قسط نمبر ۵

562 31 2
                                    

کیا مصیبت ہے۔۔۔؟ ( دلآویز کو ابھی ارمغان یونی سے گھر چھوڑ کر گیا تھا کہ اینڑنس پر ہی وجی اپنے پورے قد سے اسکے آگے دیوار بن گیا)
آج ولید نے تمھیں پھر سے تو تنگ نہیں کیا۔۔؟( اسکی بدتمیزی نظر انداز کرکے اپنا سوال پوچھا)
آپ کو مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔راستہ دیں۔۔۔( اسکے سوال کو  بلکل نظر انداز کرتی ساںٔڈ سے جانے لگی تھی کہ وجی اسی ساںٔڈ ہوگیا)
دل اسکے اچانک اس طرف ہونے پر اسکے چوڑے سینے سے ٹکراتے ٹکراتے بچ گںٔی۔۔۔۔
یا وحشت۔۔۔۔( بے اختیار ہی منہ سے نکل گیا)
اسکی حالت دیکھ کر وجی کو ہنسی آںٔی....
وجی کمال میرا رستہ چھوڑیں۔۔۔( انتہائی ضبط سے بولی)
باوجود اسکے کہ تمھارا ہر رستہ موڑ کر مجھ ہی تک آتا ہے۔۔؟( تھوڑا پاس جھک کر سوال کیا گیا)
دل نے اسکے سوال پر اسے ناگوار نظروں سے لب بھینچ کر دیکھا....
ہاں باوجود اسکے کہ میرا ہر رستہ موڑ کر آپ تک آتا ہے اور پھر آپ ہی سے جدا بھی ہوجاتا ہے وجی کمال حد میں رہیں اپنی۔۔میں دلآویز آفاق ہوں جب فیصلے ہوچکے ہیں تو اپنی ان فضول حرکات کو خود ہی تک محدود رکھیں۔۔۔ ( انگلی دکھا کر بغیر لحاظ کے اپنی تیر زبانی سے وجی کے چودہ طبق روشن کر گںٔی)
تمیز سے دلآویز وجی کمال ۔۔۔( وجی بھی اسی طرح بولا)
پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہی ہوں حد میں رہیں دلآویز آفاق نام ہے میرا۔۔۔( اسکے سینے پر دباؤ ڈال کر دھکا دیتی ساںٔڈ سے نکل گںٔی)
ابھی تمھارا نام میرے نام سے جدا نہیں ہوا۔۔( وجی کی آواز نے اسکے قدم روک دںٔیے)
بہت شدت سے انتظار ہے مجھے اس دن کا جب میرے نام کے ساتھ سے اپکے نام کا بوجھ ہٹ جاۓ گا۔۔ ( یہ کہتی بغیر اسکی سنے اوپر کی طرف بڑھ گںٔی)
وجی ضبط سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔۔
الگ تو اب میں بھی نہیں ہونے دنگا۔۔۔۔۔(خود سے کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا).....
