باب 13

71 4 0
                                        

انابیہ کی سمجھ نہیں آرہا تھا کرے تو کرے کیا حمدان کی مسکراہٹ سے ہی پتا چل رہا تھا کہ اس نے سب کچھ سن لیا ہے انابیہ کا حمدان سے نظریں ملانا مشکل ہوگیا تھا انابیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کے زمین میں گڑ جائے یا کہی چپ جائے

انابیہ ابھی بھاگنے کا بہانا سوچ ہی رہی تھی کہ اتنے میں صابرہ بیگم کمرے سے ہاتھ میں چپل لے کر نمودار ہوئی

صابرہ بیگم = چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں اندر آؤ واپس انابیہ اچانک سے بولتے بولتے صابرہ بیگم کی بولتی بھی بند ہوئی

صابرہ بیگم = ارے حمدان بیٹا آپ کب آئے آؤ بیٹھو بیٹا

حمدان جو کب سے انابیہ کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا اپنی نظروں کا روخ صابرہ بیگم کی طرف کیا

حمدان = نہیں نانی بس میں انابیہ کو لینے آیا تھا بات ہوئی آپ کی بابا سے

صابرہ بیگم = ہاں بیٹا ہوں گئی تھی میری مصطفی سے بات آپ لےجاؤ انابیہ کو !

صابرہ بیگم کی بات پر انابیہ نے سوالیہ نظروں سے
صابرہ بیگم کی طرف دیکھا ؟

جس پر صابرہ بیگم نے انابیہ کے کان پر ہملا کیا

انابیہ جو سوالیہ نظروں سے صابرہ بیگم کو دیکھ رہی تھی اچانک ہملا ہونے پر چیخ پڑی

انابیہ= نانییییی اب میں نے کیا کیا چھوڑ دی درد ہو رہا ہے

صابرہ بیگم = اگر تم انسانوں کی طرح بات مان لیتی تو مجھ سے پوچھ نہ رہی ہوتی کہ حمدان تمہیں کہاں لے جانے کی لیے آیا ہے

اب کے انابیہ نے حمدان کی طرف دیکھا کیوں کہ صابرہ بیگم سے پوچھنے کا نقصان وہ بھگت چکی تھی

حمدان = تمہیں یاد نہیں انابیہ میں نے تم سے پرومس کیا تھا کہ تمہیں آئسکریم کھلانے لے کر جاؤ گا

انابیہ = ہاں کی تھی لیکن آپ نے بات نہیں بتائے تھی

حمدان = یہی وہ خوشی تھی جس کا تمہیں آج پتا چلا ہے

انابیہ = کون سی خوشی ؟؟ ( انابیہ نے جیسے اس کے منہ سے سنا چاہا)

حمدان = آآآ میرے خیال سے اگر ہم ایسے ہی باتیں کرتے رہیں تو لیٹ ہو جائے گے

صابرہ بیگم = ہاں حمدان ٹھیک کہہ رہا ہے جاؤ جاکر
جلدی تیار ہوں کر واپس آؤ اور حمدان کے ساتھ جاؤ

حمدان کے بات گھمانے سے انابیہ کو شدید غصہ آیا تھا ابھی تک جو وہ خوش ہو رہی تھی آئسکریم کے چکر میں اب برا سہ منہ بنا کر انکار کرنے کے موڈ میں تھی کہ اچانک صابرہ بیگم نے اس کے عجیب سے منہ بنانے  پر انابیہ کو آنکھیں دیکھائی

جس پر انابیہ کو چپ چاپ تیار ہونے جانا پڑا

پانچ منٹ بعد انابیہ اپنے کمرے سے آتی ہوئی نمودار ہوئی (بلیک کلر کی سیپل سی فروق جس پر ہلکا گولڈن کلر کا کام ہوا وہ تھا گلے میں بلیک کلر کا دوپٹہ بلیک کلر کا ٹائٹس انابیہ پر جج رہا تھا انابیہ کیوں کہ چھوٹی تھی اس لیے ابھی تک صابرہ بیگم نے اسے میک اپ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا اور انابیہ کو میک اپ کا
شوک بھی نہیں  تھا اس لیے میک اپ سے پاک چہرا پاؤ میں بلیک کلر کے پمپس پہنے انابیہ کیسی پری جیسی لگ رہی تھی )

نصیب ہے ایمانStories to obsess over. Discover now