باب اول

497 9 3
                                        

وہ چاروں دوستے اپنے آخری پیپر دے کر باہر نکلی تھی آج ان کی دسویں جماعت کا آخری پیپر تھا تینوں  دوست بہت خوش تھی سوائے آنم کہ

انابیہ = بے آنم تیرا کیوں منہ سوجا ہے وہ بھی دس کیلو کا😂 نہ کر ہم مر جائے گے تیرا منہ اٹھا کہ

انابیہ کی بات پر  رابی٬ عائشہ نے زور دار قہقہہ لگایا

انابیہ شوخ سی تھی کبھی  سیریس موقعہ ہوتا تو اس کے دماغ میں ایسے شیطانی خیالات آ تے کے اس سے  ہنسی روکنا مشکل ہو جاتی

انابیہ = آنم کو بول کر کینٹین کی طرف چالے گی اس چیز سے بے خبر کے آنم اس کے پیچھے کاروائی ڈالنے آ رہی ہے

عائشہ اور رابی آنم کو ہی دیکھ رہی تھی جو ان کو اشارہ کر کے گی  تھی کہ کچھ مت بولنا  لیکن دوست اپنی دوستی سے مجبور رابی نے زور دار آواز
دی

انابہیییییییی

انابیہ رابی کی آواز پر پلٹنے کو تھی کے آنم نے اپنی کاروائی کر ڈالی آنم نے انابیہ کے زور سے بال کھینچے انابیہ جو اپنے بال جوڑے کی شکل میں بناکر آئی تھی اب اس کی کمر پر کیسی آبشار کی طرح  گرے پڑے تھے اپنی خوبصورتی سے انجان سب کچھ بھول کر ہیرانگی سے آنم کو دیکھ رہی تھی جسے پوچھ رہی ہوں کہ یہ کیا ہرکت ہے

انابیہ کی حالت دیکھ کر عائشہ ٬ آنم ٬ اور رابی نے زور دار قہقہہ لگایا اس وقت انابیہ خوبصورت دیوانی لگ رہی تھی اپنی حالت سے بے خبر وہ آنم کے پیچھے بھاگی

آنم کی بچی تجھے میں چھوڑوں گی نہیں

پہلے پاکڑ تو لے آنم نے بھاگتے ہوئے آواز لگائی

آنم٬ عائشہ ٬ رابی ٬ انابیہ یہ چاروں اسکول فرینڈز تھی انہوں نے کبہی اپنے بیچ میں کیسی کو نہیں
آنے دیا اور یہ ان کی خوش فہمی تھی

وہ اس وقت جرمنی کے مشہور ترین جگہ( بلیک فوریسٹ) میں آ یا ہوا تھا بلیک فوریسٹ جرمنی کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک تھی کالے  پہاڑ سرسبز وادی ڑھنڈی ہوا جو انسان کو اندر تک پر سکون کر دے اس نے  ٹھنڈی ہوا اپنے اندر خارج کی اور بے اختیار آسمان کو دیکھ کر لبوں سے بے اختیار
خوبصورت الفاظ نکلے
فبی ای الاء ربکما تکذبان
 

فبی ای الاء ربکما تکذبان

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

یہ الفاظ وہ اللہُ تعالیٰ کی خوبصورتی کو جب بھی دیکھتا تبھی اس کے منہ سے یہ الفاظ جاری ہوتے  ایسا نہیں تھا کہ اس کے دوست نہیں تھے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہی زیادہ وقت گزرتا تھا  لیکن جب کوئی جگہ گھومنے جاتا تو اکیلے جاتا وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اکیلے گھمنا اور اکیلے رہ نہ زیادہ پسند کرتے تھے وہ کہتے ہیں نہ بے وفا لوگوں سے بہتر  ہے تنہا رہ  نہ کیسی کے دھوکے کا ڈر نہ کیسی کہ چھوڑ جانے کا خدشہ

حمدان تم اٹھ رہے ہوں یہ میں تمہارے کمرے میں آؤ
کیا ہے امی سونے دینا ابھی ہانیہ بیگم کچن سے اپنے اکلوتے بیٹے کو آواز لگا رہی تھی جسں کے ارادہ سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ جوتے کھائے بغیر نہیں اوٹھے گا آج تو میں ایسے چھوڑوں گی نہیں اتنے جوتے مارو گی کے یاد کرے گا کہ اس کی ماں بھی ہانیہ بیگم ہے وہ نیک ارادہ بنا کر بہر کی جانب جاہی رہی تھی کہ زور دار ٹکر ہونے سے پہلے ان کے سپوت نے ان کو گرنے سے بچا لیا

کالے بال گورا رنگ گہری آنکھیں لمبا کد  بلاشبہ وہ ایک خوبصورت آدمی تھا جو کیسی کو بھی اپنی طرف باآسانی  متوجہ کرسکتا تھا

ہانیہ بیگم نے بہت غور سے اپنے بیٹے کو دیکھا

حمدان= کیا ہوا امی جان میری خوبصورتی میں کھوگی کیا

ہانیہ بیگم جو حمدان کو ہی گھور رہی تھی حمدان نے اس انداز سے بولا کے ہانیہ بیگم کی ہنسی چھوٹ گئی

حمدان ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا حمدان کے والد ایک بزنس مین تھے اور حمدان جرمنی کی مشہور یونیورسٹی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونچ  کا طالب علم تھا وہ پورا دن  یا اپنی محبت سے باتیں کرنے میں  یا پھر دوستوں میں گزارتہ ایسی وجہ سے اس کے ماں باپ کو اس سے شیکایت ہوتی کے وہ انہی  ٹائم نہیں دیتا

حمدان ایک اچھا اور عزت کرنے والا لڑکا تھا لیکن کہتے ہیں نہ۔

غلط صحبت اور غلط انسان سے محبت انسان کو برباد کر دیتی

حمدان کچن میں پڑی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور فوراً ہانیہ بیگم  سے فرمائش کی چلیں  ماما جلدی اپنے بیٹے کو اپنا ہاتھ کا پراٹھا بنا کر دے بہت بھوک لگ رہی ہے

اس کی فرمائش پر ہانیہ بیگم بہت خوش ہوئی بہت دن باد ان کے بیٹے نے ان سے فرمائش کی تھی جس سے وہ بہت خوش تھی اور ایسی خوشی  میں  انہوں نے جلدی جلدی پراٹھے بنانا شروع کیئے

ماں بھی کتنی پیاری ہستی ہوتی ہے نہ اپنی اولاد کی خوشی کے لیے پوری زندگی اولاد کی تربیت اور اولاد کی خوشی میں گزار دیتی ہے

ہانیہ بیگم بھی تمام ماؤں جیسی تھی لیکن ان کی اولاد کو اپنی ماں کی قدر نہیں  تھی جو وقت حمدان  مصطفی کو بہت جلدی کر وانے والا تھا۔   

Assalam e Alaikum Readers🤩

Kesa Han aap sub log 

It's my first novel agar acha lagae tu voting kar na mat bhoulna or comment bhi karna
Mujah acha lagae ga
Write by Rabisha shamshad call me
      Rabi Rajput 💞 don't forget to follow on Instagram rabi_Says

نصیب ہے ایمانStories to obsess over. Discover now