وسیم بیٹا تم ہی سمجھاؤ اس نے تو خود کو کمرے میں ہی بند کر دیا ہے نہ ٹھیک سے کچھ کھاتا پیتا ہے اس کی ماں الگ اس کی وجہ سے ہر وقت پریشان اور بیمار رہنے لگی ہے باباجان پریشانی سے بولے تھے ۔ انکل آپ فکر نہ کریں میں ابھی اس سے بات کرتا ہوں کہیں باہر لے جاتا ہوں انشاءاللہ ٹھیک ہو جائے گا وہ انہیں تسلی دینے لگا ۔
وہ جس وقت کمرے میں داخل ہوا تو اندھیرا سا تھا اس کی نظر شانی پر پڑی جو کھڑکی کے ساتھ ہی رکھی چئیر کی پشت سے ٹیک لگا کر رف سے حلیے میں بڑھی ہوئی شیو ، چہرے پر اداسی سی آنکھیں موندے بیٹھا تھا اور پاس ہی کارپٹ پر کئی آدھے جلے سگریٹ بکھرے پڑے تھے وہ اپنی ہی سوچوں میں اس قدر گم تھا کہ وسیم کے قدموں کی چاپ بھی نہیں سن سکا تھا ۔ اوئے میرے یار یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اس نے بے ساختہ بند آنکھیں کھولیں ہوں تم کب آئے ہو وہ اس کی آواز پر چونک سا گیا اس کی لال آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ وہ کئی شب سے نہیں سویا ہے ۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر وسیم کا دل تڑپ سا گیا آخر شانی اس کے بچپن کا دوست تھا ۔ یار ابھی آیا ہوں یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے وہ افسوس سے بولا تھا پھر خود بھی چئیر کھنیچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔ لیکن وہ اسے نظر انداز کیے خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھا رہا ۔ یار بھول جا اسے کیوں ایسی حالت بنا کر بیٹھا ہے اسے نے پھر سے کہا ۔
"کیسے بھول جاؤں اسے محبت کرتا ہوں میں نے کوئی دل لگی نہیں کی تھی یہی سوچ کر مجھے کچھ ہونے لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے کسی اور کی زندگی میں شامل ہو رہی ہے مجھے سے دور جا رہی ہے پھر کبھی ہم ایسے نہیں مل سکیں گے جیسے پہلے ملتے تھے پتہ نہیں یار مجھے ایسے لگتا ہے میں اس کے بغیر نہیں رہے سکتا میں اس کا عادی ہو گیا ہوں تو ہی بتا میں کیا کرؤں میرے لیے اسے کسی اور کے پہلو میں دیکھنا بہت مشکل ہے یہ کہتے ہوئے کرب سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔" اس کی یہ حالت دیکھ کر اسے بہت تکلیف ہوئی لیکن وہ بھی اس معاملے میں بے بس سا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے جان سے پیارے دوست کو کیسے سمجھائے ۔ یار میری طرف دیکھ یہ رونا دھونا بند کر وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا " یار تجھے خود کو سنبھالنا ہو گا اپنے لیے نہ سہی لیکن ماں جی اور باباجان کے لیے ہی سہی تو جانتا ہے وہ تیری وجہ سے کتنے پریشان ہیں ماں جی تجھ اس حال میں دیکھ کر پریشان اور بیمار رہنے لگی ہے جب وہ تیرا یہ حال دیکھتے ہیں تو انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے تو ان کا اکلوتا بیٹا ہے وہ تجھے اس حال میں نہیں دیکھ سکتے وہ اسے نرمی سے سمجھنے لگا ۔"
یار دل کے معاملے میں بے بس ہوں میں چاہتے ہوئے بھی اسے نہیں بھولا سکتا وہ انگلیوں کے پوروں سے آنسو صاف کرتے ہوئے شکست خور لہجے میں بولا تھا ۔ بس یہی سمجھ لے اس میں تیری بہتری ہو گئی اچھا یار ابھی تو اٹھ جا جلدی سے فریش ہو جائے میں تجھے لینے آیا ہوں کہیں گھومنے جاتے ہیں پھر ڈنر کر کے واپس آ جائیں گے ۔ یار میرا موڈ نہیں ہے ۔ کیوں موڈ نہیں چل اٹھ جا وہ اسے زبردستی اٹھانے لگا ۔ یار کیا کرتا ہے وہ کھڑے ہوتے ہوئے جھنجھلا کر بولا تھا ۔ دیکھ میں تجھے کہہ رہے ہوں جلدی فریش ہو جا ورنہ اس حلیہ میں ہی تجھے زبردستی اپنے ساتھ لے جاؤں گا وہ اسے وارننگ دینے لگا اور اپنی بات پر قائم رہا ۔ تو بھی میرا دماغ کھانے آ گیا ہے وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا مجبوراً واش روم کی طرف بڑھ گیا کیوں وہ جانتا تھا کہ وہ ایسے اس کی جان نہیں چھوڑنے والا ہے ۔ اس کے جانے کے بعد وہ خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے پرفیوم اٹھا کر چیک کرنے لگا ابھی وہ اپنے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ بجنے والے سیل فون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا جینز کی پاکٹ سے سیل فون نکالتے ہوئے نمبر کو دیکھ کر کال اٹینڈ کی ۔
وسیم یہ بتاؤ کچھ دنوں سے شانی کا نمبر کیوں آف ہے جیسے ہی اس نے کال اٹینڈ کی وہ فکر مندی سے بولی ۔ وہ سحرش کچھ دنوں سے اس کی طبیعت خراب ہے ۔ اسے ہوا کیا ہے اس بار پریشانی سے بولی ۔ کیا بتاؤں تمہیں وہ تمہاری محبت میں پاگل ہو گیا ہے اس نے دل میں سوچا ۔ ہاں بس موسمی بخار ہے ۔ اف اس کی طبیعت بھی میری شادی کے وقت ہی خراب ہونی تھی اچھا تمہاری بات ہو تو اسے کہنا اپنا خیال رکھے اور سیل فون بھی آن کر دے پھر میں سیل فون پر ہی اس کا حال پوچھ لوں گئی اب ملنے تو آ نہیں سکتی ہوں وہ اپنی مجبوری بھی بتانے لگی ۔ ہاں ٹھیک ہے کوئی بات نہیں میں اسے کہہ دؤں گا ۔ اچھا آج رات تم تو میری مہندی پر آ رہے ہو نا ۔ ہاں بھئی کیوں نہیں ضرور آؤں گا شانی کو اس حال میں دیکھ کر اس کا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن وہ اسے بھی انکار نہیں کر سکتا تھا آخر وہ بہت اچھے دوست تھے " اوکے بائے ۔"
کیا سحرش کی کال تھی وہ اب بیڈ پر بیٹھ کر جوگر پہن رہا تھا ۔ ہاں تیرے بارے میں پریشان ہو رہی تھی کچھ دنوں سے تیرا سیل فون جو آف ہے اور کہہ رہی تھی اسے کہنا اپنا خیال رکھے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا جو بے نیازی سے اب تسمے باند رہا تھا ۔ اچھا میرا ایک کام تو کر دینا اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ ہاں بول اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ میری طرف سے کوئی اچھا سا گفٹ خرید کر اسے میرج کی مبارک باد دے دینا اور کہنا شانی کہہ رہا تھا اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ یوں ہی خوش رکھیں اس وقت وہ افسردہ سے لہجے میں سچے دل سے کہہ رہا تھا تو جانتا ہے میرے پاس تو ابھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ اسے کسی اور کے پہلو میں دیکھ سکوں نہ ہی میں اس کا سامنا کر سکتا ہوں اور میں یہ بھی نہیں چاہوں گا کہ کبھی وہ یہ جان پائے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں مجھے امید ہے تو بھی اس بات کو راز ہی رہنے دے گا ۔ بس میرے یار تو اسے کے بارے میں اتنا مت سوچ باقی سب سنبھال لوں گا اور تیرا گفٹ بھی پہنچا دؤں گا ۔
" یار میں کتنا بد قسمت انسان ہوں نا اپنی محبت کو کوئی نام بھی نہیں دے سکا میری محبت بے نام سی رہے گئی ہے اور سحرش کتنی خوش قسمت ہے اسے اپنی محبت بھی مل گئی ہے اور اس کی محبت کو مضبوط رشتے کی صورت میں نام بھی مل گیا ہے ۔" وہ سر جھکائے مایوس سے لہجے میں بولا ۔ یار بس اب کھڑا ہو جائے دیکھنا ایک دن تیری زندگی میں سحرش سے بھی اچھی لڑکی آئی گئی اس کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو تکلیف نہ دے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے سمجھنے لگا ۔ اس بار ایک گہرا سانس خارج کرتے ہوئے خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ اچھا انکل آنٹی کو بھی بتا کر جاتے ہیں وہ بھی یہ دیکھ کر خوش ہو جائیں گے کہ ہمارا بیٹا کمرے سے باہر نکل آیا ہے ۔ اسے کوئی جواب دینے کے بجائے وہ خاموشی سے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور وسیم اسے جاتے دیکھ کر خود لاؤنج میں کھڑا ہو گیا ۔ وہ دستک دیتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔ اس کی نظر باباجان اور ماں جی پر پڑی جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ بیٹا آؤ کھڑے کیوں ہو اسے دیکھتے ہی پیار سے بولے تھے ۔ باباجان میں آپ کو یہ بتانے آیا تھا کہ وسیم کے ساتھ باہر جا رہا ہوں اور ڈنر کر کے ہی آؤں گا ۔ " اس نے مدہم لہجے میں کہا ۔ ماں جی نے اسے غور سے دیکھا وہ پہلے سے کمزور سا لگ رہا تھا اور ہر وقت چہرے پر چھائی مسکراہٹ کی جگہ اس وقت اداسی سی تھی ۔ سوری آپ دونوں کو بھی میری یہ حالت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے وہ ان کے قریب بیٹھتے ہوئے شرمندگی سے بولا تھا ۔ بس بیٹا کیا کریں ہم تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتے ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا ہمیشہ خوش رہے وہ اسے پیار سے دیکھ کر بولیں ۔ آپ پریشان نہ ہوں میں اب بالکل ٹھیک ہوں اس نے سوچا لیا تھا کہ وہ ان کے سامنے نارمل رہنے کی کوشش کرے گا کیوں وہ اپنی وجہ سے انہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
سر ... سر آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے منیجر نے اسے دیکھ کر کہا وہ ابھی کیبن میں داخل ہوا تھا اس کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا ۔ ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں اس نے بھاری آواز میں کہا ۔ آپ بیٹھیں وہ اس کی طرف متوجہ ہوا ۔ جی سر وہ چئیر سنبھالتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوٹ اور آفس بیگ ہاتھ میں تھامے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔ السلام علیکم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر کوٹ اور آفس بیگ بیڈ پر رکھتے ہوئے خود صوفے پر ڈھے سا گیا ۔ وعلیکم السلام وہ خوبصورت کلائیوں میں چوڑیاں پہنتی ہوئی بولی تھی ۔
آپ آج مجھے بہت زیادہ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں آپ کے لیے چائے لے آؤں وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی تھی ۔ آپ ادھر میرے پاس بیٹھ جائیں چائے کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ کو دیکھتے ہی میری ساری تھکن دور ہو جاتی ہے اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے خوشگوار موڈ میں بولا ۔ وہ اس وقت بلیک کلر کے نفیس سے کام والے سوٹ میں ملبوس اور سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے ہلکے میک اپ کے ساتھ زیورات پہنے ہوئے اس حلیے میں بہت خوبصورت لگی رہی تھی ۔ وہ اس کی بات سنتے ہوئے مسکرا کر اس کے قریب ہی بیٹھ گئی ۔ ماشاءاللہ سے آج آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں اسے کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نرمی سے بوسہ دیا ۔ اس کے گال شرم سے گلابی سے ہو گئے ۔ مجھے ایک ڈر سا لگ رہتا ہے کسی دن آپ کو میری نظر ہی نہ لگ جائے اس نے مسکرا کر کہا ۔ اس نے جھکی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا آپ فکر نہ کریں مجھے یقین ہے مجھے آپ کی نظر کبھی نہیں لگ سکتی وہ مسکرا کر بولی ۔ " اچھا جناب ۔" وہ شوخ سے لہجے میں بولا تھا ۔ جی اور اب آپ فریش ہو کر تیار ہو جائیں ہمیں ڈنر کے لیے جانا ہے ۔ شکر ہے آپ نے یاد دہانی کروا دی کہ ہمیں ڈنر کے لیے جانا ہے کیا کریں آپ کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں اس نے گھمبیر سے لہجے میں کہا ۔ اچھا آپ مجھے بعد میں دیکھ لجیئے گا اب جلدی سے تیار ہو جائیں ۔ " اوکے جناب جا رہے ہیں ۔" وہ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
آج ہم میری گاڑی میں جائیں گے وہ سائیڈ ٹیبل سے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتی ہوئی بولی ۔ شکر ہے آج آپ کو اپنی گاڑی کا خیال آ ہی گیا ورنہ مجھے تو لگا تھا آپ کی گاڑی کو زنگ ہی لگ جانا ہے وہ سر پر ریڈ کلر کی سندھی ٹوپی کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا یعنی ہماری بیگم آج ڈرائیونگ کرنے لگی ہیں اسے دیکھتے ہوئے تنگ کرنے کے عرض مسکرا کر کہا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے ڈرائیونگ نہیں آتی ہے ۔ یہ تو میں نے آپ سے نہیں کہا وہ اس کا ہاتھ تھام کر چابی اس کی ہتھیلی پر رکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔ " ہمیشہ یوں ہی مسکراتی رہا کریں آپ مسکراتی ہوئیں اور بھی حسین لگتی ہیں ۔" یہ کہتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔ اچھا آپ چلیں ناں ماں جی اور باباجان انتظار کر رہے ہوں وہ شال اوڑھتی ہوئی بولی تھی ۔
ماں جی اور باباجان لاؤنج میں ہی بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ ماں جی نے انہیں دیکھتے ہی دل ہی دل میں نظر اتاری تھی وہ دونوں ہی لبوں پر مسکراہٹ سجائے ساتھ ساتھ چلتے بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔ " چلیں بابا جان ۔" وہ ان کے قریب آتے ہوئے بولا تھا ۔ جی بیٹا چلیں اور ماشاءاللہ سے ہمارے بچے بہت خوبصورت لگ رہے ہیں باباجان نے ان کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھا ۔ شانی بھی اس وقت لائٹ گرئے کھدر کے شلوار قمیض سوٹ اور بلیک جیکٹ میں ملبوس سر پر سندھی ٹوپی کیے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ باباجان کی بات سن کر دونوں کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو شانی کو کمرے میں نہ پا کر ٹیرس پر چلی آئی جہاں وہ اسموکنگ کرنے میں مصروف تھا آپ پھر سے اسموکنگ کر رہے ہیں اس کے پاس آتے ہوئے کہا ۔ اسے دیکھتے ہی ہمیشہ کی طرح سگریٹ سامنے ٹیبل پر پڑے ایش ٹرے میں مسل دیا ۔ جی کیا کرؤں عادت سے ہو گی ہے اب چھوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں آج دن بھر اسموکنگ نہیں کی لیکن اس وقت شدت سے طلب ہو رہی تھی چاہتے ہوئے بھی کنٹرول نہیں کر پایا اور افسوس کے ابھی دوسری ہی سگریٹ شروع کیا تھا جو آپ کو دیکھتے ہی پھینک دیا اس بار مسکرا کر کہا ۔ یہ اچھی بات ہے آپ نے چھوڑنے کی کوشش کی ہے مجھے امید ہے انشاءاللہ کچھ دنوں تک آپ بالکل ہی اسموکنگ چھوڑ دیں گے وہ یقین سے کہنے لگی ۔ " جی ضرور انشاءاللہ ۔"
جی اب چلیں اٹھیں یہ جو آپ رات کو اتنی ٹھنڈ میں ٹیرس پر بیٹھ جاتے ہیں کسی دن بیمار ہو جائیں گے وہ ہمیشہ کی طرح نرم لہجے میں فکر مندی سے بولی تھی ۔ بھئی آپ اتنی فکر نہ کیا کریں میں بہت سخت جان بندہ ہوں یہ ٹھنڈ مجھے پر کوئی اثر نہیں کرتی اس کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہوتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا ۔
