غزل ١٨

4 0 0
                                    

سنا ہے کسی جوتش نے
اسکی بیچینی کا سبب ہمیں لکھا ہے.

جب ارادا بچھڑنے کا کر چکے
پھر کیا کہ کس نے کیا لکھا ہے

لاکھ تحریروں میں ہمارا نام جڑتا ہو
تمہارے دل نے ہمیں جدا لکھا ہے

ہر مصور نے ہمیں ساتھ تصور کیا
ہر کاتب نے تمہیں بےوفا لکھا ہے.

رب کو کچھ تو دکھا ہوگا
کہ صوفی کو اسنے اپنا لکھا ہے.

You've reached the end of published parts.

⏰ Last updated: Oct 19, 2020 ⏰

Add this story to your Library to get notified about new parts!

ع ش قWhere stories live. Discover now