آج صبح ہی پروین ابراز اپنی بچوں سمیت واپس لاہور جاچکیں تھیں۔ اور وہیں سے حیدرآباد شادی میں شرکت بھی کرنے والی تھیں۔ نگارش نے جاتے ہوئے بھی اچھا خاصا وجی کا دماغ چاٹا تھا کہ وہ آخر زچ ہوکر سارے وعدے جو وہ مانگ رہی تھی دے دںٔیے تب جا کر اسنے اسکی جان بخشی تھی۔ابھی بھی وہ لاؤنج میں بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھ اور باقی سب کچن میں تھے کہ گاڑی کے ہارن کی آواز پر مسکراتے دروازے میں آگیا لیکن دلآویز کی باتوں کی کڑواہٹ اسے اب بھی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔

دو دن بعد۔۔۔۔۔۔۔
رات میں کھانے کے بعد سب جب ساتھ لاؤنج میں بیٹھے تھے تو نجمہ ہاتھوں میں بہت سے شاپنگ بیگ اٹھا لاںٔی۔۔۔۔
حرا آج میں نے اپنی دوست سے یہ سب کپڑے شادی کے لیے منگواۓ ہیں تمھیں جو بھی پسند ہے لے لو۔۔۔۔۔۔( نجمہ ان کے آگے کپڑوں کے شاپر کھولتی ہوںٔی بولی )
وجی بھی دل کے بالکل سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا اور باغور اسکے معصوم من موہنے چہرے پر پتھریلے تاثرات دیکھا رہا تھا  ۔۔۔۔۔
خانم بابھی، ثریا بھابھی آپ بھی آجاںٔیں اور اس میں سے جو بھی اچھا لگے وہ لے لیں ۔۔۔۔ ( نجمہ دونوں کو کچن سے آوازیں دے کر بولی تو وہ کچھ دیر میں مسکراتی ہوںٔی آگںٔیں اور کپڑے دیکھنے لگیں )
جوڑے بہت خوبصورت اور شادی بیاہ کے حوالے سے تھے۔۔۔۔
جنت آؤ تم بھی لو ۔۔۔( دل کے برابر میں بیٹھی جنت کو نجمہ نے بولا تو وہ جھجھکتی اٹھ گںٔی کیونکہ نجمہ اتنی اچھی کبھی تھی نہیں)
دلآویز خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ لیکن کچھ بول نہیں پارہی تھی بولتی بھی کیسے یہ سامنے اسکی سگی ماں ہی بیٹھی تھی جو اس سے اپنی محرومی کا بدلہ لے رہی تھی کہ دل کے بعد وہ کبھی دوبارہ ماں نہ بن سکی۔۔۔۔
نجمہ نے کافی دیر بعد بھی جب دلآویز کو نہ بولایا تو وجی نے نظر اٹھا کر اپنے سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھا جس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا شاید محرومی کا ۔۔۔ہاں سگی ماں کی محرومی کا ۔۔۔۔وجی کو نجمہ پر بہت غصہ آیا جو ایسے بنی بیٹھی تھی کہ سامنے اسکی سگی بیٹی نہیں بلکہ دشمن کی بیٹی بیٹھی ہے۔۔۔۔۔
کمال صاحب، آفتاب صاحب کچھ بات ڈسکس کررہے تھے تبھی انکا دیھان نہیں گیا جبکہ حیات صاحب اور عفان اپنے اپنے کمروں میں تھے اور زبیدہ دوا لے کر آرام کررہی تھی۔۔۔۔۔
دلآویز سب کو مگن دیکھتی نامحسوس سے انداز میں اٹھ کر اوپر کی طرف چل دی ۔ اسکے اٹھنے کا نوٹس وجی کے علاوہ کسی نے نہ لیا ۔۔۔۔۔۔۔
اسے اب اسکی بدتمیزی اور چڑچڑے پن کی وجہ باخوبی پتا چل رہی تھی ۔۔۔۔۔
رات میں جب وہ اوپر جا رہا تھا تو خانم نے اسے آواز دے کر اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔
جی مما۔۔۔۔( وہ فوراً ان کے پاس آکر بیٹھ گیا)
آج جب سب کپڑے لے رہے تھے تو میں نے دل کے لیے یہ کپڑے اپنی طرف سے خرید لیے ( وہ دو جوڑوں میں سے ایک بہت خوبصورت سا فان رنگ کا کام والا جوڑا اسکے سامنے رکھ کر بولیں )
وجی نے خاموشی سے کپڑوں کو دیکھا....
