رشتوں سے بندھی ڈور
از قلم اریج چودھری
قسط نمبر 8
_________________
اسّلام و علیکم........ کیسی ہو تم.......یشفع اور بریرہ نے آ تے ساتھ سلام کیا اور ایمان کی خریت پوچھی.....
وعلیکم سلام..... میں ٹھیک ہوں تم دونو ں کیسی ہو......
اچھا یہ امل کہا ہے آی ہے یا نہی..... بریرہ نے امل کو نا پا کر اس کی غیر مجودگی کی وجہ معلوم کی...
آئی ہے یار.....لیکن پتہ نہی کہا غائب ہو گئی ہے..... ایمان نے بتایا........
یہیں کہیں ہو گی..... بریرہ نے او سے پریشان دیکھتے ہوۓ حوصلہ دیا....
یشفع نے امل کو کال کی اور پوچھا کہا ہو......
یار میں آ رہی ہوں.....تم لوگ آ گئی...... امل نے پوچھا......
ہاں جی آ گئی.......اور تم بھی جلدی آو یشفع نے بھی تھوڑا موڈی جواب دیا.....اور امل کو جلدی آنے کا بولا..... اور ساتھ ہی کال اینڈ کر دی....
.
آ رہی ہے...... یشفع نے بریرہ اور ایمان کو بتایا........
ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کے امل بھاگتی هوئ آی.......
کیا ہوا ہے تمہے..... بریرہ نے پوچھا.....
کچھ بھی نہی..... امل گہرے گہرے..... سانس لے کر خود کو سمبھال چکی تھی.......
یہ تمہے سانس کیوں چڑھی هوئ ہے.... ایمان نے پوچھا.....
بھاگ کے آی ہوں نا اس وجہ سے سانس چڑھ گئی..... امل نے اپنی پوزیشن کلیر کی....
اچھا چلو کلاس میں چلتے ہیں....... بریرہ نے کہا.....
یشفع اس سار ے ٹائم خاموش رہی اور امل کو غور سے دیکھ رہی تھی ......
چلو اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو...... امل نے یشفع کو دیکھتے ہوۓ کہا.......
کلاس میں داخل ہوتے پروفیسر آ گئے....... تو سب نے اپنی نوٹس بک نکالی اور لیکچر نوٹ کرنے لگے.....
لیکن ہماری یشفع اور امل دونو ں بیٹھی لکھ کر باتیں کر رہی تھی.....
کہاں گئی تھی اکیلی اکیلی...... اب بتاؤ کیا کرنے گئی تھی........ یشفع نے امل سے پوچھا...
یار اس دن علینا نے تنگ کیا تھا اس کا جواب دینے گئی تھی....... امل نے بتایا....
کیاااا....... تم اس علینا کے پاس گئی تھی وجہ...... تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا.......یشفع نے حیرانی سے کہا.......
ہاں..... گئی تھی اس نے کیوں ایمان کو ایسا بولا تھا........ آئ بڑی.... ہںنہ.......امل نے جھنجھلا کر کہا.......
امل چھوڑو یار جو جیسا بولتا ہے بولنے دو..... یشفع نے امل کو سمجھا یا......
(چند دن پہلے علینا نے ایمان کو پوانٹ اوٹ کیا تھا کہ چپ رہتی ہے........ اس دن تو سب چپ کر گئے..... لیکن آج ہماری امل پونچ گئی جھانسی کی رانی بن کر..... )
اچھا یار چھوڑو لیکچر پر توجہ دو..... امل نے کہا....
ہاں جیسے تمہے بڑی سمجھ آ رہی ہے..... بول تو ایسے رہی ہو لیکچر پر توجہ دو....... یشفع نے منہ بنا کر کہا......
YOU ARE READING
رشتوں سے بندھی ڈور
Fantasiیہ کہانی ہے دوستی کی، پیار کی، احساس کی، دل سیے جڑے رشتوں کی، کھٹی میٹھی باتوں کی، مستی کی، اظہار کی، جوانی کے جذبوں کی، کچھ کر دکھانے کی، اپنی کر دکھانے کی، حوصلوں کی ساتھ نبھانے کی ، یہ کہانی ہے دوستی نبھانے کی.
