"یار آپی آپ دونوں کتنی پیاری لگ رہی ہو" امل نے سحرے اور آلائنہ کو دیکھ کر کہا جو کہ پنک اور اورنج لہنگوں میں واقعی بہت پیاری لگ رہی تھیں
"میری جان تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو " آلائنہ کی تعریف پر وہ بھی جھینپ گئ
" موراش شال مانگ رہا ہے اپنی عیناں" کمیل نے اندر آتے ہوئے کہا تو وہ بھی متوجہ ہوئیں
" اوہ یاد آیا کل سے میں نے اسے دیکھا بھی نہیں پتا نہیں میرا شہزادہ کیسا ہوگا" آلائنہ شرارت سے بولی تو وہ سب بھی ہنس پڑے
" بے شرم لڑکی ہے موراش کی" کمیل کی بات پر آلائنہ نے بھی بالوں کو ہوا میں اڑایا
" کسی کو آیت کا پتا ہے کہاں ہے وہ؟" کمیل کے یوں پوچھنے پر امل اور سحرے نے اسے دیکھا
" ایسے مت دیکھو بہنا چھوٹا سا کام تھا اس سے " کمیل نے بات سنبھالتے ہوئے کہا
'اچھا اچھا! کمیل بھائی میں نے انہیں عائشہ آپی کے روم میں دیکھا تھا تھوڑی دیر پہلے "
" تھینکس چھوٹی لڑکی!" کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا جبکہ سحرے کے اشارے پر امل بھی دبے دبے قدموں سے اب عائشہ کے کمرے کی طرف چل پڑی
"کمیل جی! ایسا کوئی راز نہیں جو SFN سحرے فاطمہ نیوز سے چھپانا ممکن ہو" کہتے ہوئے وہ اب امل کا ویٹ کرنے لگی
...................
"آیت سنو! " آواز پر زینے اترتی اسنے بھی رک کر کمیل کو دیکھا
"بولیں کیا کام ہے آپکو" خود پر ہر وقت مرکوز کمیل کی نظریں اسے بہت کچھ سمجھا رہی تھیں اسی لئے وہ اس سے زیادہ فری نہیں ہوتی تھی
" ہمممم۔۔۔کام تو کوئی نہیں بس یہ دل بھی نا....... "
کمیل کی نظریں اسے اپنے آر پار ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں
" کمیل بی ان یور لمیٹ! میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جن کے ساتھ آپ رہتے ہیں" ایک ایک لفظ چباتے ہوئے وہ بولی اسکی باتوں کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ رہی تھی تو وہ بھی دھیرے سے مسکرایا
" اسی لئے تو کمیل فرہاد کے لئے تم خاص ہو جانان " محبت پاش لہجے میں وہ بولا جبکہ جانان کہنے پر وہ تڑپی
"کمیل میں تمہیں وارن کر رہی ہوں دوبارہ اس طرح کی بات مت کرنا ورنہ مجبوراً مجھے آلائنہ یا موراش بھائی کو بتانا پڑے گا" کہتے ہوئے وہ سیڑھیاں اترتی باہر نکل گئی
" عشق نے نکما کر دیا امل!
ورنہ آدمی یہ بھی تھے کام کے!"