تم دیکھ چکے ہو وجی کہ وہ کن محرومیوں میں پلی ہے اتنی محبت کرنے والی ماں ہونے کے باوجود سگی ماں کی جگہ نہ پر ہوسکی۔۔۔۔۔خانم اسکے سنجیدہ سے چہرے کو دیکھ کر بولیں)
تو آپ کیا چاہتی ہیں مما۔۔۔؟ ( وجی کے سوال پر وہ آسودگی سے مسکرا دیں)
میں چاہتی ہوں وجی کہ تم خود کو اور دل کے رشتے کو ایک موقع دو ( انکی بات پر وجی نے حیرت سے انھیں دیکھا)
لیکن مما میں نگارش۔۔۔۔
جانتی ہوں کہ نگارش سے شادی کروگے لیکن دل کا کیا قصور ہے بچے اسے کس بات کی سزا دوگے پچھلے دس سال سے تمھارے نام سے جانی جاتی ہے اب تم اسے اپنی خواہش کی بھینٹ چڑھا کر کیوں مار رہے ہو۔۔۔وہ بچی بہت معصوم ہے وجی بس رویوں کی سولی پر لٹکی رہتی ہے۔ تم بھلے سے نگارش سے شادی کرنا لیکن ایک بار سوچ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔( انکی بات وجی خاموشی سے سن رہا تھا)
میں تمھیں مجبور نہیں کرتی کسی بات کے لیے اور ہاں اگر دل مانے تو یہ جوڑا دل کو دے دینا ۔۔۔۔( اسکی گود میں کپڑے رکھ دیٔے جسے اسنے تھام کر سامنے کیا)
وہ لے ہی نہ لے مجھ سے۔۔۔( اسے دو دن پہلے کی نہیں بھولی تھی)
جانتی ہوں غصہ کرے گی لیکن کوشش کروگے تو کچھ بن پائے گا نا اور آگر تمھارا دل آمادہ نہ ہو تو مت دینا ۔۔۔( اب کے وجی چپ چاپ جوڑا لیے اوپر کی طرف بڑھ گیا)
پیچھے خانم نے مسکرا کر اسکی خوشحال زندگی اور اسکے بہتر فیصلہ لینے کہ دعا کی ۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر وجی نے وہ جوڑا اپنے سامنے رکھ دیا اور خود بیڈ پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔۔۔۔
تم کیا ہو دلآویز وجی۔۔۔۔۔۔ میں دس سال اسی لیے دور رہا کہ تم مجھے شریکِ حیات کے طور پر قبول نہیں تھی لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میرے دس سال کی بھاگ دوڑ تمھاری ایک جھلک کے آگے ہی ہار جاۓ گی ۔۔۔۔( وہ سیگریٹ لیے بالکنی میں اکر کھڑا ہوگیا )
آج تمھاری آنکھوں کی وہ محرومی مجھے بھلائے نہیں بھول رہی بے شک زبیدہ چچی نے اور آفاق چچا نے تمھیں بے انتہا چاہا لیکن مما سہی کہتی ہیں کہ سگے ماں باپ کی محرومی وقت کے ساتھ ہی جوان ہوتی ہے ۔۔۔۔ تمھاری اس بدتمیزی ، غصہ ، چڑچڑے پن اور ضد کا میں برابر کا ذمہ دار ہوں ۔۔۔۔میں نہیں جانتا کہ مجھے تم سے کیا ہے ہمدردی ، یا محبت۔۔؟ لیکن جو بھی ہے تمھارے بنا اب دل نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔( فلک کی جانب دیکھ کر سوچتا وہ تصور میں اس سے مخاطب تھا)
کمرے میں آیا تو رات کے بارہ بجنے والے تھے۔۔۔۔
کیا میں اتنی دیر اسکو سوچتا رہا۔۔۔؟( خود پر حیران ہوتا جیسے ہی نظر اس جوڑے پر پڑی توبلاآخر ایک گہرا سانس لیتا اسے لیے باہر آگیا۔۔)
اس وقت پورے گھر کی لاںٔٹس بند تھیں لیکن دلآویز کے کمرے کی اون تھی شاید دیر سے سونے کی عادی تھی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

FiraaQ 🔥(COMPLETE) ☑️حيث تعيش القصص. اكتشف الآن