں رفاہ کی رنگت پیلی ہوئی تھی۔ وہ اس س اسب کی توقع کم از کم شرجیل سے نہیں کرسکتی تھی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
"حیدر؟ شرجیل کہاں ہے؟"۔ داجی اپنا کرتا جھاڑ کر کھڑے ہوئے تھے۔
"ش۔شرجیل"۔ حیدر ہچکچایا۔ اب وہ انہیں کیا بتائے وہ اپنے بیوی کے ساتھ کہیں باہر گیا ہے۔
"ایسے ہکلا کیوں رہے ہو؟ ہمیں زمینوں کے لیے نکلنا یے حیدر! شرجیل کہاں ہے بتاؤ"۔ وہ برہم ہوئے۔
"وہ باہر گیا ہوا ہے داجی رفاہ۔۔۔۔۔" وہ کہتے کہتے زبان دانتوں میں دبا گیا۔ داجی کی بنھویں ماتھے پر چڑھیں۔
"رفاہ کے ساتھ"۔ وہ یکدم چیخے۔ حیدر کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
"نہیں داجی۔ رفاہ تو اپنے کوارٹر میں ہے۔ بس وہ یونہی میری زبان پھسل گئی"۔ وہ بات چھپاتا ہوا دل ہی دل میں شرجیل کو کوسنے لگا۔
"اچھا؟۔ تو جاؤ! رفاہ کو بلا کر لاؤ فوراً"۔ وہ سرد لہجے میں بولے تھے اور اس حکم پر حیدر کی گویا جان نکل گئی تھی۔
"جج۔جی داجی ابھی بلا کر لایا"۔ وہ الٹے قدموں واپس آیا اور باغ میں آکر سکھ کا سانس لینے لگا۔ اب صرف ایک ہی راستہ تھا۔ اس نے شرجیل کو کال ملائی۔
"ہیلو ہاں؟؟"۔ اس نے کال اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔
"جلدی گھر پہنچو! داجی کو خبر ہوگئی ہے کہ تم رفاہ کو لے کر گئے ہوئے ہو"۔ حیدر پھولی سانسوں سے باغ میں ٹہلتے ساتھ بولا۔
"داجی کو کیسے علم ہوا؟"۔ دوسری طرف وہ زیادہ حیران نہیں ہوا تھا۔
"میری ہی زبان پھسل گئی"۔ وہ بالوں کو اپنی مٹھی میں کرتا ہوا بولا۔
"اچھا ہوا۔۔۔ میں بھی کوئی ایسا موقع پیدا کرنا چاہتا تھا"۔ وہ بلا کا مطمئن معلوم ہوتا تھا۔
"غضب ہوجائے گا شرجیل! گھر پہنچو جلدی!"۔ حیدر کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا تھا۔
"اصل غضب تو میرے آنے پر شروع ہوگا"۔ شرجیل دوسری جانب ہنسا تھا۔ "فوراً نہیں آرہا میں! اپنا کام کرکے آؤں گا۔ ایسا کرو جب تک تم داجی کا پارا چڑھاؤ۔۔۔"۔ ایک شاطر مسکراہٹ سے سامنے دیکھتا ہوا وہ اسے تاکید کررہا تھا۔
"تو پاگل ہوگیا ہے کیا؟"۔ حیدر چیخ اٹھا۔
"یہی سمجھ لو!"۔ اس نے برابر بیٹھی رفاہ پر نگاہ ڈالی جو اب بھی پیلی ہوئی رنگت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ "کال رکھ رہا ہوں کیونکہ ابھی اپنے۔۔۔ سسرال آیا ہوں"۔ اس نے نگاہ اس بڑی عمارت پر دوڑائی جس کے باہر بنی کیاری کے اوپر ایک بلب جلا ہوا تھا۔ "اور ہاں! حویلی کے ملازم شاہ جی کو کہہ دو کہ تیاری پکڑ لیں اور ہوسکے تو پھولوں کا انتظام کرلیں!"۔ وہ معنی خیز لہجے بولا۔ حیدر یہ باتیں سمجھنے سے قاصر تھا۔
"پھول؟ اور شاہ جی کیوں؟"۔ وہ الجھا۔
"شاہ جی کیوں؟ اس کا جواب جاننے کے لیے میرے آنے کا انتظار کرو۔۔۔ پھول یا تو شادی کے لیے اور اگر بات نہ مانی گئی تو کسی نہ کسی کی قبر پر تو چڑھیں گے۔۔۔"۔ وہ استہزایہ ہنسا اور کال رکھ دی۔
"آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں شرجیل؟"۔ وہ اب تک یوں ہی ساکت بیٹھی تھی۔ شرجیل نے گردن پھیر کر اسے دیکھا تو تکتا رہ گیا۔
"میرے ساتھ چلو"۔ لمحے گزرنے لگے تو وہ چونک کر بولا اور گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکل گیا۔ آج تو لگتا تھا حویلی میں قیامت آنے والی یے۔
۔۔۔★★۔۔۔
YOU ARE READING
زنجیر (مکمل)
Randomیہ کہانی ہے حویلی کے رسم و رواج کی اور ان رسموں کی زد میں آئی لڑکیوں کی۔ قید و بند کی۔ ظلم و ستم کی۔ رسم و رواج کی پابندیوں سے ہونے والے نقصانات زندگیاں برباد کرنے کا تجربہ رکھتے ہے۔ جو حق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ حق اس سے چھیننا قطعی بہادری نہی...
