#Do_not_copy_paste_without_my_permission
#حصارِ_یار
#رابعہ_خان
#تیسری_قسط”شاہ نواز“
”جی صاحب جی۔۔“
”مجھے نفیس احمد کی زندگی کا ہر پہلو لا کر دو۔ وہ کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے، کس کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے، کب جاتا ہے کب آتا ہے سب کچھ۔ اسکی زندگی کا ہر ورق مجھے شام تک اپنی ٹیبل پر چاہیۓ۔۔ اور اس معاملے میں، میں کوٸ کوتاہی برداشت نہیں کرونگا۔۔ جاسکتے ہو تم۔۔“
بات ختم کرکے اس نے سامنے دھری فاٸل کھولی مگر پھر سر اُٹھا کر دیکھا شاہ نواز اب تک سر جُھکاۓ کھڑا تھا۔۔
”کہو۔۔“
”صاحب جی۔۔ آپکے حریف پہلے ہی گھات لگاۓ بیٹھے ہیں کہ کب آپ ذرا سا چُوکیں اور وہ آپ کو دھر لیں۔ ایسے میں حویلی والوں کی زندگیوں کو کھنگالنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ آپ ایک دفعہ پھر سوچ لیں۔۔“
”اسکے علاوہ میں کچھ نہیں سوچ سکتا نواز۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ اگر یہ ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔“
”ٹھیک ہے صاحب۔۔آپ فیصلہ کرچکے ہیں تو میں ہر حال میں آپکا ساتھ دونگا۔۔“
شاہ نواز اسکا وفادار اور خاصہ گھاک ملازم تھا۔ مخالفین کی کمزوریاں جاننے کے لیۓ اس نے ہمیشہ اس پر بھروسہ کیا تھا اور اسکے ملازم نے اسے کبھی مایوس نہیں کیا تھا۔
”صاحب جی۔۔ وہ۔۔ ہاشم سرکار آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔“
”ٹھیک ہے۔۔ شام کا وقت طے کردو۔۔“
اسکے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔ ہاشم وہ آخری شخص تھا جسکی وہ شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
اس نے پیشتر کاموں کو بیک وقت نپٹا کر فاٸلز ایک طرف کیں اور آخر میں زمان احمد کی نورآباد والی زمین کی فاٸل اُٹھا لی۔ یہ زمین متنازعہ ہو گٸ تھی اور چونکہ یہ دوسروں کے علاقے میں آرہی تھی تو اسکے بہت سے دعویدار اُٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ وہ بھی اپنے گاٶں کے وڈیرے تھے اور بات منوانے کے فن میں تاک۔۔! اسی لیۓ انکے ساتھ بہت صبر سے چلنا تھا مگر اب اسکا صبر جواب دینے لگا تھا کیونکہ اس زمین پر قابض لوگ ہاشم کے جاننے والے تھے اور وہ انہیں مستقل ولی کے خلاف استعمال کررہا تھا کہ کسی طرح وہ کہیں چُوکے اور وہ اسے زمان احمدکی نظروں میں گِرا سکے۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو شاہ نواز بول گیا تھا وہ اسی کا کچھ حصّہ تھا۔۔
اس نے لب بھینچ کر فون اُٹھایا اور چند بٹن دبا کر کان سے لگایا۔۔”محسن۔۔ نورآباد والی زمین کے جتنے بھی دعویدار ہیں انکے نام پتے اور انکی سرگرمیوں کی ساری رپورٹس مجھے جمع کر کے دو۔۔ اور دیر باکل بھی مت کرنا۔۔ اب اس کام کو مزید لٹکانا نقصان دے گا۔۔“
اس نے حکم دے کر فون کان سے ہٹایا اور اپنی جگہ سے اُٹھنے ہی لگا تھا کہ ہاشم اسکے آفس میں دندناتا ہوا داخل ہوا۔۔ ولی اُٹھتے اُٹھتے بیٹھ گیا۔۔ وہ اچھا خاصہ اونچا لمبا سا مرد تھا باکل بانس جیسا۔ مضبوط کسرتی جسم پر چپکی ہوٸ چھوٹی آستینوں والی قمیض پہنے وہ اپنے انتہاٸ مکروہ حُلیے کی طرح ناگوار گزرتا تھا۔۔ لوگ اسے چھنٹا ہوا بد معاش کہتے تھے کیونکہ اسکا اُٹھنا بیٹھنا ٹھیک ٹھاک قسم کے بد قماش لوگوں میں تھا اور ولی اس بات سے بے خبر نہیں تھا۔۔

YOU ARE READING
حصارِ یار
General Fictionوالدین کے ظلم کی بِنا پر۔۔ سفّاک معاشرے کا نشانہ بنی ولی کی ذات۔۔ ایک درد بھری کہانی۔۔ ٹوٹے بکھرے وجود کی کہانی۔۔ ولی اور امل کی کہانی۔۔ حصارِ یار کی کہانی۔۔ 💔