◇باب-۶◇

59 32 12
                                        

"سر جب میں گئی تو اتنی بری طریقے سے یہ لوگ لڑ رہی تھی جیسے جنگلی جانور ہو" پروفیسرعافیہ ان شکایتیں کر رہی تھی۔
وہ تینوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔ پورا واقعہ جاننے کے بعد انہوں نے سبھوں کے گارجین کو بلانے کی اجازت دی تھی۔ اس کے علاوہ سب ایک ہفتے کے لیے سس پینڈ ہوگئ تھی۔ یہ ایک بہت چھوٹا معاملہ تھا جس سے نمٹنا آسان تھا۔ لیکن دوسرے طالب علموں پر اس کا اثر نا ہو اس بات کا احاطہ سے خیال رکھا گیا تھا۔
ان سبھوں کہ چہرے پر کسی قسم کا افسوس نہیں تھا۔ سبھی بس اپنے غصہ کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اپنے ناخنوں کو جیسے وہ ہاتھ کہ پنجہ میں مسل رہی تھی۔ رابعہ کہ ماتھے پہ ڈر کا پسینا موجود تھا لیکن ندا کو کسی کا خوف نہیں تھا وہ تو بس ایک اور موقع کی تلاش میں تھی۔
کچھ ہی دیر میں رابعہ کی امی، ندا کی بڑی بہن، رخسانہ کی امی، علیشا کے والد اور صالحہ کا بھائی، سبھی لوگ آۓ تھے۔ اس بار پرنسپل سیکریٹری اور پروفیسر عافیہ کے ساتھ انکی میٹنگ تھی۔
پانچو لڑکیاں اپنی برائی سنتی اور ایک دوسرے کو یوں دیکھتی جیسے ابھی کچا چبا جاۓ گی۔
"دیکھیں ابھی تو انہیں ایک ہفتے کے لیے سس پینڈ کیا گیا ہے لیکن دوبارہ ایسا نہ ہو۔" پروفیسرعافیہ نے ان کے گارجینس کو انتباہ اور حکم دیا تھا۔
سبھی کے والدین کہ چہرے زرد ہوگۓ تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ برا علیشا کہ والد کو لگ رہا تھا۔
سبھی گارجین نے ایک دوسرے سے معافی طلب کی تھی۔ صالحہ کا بھائی خاموش تھا لیکن اسنے بھی سب کی ہاں میں ہاں ملایا تھا۔

