باب 5

106 1 2
                                        

عائشہ نے غصہ کنٹرول کرکے حمدان کو بنانا چاہا  

عائشہ= حمدان تم سمجھ کیوں نہیں رہے میں تمہیں اس کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتی عائشہ نے
اس آواز میں بولا جیسے وہ ابھی رودے گی عائشہ جانتی تھی اس کے ایسا کرنے پر حمدان پریشان ہو جائیں گا اور ایسا ہی ہوا تھا

حمدان = دیکھو عائشہ ایسا مت کرو تم جانتی ہو
تمھارے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں

عائشہ نے اپنی اوور ایکٹنگ جاری رکھی

عائشہ= کوئی تکلیف نہیں دیتے  میرے آنسو جھوٹ
بول رہے ہو تم اگر اتنی محبت ہوتی تو  تم فوراً اسے
چھوڑ دیتے

حمدان نے پریشانی سے اپنے دائیں ہاتھ کا مکہ بنا کر
دیوار پر مارا حمدان پریشان آ گیا تھا عائشہ کے روزانہ کی ایک ہی فرمائش پر وہ عائشہ کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں جس سے وہ یقین کر سکے کہ  انابیہ نے اس سے بے وفائی کی ہے بے شک  حمدان عائشہ کو پسند کرتا تھا لیکن
انابیہ سے وہ  بہت محبت کرتا تھا لیکن اس بات کا اندازہ حمدان کو خود بھی نہیں تھا کہ اس کا دل صرف ایک نام سے دھڑکتا ہے اور وہ ہے انابیہ

لیکن اسے اس وقت بس عائشہ کے آنسو نظر  آ رہے تھے اس وقت حمدان کو  انابیہ سے سے بے حد نفرت
محسوس ہوئی تھی لیکن وہ کیا کرتا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا انابیہ صرف اس کی منگیتر ہی نہیں بلکہ اس کی کزن بھی تھی اس کے مرحوم چچا کی
بیٹی بھی تھی

حمدان = عائشہ مجھے وقت دو بس تھوڑا سہ میں
سب ٹھیک کر دوں گا میں صرف تمھارا ہو میرا
یقین رکھو

حمدان کی اس بات  پر

عائشہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی

یہ مسکراہٹ اگر حمدان دیکھ لیتا تو صاف عائشہ کی مکاری جان جاتا

اور عائشہ دل ہی دل میں  یہ سوچ رہی تھی کہ جو شخص اتنی سالوں سے اپنی منگیتر پر یقین نہ کر سکا اور اس کی ہلکی سی بدگمانی سے اس کی طرف مائل ہوگیا وہ میرا کیا ہوگا اگر عائشہ کا کام
پورا ہوچکا ہوتا تو یہ بات وہ حمدان کے منہ پر بولتی لیکن ابھی حمدان سے بہت کام باکی تھا ابھی
ایسے اپنی دوست کا غرور توڑنا تھا اس کے چہرے کی مسکراہٹ چھینی تھی عائشہ نے اپنی روتی ہوئی آواز میں ایکٹنگ جاری رکھی

عائشہ = ٹھیک ہے حمدان تمھارے پاس دو دن کا ٹائم ہے انہیں دو دن میں فیصلہ کرو ورنہ بھول جانا
مجھے

حمدان کو عائشہ کی بات سے ‏شوکٹ لگا تھا عائشہ نے کتنی آسانی سے رشتہ توڑنے کی بات کرلیں تھی
حمدان کو بے اختیار  انابیہ یاد آئی حمدان اگر کبھی
انابیہ سے ناراض ہو جاتا تو انابیہ رو رو کر برا ہال  کر دیتی اپنی طبیعت خراب کرلیتی عائشہ کے چھوڑنے والی بات سن کر حمدان نے کال کاٹ دی تھی اور اب اس کی سوچ کا مرکز انابیہ تھی

نصیب ہے ایمانWhere stories live. Discover now