Episode 10 part 1

286 25 2
                                        

آ دیکھ آکر مجھے یہ کمال نہیں ہے

ٹوٹ گیا ہے دل مکمل پر

 ایک دراڑ بھی نہیں ہے

میری ہنستی ہوئی جو دنیا تھی

اب اس کا نام و نشان بھی نہیں ہے

وہ لڑکی جو چاند سی تھی تیرے لئے

 اب اسی کا پرسان حال ہی نہیں ہے

تھک گئی ہوں لڑ لڑ کر بازی زندگی کی

پر اب کوئی راہ فرار بھی نہیں ہے

میری ہمت کو داد دے کہ اب مجھے

خوف قضا بھی نہیں ہے

کبھی میرے دل میں بستا تھا آکر

اب دیکھ آکر مجھے تیرا خیال بھی نہیں ہے

تو جو نہ ملا ہو جاؤنگی ریزہ ریزہ

تو نہیں ہے زندگی میں کب سے

اور اس پہ کوئی ملال بھی نہیں ہے

ڈرائیور نے گاڑی اس محل نما گھر کے سامنے روکی۔باہر نکل کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا۔وہ باہر نکلی ایک بازو پر کالا کوٹ اور دوسرے پہ بیگ لٹکائے وہ مرے مرے قدموں سے گھر کے اندر چلی گئی۔۔۔۔

دروازے پر ناک کی آواز سن کے وہ جو واشروم سے نکل رہی تھی چونکی۔۔۔۔۔

"ماما جانی آجائیں ناک کیوں کر رہی ہیں" نرمل نے تولیے سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔ پھر دروازہ کھلا اور

"آئمہ تم اس وقت" نرمل نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔جس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ روتی رہی ہے۔اور پھر اس کی نگاہ بےساختہ سامنے لگے وال کلاک پر گئی جو رات کے 12 بجا رہی تھی بھلا اس وقت آئمہ آئے اور وہ بھی بتائے بغیر ضرور کوئی بات ہوگی۔۔۔۔

"میں آج رات یہی رہونگی تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں" آواز رندھی ہوئی تھی وہ دبے قدموں سے چل کر بستر تک آئی۔۔بیگ رکھ کر وہ دونوں سامنے کاؤچ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔

"بتایا تو ہوتا ایسے اچانک میں تمہارے لئے چائے بنوادیتی"۔۔۔۔نرمل کو کسی انہونی کا اندیشہ تھا۔۔۔۔

"یار بس ماما کو بتا کہ آگئی سر میں بہت درد ہو رہا تھا سوچا صبح تمہارے ساتھ ہی آفس بھی چلی جاؤنگی اس لئے سامان بھی لے آئی ہوں۔۔فکر نہ کرو زیادہ مسلہ نہیں ہے بس عالیان۔۔۔" اور یہاں اس کے آخری لفظ پر آ کر وہ جو خود کو تسلیاں دے رہی تھی اس کے چہرے کے تاثر بگڑے۔۔۔۔۔

"ک۔۔ک۔۔کیا ہوا سب ٹھیک  ہے نا آئمہ۔۔۔"

"ہاں سب ٹھیک ہیں"۔۔۔۔کہتے ہوئے آئمہ استہزائیہ ہنسی۔۔۔۔

"بقول عالیان کے وہ مجھے پسند کرتا ہے پر اس کے ماں باپ نہیں مان رہے وہ اس کی شادی زبردستی اس کی پھوپھی زاد سے کرنا ہیں اور عالیان ان کی بات نہیں ٹال سکتا تو۔۔۔۔۔" اور اس کی آنکھیں برسات برسنے کو تیار تھی وہ ضبط کرنے کی بار بار کوشش کر رہی تھی۔مگر نرمل کے سامنے ہمیشہ کی طرح ناکام رہی۔۔۔۔۔۔بہت بہت وعدے کئے تھے اس نے نرمل آخر میرا کیا قصور تھا۔۔۔۔"اب وہ آواز کے ساتھ رو رہی تھی۔نرمل نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا پھر اس کے بال سہلانے لگی۔

میرا مرض مستمر Donde viven las historias. Descúbrelo ahora