بیسویں قسط

275 13 16
                                    

#Do_not_copy_paste_without_my_permission
#حصارِ_یار
#رابعہ_خان
#بیسویں_قسط

"گاڑی ڈیرے کی جانب موڑو نواز۔۔ جلدی کرو"

اس نے تیزی سے کہا تو نواز نے اسی تیزی کے ساتھ گاڑی کچے راستوں کے جانب پھیری۔ اس نے آگے بڑھ کر ڈیش بورڈ سے بلیو ٹوتھ لیا اور اسے کان میں جمایا۔۔

"محسن۔۔ کہاں ہو اس وقت تم۔۔؟"

"میں ابھی ابھی سپر مارکیٹ آیا ہوں۔ کچھ سامان خریدنا تھا۔۔ خیریت۔۔؟"

دوسری جانب جیسے وہ اس کی پریشان آواز سن کر الرٹ ہوا تھا۔۔

"فوراً ڈیرے پر پہنچو محسن۔ فوراً۔۔ ایک بہت بڑا مسٸلہ کھڑا ہوگیا ہے۔۔۔"

محسن نے آدھی ادھوری چیزیں چھوڑیں اور باہر کی جانب بھاگا۔ گاڑی میں بیٹھ کر ایگنیشین میں چابی گھما کر اس نے گاڑی تیزی سے موڑی تھی۔ اس قطار میں ایک تیسری گاڑی بھی شامل ہوگٸ تھی۔ سب سے آگے ولی اور نواز تھے۔ ان سے کچھ پیچھے اصغر اور محسن جو قریب ہی ایک سپر مارکیٹ میں کھڑا چیزیں خرید رہا تھا وہ بھی اب ان دو گاڑیوں کے پیچھے تھا۔۔

"سر آپ کی طبیعت۔۔"

"نواز میں نے کہا گاڑی تیز چلاٶ۔۔"

وہ اس پر ایک بار پھر چلایا تھا۔ راستہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اب کے اس نے گاڑی کی رفتار بہت تیز کردی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی اس کی بات حسن سے ہوٸ تھی۔ انہوں نے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوۓ گاٶں سے شہر کو جاتے راستوں پر ناکہ بندی کروا دی تھی۔ جس کے باعث نہ تو کوٸ بغیر چیکنگ کے اندر جا سکتا تھا اور نہ ہی گاٶں سے باہر نکل سکتا تھا۔۔ ایک تسلی تو اسے ہوگٸ تھی کہ وہ اب گاٶں سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔۔ جہاں بھی ہونگے وہ گاٶں کے اندر ہی ہونگے۔۔ اور گاٶں کے اندر وہ انہیں ڈھونڈ سکتا تھا۔۔
آدھے گھنٹے بعد ڈیرہ آگیا تھا۔ اس نے تیزی سے قدم اندر کی جانب بڑھاۓ۔ کام کرتے لوگوں نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ وہ کہیں سے بھی ولی نہیں لگ رہا تھا۔ چہرے پر چڑھا نقاب، بکھرے بال، عجیب حال حلیہ۔۔
نواز نے اندر آتے ہی سب کسانوں اور ملازمین کو اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے کو کہا۔۔ پتہ نہیں اس نے انہیں کیسے مطمٸن کیا ولی نہیں جانتا تھا لیکن اگلے پانچ منٹ میں ڈیرہ خالی پڑا تھا۔۔ اسی پہر باہر گاڑی رکنے کی آواز آٸ۔۔ اصغر تیزی سے اندر بھاگا۔۔ اسی کے پیچھے محسن بھی دوڑتا آرہا تھا۔۔
ولی نے چہرے سے مفلر کو نیچے کیا اور پھر تیزی کے ساتھ انسپیکٹر عبید کے بیٹے عدیل کو فون کرنے لگا۔۔ وہ اس وقت تھانے کا اے ایس پی تھا اور ولی سے اس کی عبید کی وجہ سے اچھی سلام دعا تھی۔۔

بے چینی سے ہونٹ کاٹتا وہ داٸیں سے باٸیں چکر لگاتا دوسری طرف کو جاتا فون سننے لگا تھا۔۔

"خیریت ولی۔۔ کیسے فون کیا آج۔۔؟"

"عدیل مجھے civil لباس میں کچھ پولیس فورس چاہیۓ۔۔"

حصارِ یارWhere stories live. Discover now