#Do_not_copy_paste_without_my_permission
#حصارِ_یار
#رابعه_خان
#تیرهویں_قسطوہ گیا تو پھر چلا ہی گیا۔۔
وہ چلا گیا تو واقعی ساری حویلی سے روشنیاں سِمٹنے لگیں، چراغوں میں روشنی نہ رہی اور قلم کی روشناٸیاں ہوتے ہوۓ بھی صفحہء قرطاس خشک رہنے لگے۔۔
ہاں وہ ایسا ہی تھا، موجود تھا تو اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی اور جب چلا گیا تھا تو اس کی غیر مجودگی بھی بہت سوں پر اثرانداز ہورہی تھی۔ ان بہت سوں میں بی جان، زمان اور امل پیش پیش تھے۔ زمان بہت خاموش رہنے لگے تھے، بی جان اسے یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھرا کرتی تھیں اور امل۔۔۔
وہ اب اکثر دالان کے پچھلے حصّے میں خاموشی سے ایک طرف بیٹھی ہوتی تھی۔ کبھی اس کے کمرے میں موجود چیزوں کو دیکھ کر آزردہ ہوجاتی۔ ہر شے پر اس کا نقش ثبت تھا، ہر زاویہ گواہی دیتا تھا کہ وہ تھا۔۔ رہا کرتا تھا اور اب جاچکا تھا۔۔
کبھی کبھی تو اداسی اتنی بڑھ جاتی تھی کہ اسے خود سے وحشت ہونے لگتی مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو سنبھال لیا۔
ولی کی تو چار سال تک واپسی ہی نہ ہوٸ۔ زمان نے اس کے سکون کی خاطر اسے شہر ہی میں ایک فلیٹ لے دیا تھا جس میں وہ مسلسل چار سال پڑھاٸ کے دوران رہا اور ان چار سالوں میں مجال ہو جو اس نے پلٹ کر حویلی والوں کی جانب دیکھا بھی ہو۔ ہر مہینے زمان اور بی جان اس سے ملنے چلے جاتے اور بس۔۔
نہ اس نے کبھی آنے کی خواہش کا اظہار کیا اور نہ ہی زمان نے کبھی اس پر زور ڈالا۔ اس کی ذہنی حالت کے لیۓ یہی بہتر تھا کہ وہ اس حویلی سے حال فی الحال کوسوں دور ہی رہتا۔ مگر کوٸ کیسے جان سکتا تھا بھلا، کہ دو شہد رنگ آنکھیں اس کی دید کو ترسی جارہی تھیں۔کوٸ ادراک نہ کرسکا۔۔ اور اس سارے عرصے کی تکلیف امل نے اکیلے ہی جھیلی۔ اسے یہ سب اکیلے ہی جھیلنا تھا۔ وہ جو نہیں تھا تو کس سے کہا جاتا۔۔۔؟
وہ جو زبان کی جنبش سے قبل پلکوں کی جنبش تک پڑھ لیا کرتا تھا اب وہ جو نہیں تھا تو کسی پر الفاظ ضاٸع کرنے کا فاٸدہ بھلا۔۔۔؟
اس سارے عرصے میں وہ اللّہ سے جُڑ گٸ۔ پہلے اس نے اسے اپنی تنہاٸ کا ساتھی بنایا اور پر آہستہ آہستہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہوتا گیا۔ اس کی نمازیں پُرسکون ہوتی گٸیں اور ولی کے حق میں دعاٶں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ وہ بہت اچھی مسلمہ نہیں تھی، زبان پر آۓ طنز، اور بہت سی کڑوی باتوں کو بولنے سے اکثر وہ خود کو نہیں روک پاتی تھی۔ غصّہ بھی بہت آتا تھا اور لوگوں کو جھاڑنے کے فن میں بھی محترمہ تاک تھیں مگر وہ پھر بھی جانتی تھی۔۔ کہ کس سے بات کی جانی چاہیۓ اور کس سے نہیں۔۔ کس سے کتنے فاصلے پر رہنا ہے اور کس سے کتنی نرمی برتنی ہے اسے یہ سب آتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسے اندازہ ہوگیا کہ کسی غیر سے محبت کرنا درست نہیں مگر مسٸلہ تو یہ تھا کہ وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔ اور جب سے اس سے محبت کی تھی تب سے وہ بدتمیز غیر لگا ہی نہیں کرتا تھا۔۔ اگر جو کبھی اسے نۓ سِرے سے زندگی شروع کرنے کا موقع ملا تو وہ کبھی اس سے محبت نہیں کرے گی۔۔
اس نے آنسو رگڑتے برہمی سے سوچا۔ رات کے آخری پہر سنسان پڑی دنیا میں وہ جاگ رہی تھی اور ولی کے مسلسل یاد آنے پر اسے بے طرح غصّہ آرہا تھا اور اس بات پر بھی غصّہ آرہا تھا کہ اس کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔۔ بے بسی سے آنکھیں مسلتے وہ یکدم روپڑی۔ پھر چہرہ اُٹھا کر آسمان کو دیکھا۔۔ آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا۔ اس نے اپنے برابر چارپاٸ پر سوٸ بی جان کو دیکھا۔۔ وہ چھت پر ان کے ساتھ سورہی تھی۔ پھر چہرہ موڑ کر تاروں بھری رات پر نظر ڈالی۔۔ آج افق پر چاند نہیں جگمگا رہا تھا مگر پھر بھی تاروں کی مبھم روشنی نے آسمان چمکا رکھا تھا۔۔ وہ یاسیت سے نم ہوتی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے گٸ۔
دوسری جانب ولی اپنے فلیٹ کی ریلنگ میں کھڑا اس حبس زدہ سی رات میں تاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ پھر گہرا سانس لیتا اندر مڑا۔۔

YOU ARE READING
حصارِ یار
General Fictionوالدین کے ظلم کی بِنا پر۔۔ سفّاک معاشرے کا نشانہ بنی ولی کی ذات۔۔ ایک درد بھری کہانی۔۔ ٹوٹے بکھرے وجود کی کہانی۔۔ ولی اور امل کی کہانی۔۔ حصارِ یار کی کہانی۔۔ 💔