امل کے شعر پر وہ بھی چونک کر پیچھے مڑا جہاں کھڑی امل اب ویڈیو سیو کرتے ہوئے اسی کی جانب آ رہی تھی
" تمم یہاں کیا کر رہی ہو امل؟ "
" کمیل فرہاد کی جاسوسی " شرارت سے آنکھ کا کونا دبایا
"یارررررررر! سحرے کی بچی نے ہی بھیجا ہوگا "
" جی بلکل وہ ہماری استاد ہیں اور آج کل ہم ان سے کلاسز لے رہے ہیں" امل بولی
"اور اب تم اپنے پیارے بھائی کے لئے یہ ویڈیو نہیں دکھاؤ گی پلیز! "
" کیوں کس خوشی میں؟ "
" پلیز میں آج زندگی میں پہلی بار سیریس ہوا ہوں کسی کے لئے اور کوئی یقین ہی نہیں کر رہا اگر تم نے دکھایا تو سب کو لگے گا کہ اب بھی میں جسٹ فلرٹ کر رہا ہوں " کمیل نے تفصیل بتائی تو امل کو بھی اس پر ترس آیا
" اوہو! آپ کے ساتھ تو شیر آہا شیر آیا! والی سٹوری ہو گئی ہے " افسوس کیا گیا اور اب وہ ارادہ کر چکی تھی کہ وہ ابھی ویڈیو نہیں دیکھاۓ گی ہاں بعد میں جب معاملہ کچھ زیادہ بڑھ جائے کا تو اسکی ڈیمانڈ بڑھ جانی ہے.....
.......................
"یار ایلی میری شال نہیں ۔۔۔۔" ابھی الفاظ منہ میں ہی تھے پر سامنے آلائنہ کی جگہ انشراح کو دیکھ کے وہ چپ ہو گیا
"میں ڈھونڈ دیتی ہوں" کہتے ہوئے وہ ابھی آگے بڑھی ہی تھی جب ہی اسنے اسے روکا
"انشراح روک جاؤ اور میں پہلے بھی بول چکا ہوں کہ میرے روم میں مت آیا کرو ۔۔۔"
" اچھا ویسے تمہاری بیوی کے پاس آج ٹائم نہیں ہوگا تو میں کر دیتی ہوں ۔۔اور میں تو کچھ بھی کر سکتی ہوں نا تمہارے لئے "بات ہر وہ ڈھٹائی سے ہنسی
"ہاں وہ تو دکھ رہا ہے تم نے اپنے بھائی کو بلایا اور اسکو ہر وقت ایلی کے پیچھے لگایا ہوتا ہے تا کہ میں دیکھ کر بد گمان ہو جاؤں ہے نا؟ "
" واہوو تم تو مجھے بار بار ایمپریس کر دیتے ہو موراش ابراہیم " کہتے ہوئے وہ اسکے قریب آئ اور تب ہی دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئ تھی
" آل۔۔آلائنہ تممم یہاں ۔۔۔"انشراح نے گھبرانے کی ایکٹنگ کی جبکہ موراش نے اسے افسوس سے دیکھا تھا
" ہاں میں" آلائنہ سادھا سا بولا اور اب اسکی جانب متوجہ ہوئی" ملی شال یا ڈھونڈ دوں؟ "
نہیں ملی یار اور میں لیٹ بھی ہو رہا ہوں" نہ ایک نے وضاحت مانگی تھی نہ دوسرے نے دی تھی انشراح کو وہ دونوں بہت عجیب لگے حالانکہ آلائنہ اور نہیں تو ایک بار پوچھتی تو صحیح کہ ہو کیا رہا تھا یہاں ۔۔۔۔مگر وہ آرام سے شال اسکے کندھوں پر سیٹ کر رہی تھی
"بہت پیاری لگ رہی ہو اینجل " موراش بولا تو وہ بھی مسکرائی وہ دونوں ہی اسے ایسے اگنور کر رہے تھے جیسے وہ یہاں ہو ہی نا
"میں بعد میں ملتی ہوں تم سے ابھی جاؤ لیٹ ہو رہے ہو" آلائنہ اسے باہر کی جانب دھکیلتے ہوئے بولی تو وہ بھی نکل گیا
"انشراح جی! سدھر جائیں ۔۔۔ورنہ شیریں نے کہنا ہے میری بیٹی نے تو مہمانوں کو بھی نہ چھوڑا " کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی ۔۔۔مطلب ان دونوں نے ہی کسی تیسرے کو فیل کیا تھا موراش نے شہوار کو تو آلائنہ نے اسے بس ایک دوسرے کے سامنے کچھ نہیں بولا تھا......اور اب انشراح کا ذہن منصوبہ بنانے لگا
..............
