غزل ٩

55 3 0
                                    

عشق کے مزاروں پر جب تم پہنچو گے
میرا جو ذکر ہوگا تم بھی رو دو گے

جو گم ہو گی قبر تم بھی بھٹکو گے
ہماری جستجو کو دیکھنا پھر تم سمجھو گے

چوڑیاں پھر کہاں تم پہنو گے
پھر ہاتھوں کو اپنے تم کریدو گے

آئینہ نہ پھر تم دیکھ پاؤ گے
مجھے ہی ہر آئینے میں پاؤ گے

عشق کے فقیروں سے دعا منگاؤ گے
جب وہ دیگا میرا واسطہ پھر بلبلاؤ گے

مزارِ عشق پر مزارِ صوفی پر آؤ گے
عشق ہے انتہا میرا خالی نہ جاؤ گے.


 

ع ش قWhere stories live. Discover now