عفان۔۔۔۔۔۔چاۓ۔۔۔۔۔۔۔( وہ جو دلآویز کی وجہ سے اداس ہوکر کمرے میں آگیا تھا اپنے پیچھے سے جنت کی آواز سن کر پلٹا)
اندر کیوں آںٔیں۔۔۔۔۔۔؟( اسکی بات کو نظر انداز کرکے ضبط سے کہا )
اسکے لہجے پہ ناچاہتے ہوۓ بھی جنت کی آنکھیں بھیگ گںٔیں۔۔۔۔۔
اب یہ آنسو بہا کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں بہت ظلم کررہا ہوں تم پہ۔۔۔۔۔؟( دلآویز کی وجہ سے وجی کا سارا غصہ اب جنت پہ نکل رہا تھا).
ایسی بات نہیں ہے عفان۔۔۔۔۔۔۔
پھر کیسی بات ہے جنت ۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔( اسی کے انداز میں پوچھا گیا)
مجھے معاف کردیں پلیز۔۔۔۔۔۔( باقاںٔدہ روتے ہوۓ بولی)
تم کیوں معافی مانگ رہی ہو ہاں ظلم تو میں نے کیا ہے نہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
پلیز عفان۔۔۔۔۔۔۔۔۔( اسکی بات کاٹتی روتے ہوۓ بولی)
اسے اس طرح روتا دیکھ عفان نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔
جنت چلی جاؤ ابھی مجھے اس وقت کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔
ل۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت جاؤ۔۔۔۔۔۔۔( اب کے تھوڑا سخت لہجے میں بولا تو وہ کپ ساںٔڈ ٹیبل پہ رکھتی وہیں سے پلٹ گںٔی)
اور عفان گرنے کے انداز میں بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌼🌼
آج ڈھاںٔی ہفتوں کے بعد اسے ڈسچارج ہوکر گھر جانا تھا لیکن اسے کوںٔی خوشی محسوس نہیں ہورہی تھی بس خالی خالی نظروں سے اپنی ماں اور گھر والوں کے چہکتے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔ ان چند دنوں میں اسنے جتنا وجی کمال کو یاد کیا تھا شاید ہی کبھی کسی کو کیا ہو ۔ گولی لگنے کے بعد وہ گم ہوتے ہواس میں بھی اسکی تڑپ خود کے لیے دیکھ سکتی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے بھی مرنے سے خوف آیا کہ وہ اس سے جدا ہوجاۓ گی پھر ایک اور خیال اس جداںٔی کا آیا جو وہ اسے عمر بھر کے لیے سنا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبیدہ ، حیات صاحب اور ارمغان کے ساتھ وہ واپس گھر کے لیے روانہ ہوگںٔی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی اسکا بہت والہانہ طریقے سے استقبال کیا گیا۔ وہ بھی سب کی محبت دیکھ مسکراتی ہوںٔی گھر میں داخل ہوںٔی پروین ابراز نے بھی اس سے معافی مانگی تھی لیکن اسنے جہاں سب کو معاف کردیا وہاں انھیں کیسے نہ کرتی۔ انھیں سب باتوں میں اسکی نظر جیسے ہی سامنے کھڑے اس خوبرو چہرے سے ٹکرائی تو دل کے کونے میں ٹیس سی اٹھتی محسوس ہوںٔی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسے سہی سلامت دیکھ وجی بہت خوش تھا کیا ہوا جو یہ ساتھ مختصر رہ گیا تھا لیکن وہ زندہ تھی اور بلکل ٹھیک بھی بس یہی بہت تھا۔۔۔۔۔
نجمہ اسے محبت سے اسکے کمرے میں چھوڑ کر آںٔیں۔ حرا نے وجی سے معافی مانگ لی تھی جس پہ اسنے اسے معاف بھی کردیا تھا۔ جبکہ باقی گھر والے بھی اسکی غلطی سمجھ کر معاف کرچکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رات میں جب سب کی آفس سے واپسی ہوںٔی تب وجی کو پولیس اسٹیشن سے کال آنے لگی ۔ جسکی وجہ سے وہ کمال صاحب کے ساتھ رستے میں سے ہی مڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن جاکر پتہ چلا کہ ولید رانا اپنے باپ کے خوفیا فارم ہاؤس سے پکڑا جاچکا ہے ۔ وہ دونوں باپ بیٹے کوںٔی عام لوگ نہیں تھے بلکہ یہاں سے لڑکیاں بھلا پھسلا کر انھیں استعمال کرتے اور پھر دوسرے ملک آنھیں بیچ دیا جاتا۔ یہ خبر سن کر گھر میں سب سکتے میں آگںٔے۔ حرا کی تو حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔ وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا اسنے دلآویز کی صورت میں اسے بچا لیا تھا۔ دلآویز کو جب یہ بات پتا چلی تو ولید سے نفرت کچھ اور بھی بڑھ گںٔی۔ لیکن اب وہ قانون کی سخت گرفت میں تھا اور اس جرم کی سزا تو اسے بھگتنی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ESTÁS LEYENDO
FiraaQ 🔥(COMPLETE) ☑️
Fantasíaیہ کہانی ایک جواںٔن فیملی میں دو سوتیلی بہنوں کی ہے اور ایک ایسی لڑکی کی ہے جو دنیا کی طرف سے اور اپنوں کی طرف سے دھتکاری ہوئی ہے۔ یہ کہانی کسی کے صبر کی ہے کسی کے ہجر کی تو کسی کے فراق کی ہے ۔۔۔۔۔۔💖💖💖