ڈھولک ادھر دو ہم گاتے ہیں تم لڑکیوں کو کچھ نہیں آتا " سواش ڈھولک لیتے ہوئے لڑکیوں کے گروپ میں آ بیٹھا اور اب عرزم اور کمیل بھی اسکی دیکھا دیکھی آ گیۓ تھے
" ہاں ہاں تم گا لو بڑے آۓ نصرت فتح علی خان " سحرے کی بات پر سب لڑکیوں کا قہقہہ بلند ہوا
" سو مس سحرے آپ کے لئے! " بات پر عرزم نے ڈھولک بجائ اور اب وہاں بیٹھے سب سواش کے گانے کا ویٹ کرنے لگے
"جس کی بیوی 'کالی' اسکا بھی بڑا نام ہے جس کی بیوی ۔۔۔۔" اب سواش نے لڑکوں سے پوچھا جب کہ سحرے اب سب کے بیچ بیٹھی اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی
"کالی!" سب ایک ساتھ بولے
" جس کی بیوی کال اس کا بھی بڑا نام ہے ۔۔۔۔روٹیاں پکا لو توے کا کیا کام ہے" سواش نے داد طلب نظروں سے سٹیج پر بیٹھے دائس کو دیکھا جو کہ ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا
"اگلا آلائنہ اسماعیل خان بنگش کے لئے" عرزم کی بات ہر سواش نے اسے دیکھا جو شائد سواش سے بدلہ لے رہا تھا کیونکہ سحرے کا موڈ خراب جو کر دیا تھا سواش نے ۔اور سواش اور آلائنہ کے لئے کچھ سنے نا ممکن
" جس کی بیوی بھوکڑ اسکا بھی بڑا نام ہے جسکی بیوی ۔۔۔۔" سواش کے انداز میں آس پاس کے لڑکے لڑکیوں سے پوچھا اور اسکے ساتھ ہی آواز گونجی
" بھوکڑ "
" جس کی بیوی بھوکڑ اسکا بھی بڑا نام ہے سب کچھ کھلا لو فریج کا کیا کا م ہے" اور اسکے ساتھ ہی سٹیج پر بیٹھے ان چاروں کا بھی قہقہہ گونجا
" جس کا شوہر عرزم اسکا بھی بڑا نام ہے"
"مسکریاں کروا لو جوکر کا کیا کام ہے" آلائنہ بخشنے والوں میں سے کہاں تھی اسی لئے مزے سے بولی...... اور اب سب ہی ان سب کی نوک جھونک سے لطف اندو ہو رہے تھے....
..................
اسے دیکھو نا سب سے پہلے بارات لے کر پہنچ گیا" عائشہ نے کھڑکی سے نیچے بارات کے ساتھ حسان کو دیکھا تو ہنس کر بولی.....
" شکر کرو آ گیا ورنہ تو نسوار خان سے ہی تمہاری شادی ہوتی " جلدی جلدی ہاتھ چلاتی نمرہ نے کہا جیسے ابھی بہت سے کام کرنے تھے.....
" استغفراللہ! بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات کر لینی چاہیے۔۔اپنا بالاچ بھی تو تھا ہاۓ کتنا ہینڈسم ہے نا " نمرہ کو چھیڑتے ہوئے عائشہ اب گلاب جامنوں سے مکمل انصاف کر رہی تھی....
"شرم کرو شوہر ہے میرا ۔۔۔جان لے لوں گی میں تمہاری اگر اسکو دیکھا بھی تو چھچھوری کہیں کی"
"ہاں ہاں اب تو میرا اپنا دولھا آ گیا ہے سنبھالو اپنے شوہر کو... نہیں چاہیے مجھے "
" دے کون رہا ہے تجھے ہوہہوں!
" اچھا بس آپ لوگ مت لڑو یار " مسکارا ٹھیک کرتی پریسہ نے کہا جو کہ برائڈل لوک میں نظر لگ جانے کی خد تک پیاری لگ رہی تھی..... اور عائشہ تو آج کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی.....