اچھا یہ بتائیں ہنی مون پر کہاں جانا پسند کریں گے ورنہ پھر سے صبح میری شامت آئی ہو گی کہ تم ہماری بیٹی کو ہنی مون پر نہیں لے جاتے ہو اسے کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا ۔ آپ کہہ دیجیئے گا آپ کی بیٹی ہی نہیں جانا چاہتی وہ مسکرا کر بولی ۔ " کیوں بھئی " اس نے حیرت سے دیکھا ۔ آپ بھی بزنس میں مصروف ہیں اور اس سردی میں میرا بھی کہیں جانے کو دل نہیں کرتا تو ہم پھر کبھی چلے جائیں گے ۔ کہیں میری وجہ سے تو نہیں جانا چاہ رہی ہیں ۔ جی ایسی بات نہیں ہے ۔ اچھا جی پھر جب آپ کا دل چاہئے مجھے کہہ دیجیئے گا اب بزنس میں اتنا مصروف بھی نہیں ہوں کہ میرے پاس اپنی وائف کے لیے ہی وقت نہ ہو اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔ جی میں سوچ رہی تھی ہم بہار کے موسم میں ہی کہیں جائیں گئے ۔ " اوکے جناب ہم آپ کو بہار کے موسم میں ہی لے جائیں گے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ ادھر آئیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے وہ ٹی وی آف کرتے ہوئے عائشہ کی طرف متوجہ ہوا جو بیڈ کی چادر چینج کرنے میں مصروف تھی ۔ " جی ایک منٹ ابھی آئی ۔" جی آپ کیا بات کرنا چاہ رہے تھے اس کے سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گئی ۔ آج لنچ کے مینیو میں کچھ خاص تیار کجیئے گا میری ایک فرینڈ آ رہی ہیں ۔
ماں جی کے منع کرنے کے باوجود بھی آج کل وہی کھانا تیار کرنے لگی تھی اس لیے شانی نے بھی اسے سے کہا ۔ " جی ٹھیک ہے ۔" آپ بھی سوچ رہی ہوں گئی پتہ نہیں اب ان کی کون سی فرینڈ ہے ۔ جی نہیں میں تو ایسا کچھ نہیں سوچ رہی ہوں وہ مسکرا کر بولی ۔ ویسے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں آپ کی جگہ کوئی اور لڑکی میری وائف ہوتی وہ تو میرا گلہ ہی دبا دیتی کہ آپ میرے ہوتے ہوئے گرلز سے فرینڈشپ رکھتے ہیں اس کی بات پر مسکرا کر بولا ۔ چلیں میں خود ہی بتا دیتا ہوں یہ وہ فرینڈ ہیں جن سے میں کبھی محبت کا اظہار نہیں کر سکا تھا اور یہی وہ لڑکی ہیں جن کو میں بھولنے کی کوشش کرتا ہوں وہ پھر سے میری زخم تازہ کرنے چلی آتی ہوں میں کتنا بے بس ہوں اسے روک بھی نہیں سکتا اس بار افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ اس کی بات سن کر اٹھ کر اس کے برابر ہی صوفے پر بیٹھ گئی ۔ یوں اداس نہ ہوا کریں آپ جب اداس ہوتے ہیں تو مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے آپ ہمیشہ مسکراتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اسے بہلانے کی کوشش کی تھی ۔ اس نے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا جو محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ " اور مجھے یقین ہے آپ ایک دن اسے بھول جائیں گئے کیونکہ آپ کو میری محبت مجبور کر دی گئی کہ اسے دل کے کسی کونے میں دفن کر دیں ۔" وہ مضبوط لہجے میں بولی ۔ اس کی بات سن کر چہرے پر چھائی افسردگی ختم ہو گئی اور بے ساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی ۔ " آپ خود تو اچھی ہیں ہی سہی لیکن باتیں بھی بہت اچھی کر لیتی ہیں آپ کی یہی باتیں تو مجھے آپ کا اسیر بناتی جا رہی ہیں ۔" اس نے خوشگوار موڈ میں کہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دستک دیتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا باباجان اور ماں جی بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔ وہ میں آپ لوگوں سے ایک بات کرنا چاہ رہا تھا کچھ سوچتے ہوئے ان کو دیکھ کر بات شروع کرنے لگا ۔ جی بیٹا اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے ماں جی محبت بھرے لہجے میں بولیں ۔ آج کل سحرش پاکستان آئی ہوئی ہے ۔ ماں جی نے سحرش کا نام سنتے ہی اسے حیرت سے دیکھا اس کے چہرے کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی جسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ کوئی گھر میں سحرش کا نام لے وہ عام سے لہجے میں اس کے بار میں بات کر رہا تھا ۔ وہ ہم سب سے ملنا چاہتی تھی آج ہمارے گھر آنا چاہ رہی تھی تو میں نے سوچا لنچ پر انوائٹ کر دؤں ۔ باباجان بھی اس کی بات سن کر حیران رہے گئے تھے ۔ شانی تم جانتے ہو اب میں یہ سب پسند نہیں کرتی کہ سحرش ہمارے گھر آئے ماں جی نے فوراً احتراز کیا کیونکہ وہ آج تک اپنے بیٹے کی تکلیف کو نہیں بھولیں تھیں ۔ ماں جی میں جانتا ہوں آپ یہ سب کچھ میری وجہ سے کہہ رہی ہیں یہ آپ بھی جانتی ہیں سحرش کا تو کوئی قصور نہیں ہے مجھے اس سے محبت ہوئی تھی ویسے بھی ماں جی وہ میرا ماضی تھا آپ اسے بھول جائیں وہ انہیں نرمی سے سمجھنے لگا ۔ بیگم شانی ٹھیک ہی کہہ رہا ہے ماضی کو یاد رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے وہ بچی ہم سے ملنا چاہ رہی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے باباجان بھی انہیں سمجھنے لگے ۔ ماں جی آپ جانتی ہیں وہ شادی کے بعد بھی وہی سحرش ہے جو آپ سے بہت محبت کرتی تھی جسے آپ پسند کرتی تھیں انہیں خاموش دیکھ کر پھر سے کہنے لگا ۔ شانی بیٹا کیسے بھول جاؤں اس کی وجہ سے تمہیں تکلیف میں دیکھ کر مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی یہ تم نہیں سمجھ سکتے وہ خاصے جذباتی لہجے میں بولیں ۔ ماں جی میں سمجھ سکتا ہوں میری خاطر ہی سب کچھ بھول جائیں دیکھیں میں اپنی زندگی میں اب خوش ہوں اس کے آنے جانے سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے وہ اپنے جذبات چھپائے مضبوط لہجے میں بول رہا تھا اور ماں جی ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ رہیں گئے میں اسے لنچ پر انوائٹ نہیں کرتا تو اس نے پھر بھی آنا تھا جس طرح شادی کے بعد سڈنی جانے سے پہلے آئی تھی ۔ " کیا تم ماضی کو بھول گئے ہو ۔" ماں جی نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ " جی ہاں ۔" اس نے مسکرا کر مضبوط لہجے میں بولتے ہوئے ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی ۔ بیگم اب مان بھی جائیں سحرش بیٹی کے خلوص کو مت جھٹلائیں وہ بچی تو بے قصور ہے یہ بات جانتی ہی نہیں ہے ۔ آپ سب ماضی بھول گئے ہیں تو میں بھلا کیوں یاد رکھوں گی اس بار ماں جی مسکرا کر بولیں تھیں آخر کار ان کی باتوں نے اثر کر ہی دیا تھا انہیں لگا شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں ۔ ان کی بات سن کر باباجان اور شانی کے چہرے پر بھی اطمینان بھری مسکراہٹ چھا گئی ۔
اچھا شانی سحرش کے بارے میں عائشہ سے تو کوئی بات نہیں کی نا کچھ خیال آتے ہی ماں جی بولیں تھیں ۔ ماں جی عائشہ کو میں سحرش کے بارے میں سب کچھ بتا چکا ہوں اس نے سنجیدگی سے کہا ۔ کیا ماں جی نے حیرت سے اسے دیکھا ۔ " جی ماں جی ۔" میرے خیال میں یہ بات چھپانے والی نہیں تھی ۔ بیٹا یہ تم نے اچھا نہیں کیا اس بچی کے دل پر کیا گزری ہو گئی ماں جی افسوس سے بولیں ۔ ماں جی آپ اپنی بچی کی اتنی فکر نہ کریں اس کے دل کو کچھ نہیں ہوا کیا اسے دیکھ کر کبھی آپ کو ایسا کچھ لگا وہ بہت سمجھ دار ہے اور یہ کہ اب آپ ہماری فکر کرنا چھوڑ دیں ہم دونوں ہی بہت خوش ہیں اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ سچ کہہ رہے ہو ماں جی نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔ ماں جی آپ سے میں بھلا جھوٹ کیوں بولوں گا بلکہ میں تو بہت خوش نصیب ہوں کہ عائشہ جیسی لڑکی میری زندگی میں شامل ہوئی ۔
