حمدان جو اپنی سوچوں میں گم تھا اچانک گاڑی کے ہورن کی آواز سن کر اپنی سوچوں سے باہر نکلا
حمدان نے پہلے اردگرد نظر دوڑائیں لاونج میں کیسی کو نہ پاکر وہ گھر کے مین ڈور کی طرف بڑھ
گیا
مصطفی صاحب ، ہانیہ بیگم نے گھر جاتے وقت اس لیے ہی حمدان کو چلنے کا نہیں بولا تھا تاکہ جب تک وہ باہر لاون میں صابرہ بیگم سے بات کر رہے ہیں تب تک حمدان انابیہ کو اچھے سے خدا حافظ
بول کر آجائے گا لیکن حمدان کو کافی دیر تک نہ آنے کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھ نے کہ بعد مصطفی صاحب کو حمدان کو بولا نے کے لیے ہورن دینا پڑا
کیسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ حمدان
بس سوچ رہا تھا انابیہ سے ملنے کی لیکن شرمندگی
کی وجہ سے مل نہیں پایا تھا
حمدان گاڑی کی بیک سیٹ پر آکر بیٹھ گیا آج حمدان اپنی گاڑی میں نہیں بلکے مصطفی صاحب کی گاڑی میں آیا تھا وہ آخری دفعہ پاکستان میں اپنے والدین اور انابیہ کے ساتھ آخری دفعہ کہی گھومنے کا پلان بنا کر آیا تھا لیکن جو ہم سوچتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ہو حمدان کہ ساتھ بھی یہ ہی ہوا تھا جو سوچ کہ آیا تھا وہ ہوا نہیں تھا اور جو ہوا تھا اس کا تو دور دور تک گمان بھی نہیں تھا اسے مصطفی صاحب کو یہی لگا کہ وہ انابیہ سے مل کر آیا ہے اس لیے مصطفی صاحب نے حمدان کو چیھڑنہ مناسب سمجھا
مصطفی صاحب = کیوں بھئی حمدان میاں آپ کے ارادوں سے تو نہیں لگ رہا تھا کہ آپ کا آنے کا کوئی موڈ ہے
مصطفی صاحب کی بات پر حمدان جیھپ گیا وہ کیا بتاتا جیسے وہ سوچ رہے ہیں ایسا بلکل نہیں ہے
اس سے پہلے حمدان جواب دیتا مصطفی صاحب خود بول پڑے اگر انابیہ چھوٹی نہ ہوتی تو میں اس کا تمہاری ساتھ نکاح پڑوا کر اپنے ساتھ جرمنی لے جاتا
مصطفی صاحب کی بات پر پتا نہیں کیوں لیکن حمدان
کو حیرانی ہوئی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے ماں باپ کو اس سے زیادہ جلدی ہیں
حمدان سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں ہانیہ بیگم بول پڑی حمدان تم نے پوچھا انابیہ سے وہ خوش تو ہیں
اپنے اور تمہارے رشتے سے ؟؟
ہانیہ بیگم کہ سوال پر حمدان کا دل چاہا خود پر ہزار بار لعنت بھیجے آج اس کو انابیہ سے جتنی ضروری باتیں کرنی تھی اس سے کہیں زیادہ وہ انابیہ کو ہارٹ کر کے آ گیا تھا
حمدان سوچیں انابیہ کے گرد ہی گھوم رہی تھی کہ اتنے میں حمدان کا گھر آگیا
حمدان گھر میں جانے کے بجائی لون میں بیٹھ گیا
ہانیہ بیگم نے گھر میں جاتے ہوئے حمدان کی طرف نظر ڈالی تو ان کو تشویش ہوئی کیوں کہ حمدان شام
کے ٹائم بہت کم لون میں بیٹھتا تھا اس لیے ہانیہ بیگم نے حمدان کو آواز لگائی
حمدان تم تو شام میں لون میں کبھی نہیں بیٹھتے
ہو آج کیا بات ہوگئی سب ٹھیک ہے نہ ؟؟؟
ہانیہ بیگم کے انداز میں خاصی تفتیش تھی
YOU ARE READING
نصیب ہے ایمان
HumorYa story real base Han Kahani aak Kam confidence or overthinker ki ju sirf khoub dakhti thi aus ki khoushi aus ka khoub tha phir chahi wo khoub pura hu ya na hoi wo apna khoub ma rahana wali larki thi aus ko indaza nhi tha ka khoub kiya huta Han or...
