Part 2
"شہیر تم تیار ہو؟ کل ہمیں جانا ہے اپنے بابا۔ میرا مطلب اس انسان سے ملنے۔"
ٹائیگر نے شہیر سے کہا۔ اس وقت وہ دونوں وئیر ہاؤس میں بیٹھے تھے۔
"میں تو ہمیشہ سے تیار تھا۔ ایک بات کہوں مجطبی؟"
شہیر نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
"پوچھو۔"
ٹائیگر اب مکمل اس کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھا تھا۔ مجطبی صرف شہیر اسے تب ہی کہتا تھا جب کوئی ضروری بات ہو۔ اور ٹائیگر بھی بس شہیر کو ہی اس کے نام سے بلانے کی اجازت دیتا تھا۔
"آپ مت چلیں میرے ساتھ۔ میں نہیں چاہتا آپ کو کوئی نقصان پہنچے۔ فاری بڑی مشکلوں سے زندگی کی طرف لوٹی ہے آپ کو اللہ نہ کرے کچھ ہوا تو وہ سہہ نہیں پائے گی۔"
شہیر کہتے ساتھ اس کے چہرے کے تعاثرات بھی جانچ رہا تھا۔ ٹائیگر کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔
"ایسا نہیں ہوسکتا میں تمہیں اکیلا نہیں بھیج سکتا۔ ویسے بھی وہ بیمار پڑا ہے ہم سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔"
ٹائیگر نے پیچھے کی طرف ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ اداس ہوگیا تھا۔
"میں اکیلا نہیں ہوں۔ ارمان ہے میرے ساتھ اور فصیح اور جہانزیب بھی تو ہیں۔ وہ بیمار ہے لیکن اس کے آدمی تو نہیں نہ۔"
شہیر نے ایک اور کوشش کی۔
"بلکل بھی نہیں شہیر۔ تمہارے ساتھ وہ سب نہیں جائیں گے بس تم اور میں جائیں گے وہاں۔ اس لئیے تمہیں اکیلے نہیں جانے دوں گا۔ اماں سے کیا وعدہ یاد ہے مجھے تمہاری حفاظت کروں گا ہر حال میں۔ اب اس بات کو ختم کردو یہیں۔"
ٹائیگر نے حتمی انداز میں کہا تو شہیر چپ ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کچھ بھی ہو وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
"گھر آکر چھوٹی سے مل جانا۔ آپی بھی یاد کرتی ہیں تمہیں۔ میں ذرا کام سے باہر جارہا ڈنر ساتھ میں گھر پہ کریں گے۔"
ٹائیگر نے اٹھتے ہوئے کہا تو شہیر نے اثبات میں سر ہلایا۔
**************************
"تو تم نے اپنے بھائی کو بتا دیا سب؟"
ٹائیگر کی آواز پہ نمل چونکی۔ نمل اپنے کمرے میں کم ہی ہوتی تھی وجہ ٹائیگر ہی تھا۔ لیکن آج وہ کتنے دنوں بعد یہاں آئی تھی اور اس کا ڈر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ آج اسے خان منزل سے آئے ہوئے ہفتہ ہونے کو آیا تھا۔ ٹائیگر دھیرے دھیرے اس کے قریب آرہا تھا۔ اس کا ایک ایک قدم نمل کو ڈرا رہا تھا وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ نظریں یک ٹک اس پہ جمی تھی جو اس وقت ڈارک بلو کلر کی سوٹ میں بڑھی ہوئی شیو لال انگارہ آنکھیں اس کے بے خوابی کا ثبوت تھی۔ ٹائیگر نے پہلے اس کے کمرے کا دروازہ بند کیا۔ پھر اس کی طرف پلٹا جس کی آنکھیں خوف سے پھیلی تھیں ہونٹ ہلنے سے انکاری تھی۔ ٹائیگر فاصلہ مٹاتے ہوئے اس کے پاس پہنچا۔ وہ ڈر کر پیچھے ہوئی آنکھیں سختی سے میچ لی۔
ESTÁS LEYENDO
رازِ وحشت۔۔
Misterio / Suspensocrime novel ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جسے رات سے وہشت ہوتی تھی جو اپنی بہن کا بدلہ لہنے کے لئیے اس راہ پہ چل پڑا۔۔ اس کہانی میں جانیں گے آخر کیا ہے اس کا رازِ وحشت اس کہانی میں ہمارے معاشرے/ملک میں آج کل ہونے والے واقعات ہیں۔۔