شانی بیٹا ٹھیک ہی کہہ رہا ہے آپ کو ایسے ہی وہم سا ہے باباجان جو خاموشی سے ان کی باتیں سن رہے تھے اس بار ان دونوں کو دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں مارکیٹ جارہا ہوں آپ نے کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں یا میرے ساتھ آنا چاہتی ہیں تو جلدی سے تیار ہو جائیں سائیڈ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کہا ۔کچھ چیزیں لینی تو تھی میں آپ کو لسٹ بنا دیتی ہوں آپ لیتے آئیے گا ۔ آپ کیوں نہیں آنا چاہ رہی ہیں ۔ مجھے کچھ کام بھی ہیں اور لانچ بھی تیار کرنا ہے میں آپ کے ساتھ گئی تو کہیں لیٹ ہی نہ ہو جائیں اور پھر اگر آپ کی فرینڈ آ گئیں تو نہ آپ ہوں گے نہ میں پھر ایسے اچھا نہیں لگتا ۔ جی یہ بات بھی ٹھیک ہے چلیں پھر آپ لسٹ ہی بنا دیں وہ شیشے کے سامنے کھڑا ہاتھ سے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے بولا تھا ۔
صبح کے دس بج رہے تھے بلیک جینز اور گرئے شرٹ میں ملبوس عادل خوبصورت لان میں واک کر رہا تھا کہ سائرہ کا خیال آتے ہی سیل فون جینز کی پاکٹ سے نکال کر اس کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے لان میں موجود چئیر پر بیٹھ گیا ۔
"ہیلو ڈئیر کزن اب طبیعت کیسی ہے ؟"
مجھے جگا کر میرا حال پوچھتے ہو وہ جمائی روکتی ہوئی مدہم لہجے میں بولی تھی ۔ سوری مجھے اس بات کا خیال ہی نہیں آیا کہ تم ابھی سو رہی ہو گئی اس نے شرمندگی سے کہا ۔ ہوں میں نہیں جانتا اس کی نقل کرتے ہوئے بولی ۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی ۔ ویسے تمہیں میری طبیعت کے بارے میں کس نے بتایا ۔ جناب میرا تم سے دل کا رشتہ ہے تم نہ بھی بتاؤ تو مجھے خبر ہو جاتی ہے وہ شوخ سے لہجے میں بولا ۔ پھر سے تمہاری فضول باتیں شروع ہو گئی ہیں وہ ہمیشہ کی طرح چڑ گئی تمہیں میرے بارے میں ضرور پھپھو جان نے بتایا ہو گا ممی بتا رہی تھیں کل شام کو ان کی کال آئی تھی لیکن میں اس وقت سو رہی تھی ۔ تمہاری پھپھو جان نہ بتاتیں تو مجھے خبر پھر بھی ہو جاتی اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ تم نے اگر یہی باتیں کرنی ہے تو پھر میں سیل فون آف کر رہی ہوں اس نے دھمکی دی ۔ اوکے جی کچھ نہیں کہتا اس بار لگتا ہے فرانس اور سپن گھوم کر تمہیں کچھ زیادہ ہی تھکاؤٹ ہو گئی ۔ نہیں ٹمپریچر تو بس ویسے ہو گیا ہے مجھے تھکاوٹ تو بالکل نہیں ہوئی ۔ اوکے میڈیسن لی ہے اور طبیعت کیسی ہے ۔ ہاں ممی نے زبردستی کھلا دی ہے وہ منہ بناتی ہوئی بولی اور طبیعت پہلے سے بہتر ہے ۔
اچھی بات ہے میڈیسن لو گئی تو جلدی سے ٹھیک بھی ہو جاؤ گئی اسے سمجھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا ۔ اچھا پھپھو بھیا سب کیسے ہیں ۔ بالکل ٹھیک ہیں اوکے اب تم ریسٹ کرؤ میں شام کو کال کرتا ہوں ۔ " اوکے بائے ۔"سیل فون رکھتے ہوئے پھر سے کمبل تان کر سو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
YOU ARE READING
Benaam Mohabbat ( بے نام محبت )
RomanceComplete Novel The topic of Love and Sacrifice