"ہیلووووووو پیاری اور کنواری لڑکیو! تیار ہو جاؤ شادی شدہ ہونے کے لئے" آلائنہ کی بات پر وہ بھی اس جانب مڑیں.....
"کیا مطلب؟" پریسہ تو ایسے گھبرائ جیسے اسے پانی پت کی سزا سنائی جا رہی ہو....
"مطلب کیا.... یار نکاح خواں آ گیا ہے گھونگھٹ لو میری جان" آلائنہ نے نیٹ کے دوپٹے کا گھونگھٹ کرتے ہوئے کہا تو پریسہ کے آنسوں ناجانے کیوں گالوں کو بھگو گۓ.....
"پری کیا ہوا رو کیوں رہی ہو " آلائنہ اسکو بانہوں میں سمیٹتے ہوئے بولی.... جبکہ عائشہ اور نمرہ بھی پریشان ہو گئیں....
" بابا کا کیا ہوگا ایلی " پریشانی سے وہ بولی....
"ارے یار! پریشان کر دیا پاگل لڑکی....کمیل ہے نا خیال رکھے گا"
"وہ کیسے رکھے گا وہ پاگل تو اپنا نہیں رکھ سکتا " اب کی بار وہ تھوڑا سا مسکرائی......
"تو پھر ایسی لے آؤ نا جو بابا کو بھی سنبھالے اور مجھے بھی " کمیل کی آواز پر وہ سب چونکی جو ناجانے کب سے یہ سب سن رہا تھا اور اب پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھے وہ اسکے آنسو صاف کر رہا تھا.... پریسہ کو ایک پل کے لئے وہ اپنا سگا بھائی لگا تھا
"تمہیں کوئی پسند ہی نہیں آتی تو میں کیا کروں " پریسہ منہ پھولا کے بولی
" ہمممممم... اور اگر میں کہوں کہ مجھے آ گئی ہے تو.... ؟"
"مطلب سچ میں کیم کون ہے وہ" آلائنہ پرجوش انداز میں بولی..... جبکہ باقی سب بھی اب کمیل کو دیکھ رہے تھے
"ہاں مگر اس میں مجھے عائشہ میر ٹو بی کی ہیلپ چاہیے " وہ بولا تو عائشہ چونکی بھلا اسکا کیا کام
"بولو میں کیا کر سکتی ہوں یار "
" آپ اپنی نند کو میرے لئے منا سکتی ہیں اور صرف آپ ہی یہ کر سکتی ہیں" اور کمیل نے وہ بمب پھوڑ ہی دیا جسکا تھا سب کو انتظار.....
"واٹ! آیت.... نہیں کرو یار " پریسہ کو یقین نہیں آیا......
"یار میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے... اور آیت میر تمہاری ہی ہو گی انشاءاللہ " آلائنہ بولی تو سب نے پیار سے کمیل کو دیکھا آج کتنے عرصے بعد وہ اپنے قریب کسی رشتے کو آنے دے رہا تھا.....
"اچھا چلو اب جلدی سے ریڈی ہو جاؤ مولوی صاحب آ رہے ہیں" کمیل کی تاکید پر وہ سب بھی سیدھی ہوئیں.....
اور پہلے عائشہ اور پھر پریسہ نے باری باری اپنے جملہ حقوق دائس اور حسان کے نام کیۓ البتہ پریسہ کافی رو بھی رہی تھی کیونکہ یوسف بابا کو اکیلا چھوڑنا اسکے لئے مشکل ہو رہا تھا......
...............
CZYTASZ
بنجارے!!! مکمل ناول
Przygodoweکہانی ہے بنجاروں کی... شملہ کے باسیوں کی..... یاروں کی یاری کی تو... دو دلوں کے ملنے کی... دکھ کی اور خوشی کی... تو محبت اور جنون کی......... .... ایک خوبصورت داستان جس میں یار ہیں، پیار ہے، رشتے ہیں تو رشتوں میں جان ہے....
