حمدان کو انابیہ کہ آنسوؤں نے بہت تکلیف دی تھی
وہ بس یہ چاہتا تھا کہ انابیہ اس کے جانے پر روئے نہ بلکے خوشی خوشی رخصت کرے اس لیے حمدان
نہ اس کو پہلے سے نہیں بتایا تھا لیکن اس وقت حمدان کو اپنی ہی حرکت پر دکھ ہوا تھا اور افسوس بھی کہ کاش وہ پہلے سے بتا دیتا تو آج اس کو انابیہ کہ آنسوؤں کی تکلیف برداشت نہ کرنی پڑتی
انابیہ نہ نیچے منہ کر کے اپنے نہ ختم ہونے والے آنسوؤں کو روکا انابیہ کہ آنسوؤں کو بس حمدان نے دیکھا تھا کوئی اور انابیہ کو روتا ہوا دیکھتا اس سے پہلے ہی انابیہ فریش ہونے کا بہانا کرکے چلے گی انابیہ کو لگا کہ اس کہ آنسو کیسی نے نہیں دیکھے لیکن اس کہ آنسو اس نے دیکھ لیے تھے جو
اس کے دل کے بہت قریب تھا لیکن وہ بھی کچھ وقت کہ لیے اگر انابیہ کو اس بارے میں پتا ہوتا تو
انابیہ اس ظالم شخص کو کبھی اپنے اس دل میں جگہ نہ دیتی انابیہ نے بہت کوشش کی کہ حمدان کو وہ اپنے دل میں جگہ نہ دے لیکن حمدان ان لوگوں میں سے تھا جو دوسروں کے دل میں اپنی جگہ خود بناتے ہیں حمدان نے انابیہ کو اپنی ہمیشہ سے دوست نہیں بلکے محبت سمجھا تھا جس کا انابیہ کو خوب اندازہ تھا حمدان اس کی کیر ایک دوست کی طرح نہیں بلکے کیسی قیمتی شہہ کی طرح کرتا تھا اور "محبت سے زیادہ قیمتی چیز اور کیا ہو سکتی ہے “
ہانیہ بیگم لاونج میں واپس جاچکی تھی اور انابیہ وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گھوسی اور دروازے کو لوک کر لیا اور اس کی اب تک کی حرکت کو حمدان مصطفی نے باخوبی دیکھا تھا حمدان مصطفی نے دیکھا کہ اس کی محبت اس سے دور ہورہی ہے اس نے دیکھا کہ اس کی ایک غلطی کی وجہ سے اس کی زندگی اس کی انابیہ کے آنکھوں سے آنسو نکلے ہیں جن کی تکلیف صرف انابیہ کو ہی نہیں بلکہ حمدان مصطفی کو بھی ہوئی تھی
حمدان نے انابیہ کے روم کی طرف قدم بڑھائیں ہی تھے کہ اتنے میں مصطفی صاحب نے حمدان کو کیسی کام کے لیے بولا لیا حمدان کا دل چاہا وہ منا کر دے وہ منا کر دے کے تب تک اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تک وہ انابیہ کی ناراضگی دور نہیں کر لیتا
لیکن حمدان یہ نہیں کر سکتا تھا وہ ہرگز اپنے والد کی بات کو رد نہیں کرسکتا تھا اس لیے حمدان کے قدم جو انابیہ کے روم کی طرف بڑھنے والے تھے اب اس کے والد کی جانب تھے حمدان نے دل پر پتھر رکھ کر مصطفی صاحب کی طرف قدم بڑھائے اور
دوسری طرف انابیہ نے دروازے کو لوک لگایا اور دروازے سے چپک کر بٹھتی چلی گئ جن آنسوؤں کو وہ کنٹرول کر رہی تھی اب وہ آنسو کنٹرول سے باہر تھے انابیہ دروازے سے چپک کر اپنے دونوں گھوٹنو پر سر رکھ کر بہت سارا رو روئیں اس نے یہ جان لیا تھا کہ کوئی کیسی کا نہیں ہوتا انسان کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا پڑتا ہے انسان اپنا خود ایک
بہترین دوست ہے اور انسان ہی ہے جو اپنے ساتھ وفا والی محبت نبھا سکتا ہے اس کہ علاوہ اور کوئی نہیں یہ بات انابیہ نے جان لی تھی
انابیہ ابھی یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ زور سے اس کا دروازہ بجا انابیہ چونک کہ اپنی سوچوں سے
باہر آئیں اپنے آنسو خوشک کیا اپنی آواز کو ٹھیک کیا تاکہ کیسی کو پتا نہ چلے کے وہ رورہی ہے
YOU ARE READING
نصیب ہے ایمان
HumorYa story real base Han Kahani aak Kam confidence or overthinker ki ju sirf khoub dakhti thi aus ki khoushi aus ka khoub tha phir chahi wo khoub pura hu ya na hoi wo apna khoub ma rahana wali larki thi aus ko indaza nhi tha ka khoub kiya huta Han or...