پورے راستے علیشا کے والد اسے سمجھاتے ہوۓ گھر لاۓ تھے۔ رابعہ، ندا اور رخسانہ کو بھی ڈانٹ پڑی تھی۔ ذاکر نے آتے وقت تو کچھ نہیں کہا تھا لیکن گھر پہنچنے کے بعد اسے تھوڑا سمجھایا تھا کہ اس طرح ریئکٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا آرام سے بات کرنے پر بھی مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔
◇◇◇
گھر میں داخل ہوتے ہی صالحہ کا چہرہ دیکھ کر عبداللہ کی تھوڑی ہنسی نکلی تھی۔ پر اس نے کنٹرول کیا تھا۔ صالحہ کا بال کھینچا ہوا سا تھا اور آنکھیں تو جیسے ابھی ابھی رو کر آئ ہو، کندھے کا بیگ اس کے پنجوں میں تھا جو زمین کو چھو رہا تھا۔
"یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں یا جنگ کرنا سیکھاتے ہیں" آمنہ اسے طنز کر رہی تھی۔
آج اس کے والد بھی گھر پر ہی تھے جو کہ اخباروں میں تازہ ترین خبروں کو پڑھنے میں مشغول تھے۔ ملک کی عوام کے لئے کیا کیا قانون پاس ہوۓ اور کس ملک میں جمہوریت کے لیے عوام لڑ رہی تھی جیسی خبریں سنانے ذاکر کے پاس آئے تھے۔ صالحہ کی حالت کو دیکھا تو ان کے منہ سے ہلکی آواز نکلی "میں تو دوسرے ملک کی جنگ کا حال بتانے آیا تھا یہاں تو اپنے ہی گھر کا ماحول الگ لگ رہا ہے۔ "
وہ انہیں غصہ بھرے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
"اچھا تم پہلے بیٹھ جاؤ اور پھر آرام سے بتانا کیا ہوا" بھابھی نے اس کے غصہ کا مشاہدہ کرلیا تھا۔
صالحہ سامنے کرسی پر بیٹھی عبداللہ نے پانی کا گلاس پکڑایا۔ سب کوئ اسے اور ذاکر کو سوالوں بھرے نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
"لڑ کر آئ ہے۔ آج یونیورسٹی میں کچھ مسئلہ ہو گیا تھا" ذاکر نے بغیر کسی سوال کے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔
"میں تو کہتی ہوں ٹھیک ہوا اس کے ساتھ ایسے ہی مار پڑنا چاہیے تھا" آمنہ اس وقت کچن سے چل کر اسی کی طرف آرہی تھی۔
"ارے مار اسے تھوڑی پڑی ہے" ذاکر کے اس جملہ پر سب چونکے تھے۔
"تو!"
"واضح طور پر بتاؤ کیا ہوا تھا!" عابد صاحب بھی ٹھٹکے۔
"میں شو روم میں تھا جب اس کی پروفیسر کا کال آیا۔ انہوں نے بتایا کہ لڑائی کی ہے آج صالحہ نے۔ یونیورسٹی بولایا تھا۔ جانے کے بعد پتہ چلا یہ اور اس کے ساتھ دو اسی کی سہیلیاں۔۔ تینوں نے مل کر مارا ہے دو لڑکیوں کو"
"بیچاری بچیوں کو کچھ ہوا تو نہیں" آمنہ افسوس زدہ تھی۔
"ٹھیک تو ہے نا وہ دونوں" اور عابد صاحب پریشان۔
"کوئی بیچاری ویچاری نہیں ہے وہ دونوں۔ اور وہ بھی تو مار رہی تھی وہ بتاؤ" صالحہ نے دانت پیستے ہوۓ چینخا۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئی تھی۔ چہرے پر پریشانی اور مایوسی چھائی تھی۔ وہ اپنی صورت حال کی وضاحت نہیں دے سکتی تھی، اور یہ سب سے برا احساس تھا جو اسے اداس کر رہا تھا۔ اس نے اپنی آنسوؤں پر قابو پایا تھا۔
"ارے صالحہ باقی بچوں نے خود گواہی دی تھی تم نے اس لڑکی۔۔ کیا نام تھا اسکا۔۔۔۔۔ علیشا۔۔۔ ہاں۔۔ علیشا کو مارا تھا اور تمہاری ایک دوست اسکو پکڑ کر تھی۔ جب کہ تمہیں پتہ تھا وہ بیمار ہے اور وہ۔۔ تمہاری دوسری دوست۔۔ ندا" وہ اپنی بات بھول رہا تھا۔ صالحہ بھی اب کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئ تھی۔ اس اپنا بیگ وہی زمین پر ہی رکھا تھا۔ وہ اپنا منہ دھونے گئی تھی۔
"اسی سے ملاقات ہوئی تھی نا تمہاری جب تم شاعری سنے گئی تھی اور ہم لوگوں نے بھی تو دیکھا ہے اسکی تصویر تمہارے فون میں۔" آمنہ معاملات کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتی تھی۔
"ہاں۔۔ اسنے تو وہ پانچویں لڑکی کا بال ہی لے لیا تھا جیسے" ذاکر نے پھر شکایت کی
"پھر کیا ہوا!" ایک عبداللہ ہی تھا جو سب سے زیادہ پر جوش دکھائی دے رہا تھا۔ صورت حال کو تسلیم کرنے میں اس کی حقیقی دلچسپی صالحہ کے لیے قدرے سخت تھی۔
"پھر کیا اتنے تھپڑ مارے اسے کے ناک سے اور ہونٹوں کے کنارے سے خون آگیا تھا اس لڑکی کا۔" ذاکر قطعی پُرسکون حرکتوں سے اس کی طرف دیکھ کر گزرے حالات کی تشریح کر رہا تھا۔
"دیکھوں، ذرا بھی انسانیت نہیں ہے اس میں تو" عابد صاحب کو اپنی بچی سے اس طرح کی امید نہیں تھی۔
"اس کے علاوہ ایک ہفتے کے لیے نکال بھی دیا ہے یونیورسٹی سے" ذاکر کہ آخری جملہ نے تو سبھی کو حیران کر دیا تھا۔ پریشان صالحہ کی بات پر اب تو کسی کو ویسے بھی یقین نہیں آنے والا تھا۔
"اور لو۔۔ اور بولو بچی ہے بچی ہے تم دونوں باپ بیٹے نے مل کر اس لڑکی کو اتنا سر پر چڑھا لیا ہے۔۔"
صالحہ اپنے روم میں غصہ سے روانہ ہوئ تھی۔ وہ اپنے کمرے میں جاکر رو رہی تھی باہر سب لوگ اس کی برائی ہی کر رہے تھے۔ وہ مباحثوں میں پھنس کر اپنا ذہنی توازن نہیں کھونا چاہتی تھی۔
"بچپن سے ہی ایسی ہے" آمنہ غصہ سے چینخ رہی تھی۔
"اچھا جانے دو میں سمجھادوںگا بچی ہے سمجھ جاۓ گی" عابد صاحب نے آمنہ کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
"ہاں یہی کہوں آپ بس۔۔ یاد ہے چھٹی کلاس میں اس لڑکے کا دانت توڑ دیا تھا اور پھر آٹھویں جماعت میں تو ایسا مارا تھا اس لڑکی کو جیسے انسان نہیں جانور ہو" لیکن وہ خاموش کہا ہونے والی تھی۔ یہ تو اب اس پورے ہفتے ما موضوعِ بحث ہونے والا تھا۔

"سر جب میں گئی تو اتنی بری طریقے سے یہ لوگ لڑ رہی تھی جیسے جنگلی جانور ہو" پروفیسرعافیہ ان شکایتیں کر رہی تھی۔
وہ تینوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔ پورا واقعہ جاننے کے بعد انہوں نے سبھوں کے گارجین کو بلانے کی اجازت دی تھی۔ اس کے علاوہ سب ایک ہفتے کے لیے...

К сожалению, это изображение не соответствует нашим правилам. Чтобы продолжить публикацию, пожалуйста, удалите изображение или загрузите другое.
خواب گاہ Место, где живут истории. Откройте их для себя