اندیکھی سی چہل پہل ہر آن حویلی کا احاطہ کیۓ ہوۓ تھے۔ وہ مصروفیت تلے اپنے اندر پلتے خوفناک سے ناسور کو روند رہا تھا۔۔ وہ اس مصروفیت تلے خود کو بھی روند دینا چاہتا تھا۔ امل سے اس کا اب تک سامنہ نہیں ہوا تھا اور اس پر اس نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتی تو وہ کسی کام کام نہ رہتا۔”سلطان یہ یہاں لاٸٹس کا انتظام کرواٶ۔ اور ابھی تک گیندے کے پھول کیوں نہیں پہنچے۔۔؟ کمال کرتے ہو۔۔ شام کو مہندی ہے۔۔ حویلی سجانی ہے۔ اور تمام کام ادھورے ہیں۔۔“
وہ سلطان کو لتاڑتا مستقل ملازمین کو ہدایات دے رہا تھا۔ مسلسل ایک ہفتے سے وہ گھن چکر بنا ہوا تھا۔ شادی کے تمام انتظامات اسی کے ذمے تھے اور اس ذمہ داری میں وہ کوٸ کوتاہی کوٸ کمی برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
”ولی۔۔!“
بی جان کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ کاٹن کا سفید کرتا لیۓ اس کی جانب بڑھ رہی تھیں۔
”یہ میں تیرے لیۓ سفید کاٹن کا کرتا لاٸ ہوں۔۔“
”بہت اچھا ہے بی جان پہن لونگا۔۔“
اس نے ایک نظر کُرتے کو دیکھا تک نہ تھا۔ بی جان خفا ہوٸیں۔۔
”خود تو تم نے کچھ لینا نہیں تھا سوچا میں ہی کچھ لے آٶں۔ خود سے اتنی بے توجہی، اتنی لاپرواہی درست نہیں ہے ولی۔۔! اپنا خیال رکھا کر۔۔“
ان کے لہجے میں فکر بول رہی تھی۔۔ وہ مبھم سا مسکرایا۔۔
”اچھا اب رکھونگا۔۔“
انداز سراسر انہیں بہلانے والا تھا۔
”اچھے سے خبر ہے مجھے کہ تم نے کیسا خیال رکھنا ہے خود کا۔۔!“
”میں واقعی رکھونگا۔۔“
”مجھے یقین نہیں آرہا۔۔“
”تو یقین دلانے کے لیۓ کیا کروں۔۔؟“
”یہیں رک جاٶ ہمارے پاس۔۔“
بی جان نے اتنا اچانک کہا کہ اس کی مسکراہٹ غاٸب ہونے میں پل نہ لگا۔۔
”میں۔۔ آتا جاتا رہونگا بی جان۔۔“
”مگر مجھے تو تسلی نہیں ہوگی ناں ولی۔ ان بوڑھی آنکھوں کو تجھے دیکھنے کی عادت ہوگٸ ہے۔“
ان کی آواز بھیگنے لگی تھی۔ ولی کے دل کو کچھ ہوا۔ بی جان کی نرم سی آغوش نے اسے ہمیشہ سخت دنیا میں محفوظ رکھا تھا۔ وہ کل رخصتی کے وقت ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ یہاں سے جانے والا تھا۔ اور بی جان کے لیۓ یہی احساس سوہانِ روح تھا کہ ان کا ولی ان کو چھوڑ کر جارہا تھا۔۔
”تو آپ کو بھی لے چلوں گا۔۔“
”ہاں مجھے بھی یہاں نہیں رہنا۔ لیکن پھر تیرے سردار بابا۔ وہ تنہا ہوجاٸیں گے۔۔“

YOU ARE READING
حصارِ یار
General Fictionوالدین کے ظلم کی بِنا پر۔۔ سفّاک معاشرے کا نشانہ بنی ولی کی ذات۔۔ ایک درد بھری کہانی۔۔ ٹوٹے بکھرے وجود کی کہانی۔۔ ولی اور امل کی کہانی۔۔ حصارِ یار کی کہانی۔۔ 💔