وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی کالج کا کام کررہی تھی ۔ منگنی کو ہوئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا ۔ اس دن کے بعد سے عفان نے اس سے کوںٔی بات نہ کی ۔ بات تو وہ پہلے بھی نہیں کرتا تھا لیکن اب زرا بھی مخاطب کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ جنت کو اسکی خاموشی کسی بڑے طوفان کی علامت لگتی تھی لیکن پھر کالج میں شروع ہونے والے امتحانات کی وجہ سے اسکا دیھان اس جگہ سے ہٹ گیا تھا۔ ابھی بھی وہ بیٹھی پیپر کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ دلآویز دروازے کھولتی کمرے میں آںٔی اور اسکے سامنے ٹک گںٔی۔۔۔۔۔۔
کیا کررہی ہو جنت۔۔۔؟( اسے کتابوں میں گھسا دیکھ کوفت سے بولی)
پڑھ رہی ہوں دل پیپرز قریب ہیں اور تمھیں تو پتا ہے مجھے ایک دن پہلے یاد نہیں ہوتا تبھی لیے بیٹھی ہوں آنھیں۔۔۔۔( اسکی بات پہ جنت منہ بناتی کتابوں کے انبار کی جانب اشارہ کرتی ہوںٔی بولی)
اسی وقت جنت کا فون رنگ ہونے لگا تو اسنے ہاتھ میں پکڑی کتاب ساںٔڈ رکھ کر اسے اٹھایا ۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔(انجان نمبر دیکھ وہ تھوڑا کنفیوز ہوںٔی)
السلام علیکم منگیتر صاحبہ کیسی ہیں آپ۔۔۔؟( لیکن مقابل کی چہکتی آواز میں کہے جملے سے اسے سیکنڈ بھی نہ لگا کہ یہ کون ہوسکتا ہے)
ابتسام۔۔۔۔( دلآویز جو لاتعلق سی بیٹھی تھی جنت کے منہ سے ابتسام کا نام سن پہلے چونکی پھر چہرے پہ شرارت رقص کرنے لگی۔۔۔۔
جی ۔۔۔اور اب یہ مت پوچھنا نمبر کہاں سے ملا بھںٔی منگیتر سے پہلے کزن ہو تم میری۔۔۔۔( اسکے اگلے جملے پہ جنت کے لب ہلکے سے مسکراۓ)
ابتسام اور جنت کے آپس میں کزن ہونے کے باوجود کبھی نمبروں کا تبادلہ ہونے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کچھ کہتی دلآویز نے جھپٹ کر موبائل اسکے ہاتھ سے لیا جنت جو اپنے دیھان میں بیٹھی تھی اس افتاد پر بوکھلا گںٔی)
السلام علیکم ابتسام بھاںٔی کیسے ہیں آپ۔۔۔؟( اسکا موباںٔل لیے اسکی پہنچ سے دور ہوکر دروازے کے پاس چلی گئی)
ہونے والی سالی جی میں بلکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں۔۔۔( ابتسام اسکی شرارت بھری آواز سن کر مسکراتا ہوا بولا)
جبکہ جنت اسکے پیچھے پیچھے موباںٔل لینے کے لیے بھاگی لیکن دلآویز نے ہنستے ہوئے دروازہ کھولا اور دوڑتے ہوئے سیدھا باہر موجود ہستی کے سینے سے ٹکرا گںٔی۔۔۔
عفان بھاںٔی آپ۔۔۔( وہ جو جنت کو چھیڑ رہی تھی عفان سے ٹکرانے پہ وہیں رک گئی)
عفان کو سامنے دیکھ جنت کے اوسان خطا ہوگئے جبکہ وہ اسے بلکل اگنور کیے ہوئے تھا۔۔۔
سنبھل کر گڑیا ۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔۔( اسے شانوں سے تھام کر سیدھا کرتا ہوا بولا)
کچھ بھی نہیں بھائی بس جنت کو تنگ کررہی تھی۔۔۔۔( ہاتھوں میں موبائل پکڑے جنت کی طرف شرارت سے اشارہ کرتی ہوںٔی بولی)
فون سے ہیلو ہیلو کی آواز اب تک آرہی تھی۔۔۔۔۔
بری بات گڑیا واپس کردو فون اسے۔۔۔( اسکی بات پہ مسکراتا ہوا بولا تو دلآویز بھی اثبات میں گردن ہلا کر واپس جنت کی طرف بڑھ گںٔی)
سوری ابتسام بھاںٔی آپ جنت سے بات کریں میں آپکو بس تنگ کررہی تھی۔۔۔۔( دلآویز نے فون کان سے لگا کر معذرت کی لیکن اسکی آواز نے عفان کے چلتے قدم وہیں روک دںٔیے)
جبکہ دلآویز اب فون جنت کو دیئے مسکرا کر اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔۔
اور عفان ضبط سے جنت کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
صبح ناشتے کی میز پہ سب بیٹھے تھے کہ جب دلآویز اور جنت بھی اپنی اپنی تیاریوں کے ساتھ وہیں برجمان ہوگںٔیں۔ وجی کی نظر سامنے گںٔی جہاں وہ سب سے بے نیاز ناشتے سے انصاف کرنے میں مگن تھی اسکی صحت اور بھری بھری جسامت ان سب کی گواہی دے رہی تھیں۔ سفید رنگ کے پرنٹڈ لان کے جوڑے میں سر پہ دوپٹا ٹکاۓ وہ بہت حسین اور معصوم لگ رہی تھی ۔ وجی آج کل نیا نیا آفس جواںٔن کرنے کی وجہ سے کچھ مصروف تھا اسی لیے دلآویز کی طرف سے دیھان ہٹا ہوا تھا لیکن آج ملنے کا ارادہ کرتے دوبارہ ناشتے پہ جھک گیا۔۔۔۔۔
حرا تم کالج نہیں گںٔیں۔۔۔؟( عفان اسے خلافِ معمول یہاں بیٹھا دیکھ کر بولا)
نہیں بیٹا آج کچھ لوگ حرا کو دیکھنے آرہے ہیں تم کل رات دیر سے آۓ تو مجھے بتانے کا موقع نہیں ملا۔۔۔( حرا کی جگہ نجمہ کی طرف سے جواب آیا تو سب سے زیادہ حیرانی دلآویز کو ہوںٔی جسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔)
اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔( عفان نے بھی مسکرا کر اپنی بہن کو دیکھا جو خاموش سی ناشتے پہ جھکی ہوںٔی تھی)
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں سے چلے گئے تو عورتیں بھی رشتے والوں کے آنے کی تیاریوں میں مگن ہوگںٔیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ESTÁS LEYENDO
FiraaQ 🔥(COMPLETE) ☑️
Fantasíaیہ کہانی ایک جواںٔن فیملی میں دو سوتیلی بہنوں کی ہے اور ایک ایسی لڑکی کی ہے جو دنیا کی طرف سے اور اپنوں کی طرف سے دھتکاری ہوئی ہے۔ یہ کہانی کسی کے صبر کی ہے کسی کے ہجر کی تو کسی کے فراق کی ہے ۔۔۔۔۔۔💖💖💖