چودھویں قسط

247 13 0
                                    

#Do_not_copy_paste_without_my_permission
#حصارِ_یار
#رابعه_خان
#چودهویں_قسط

امل سارا وقت قانتہ کے ساتھ تھی۔
نہ اس نے آگے بڑھ کر دُلہنوں کی رسم کی اور نہ ہی کسی اور کام میں دلچسپی لی۔ وہ ایک جانب خاموشی سے قانتہ کے ساتھ بیٹھی رہی تھی۔۔
قانتہ نے اس کا دمکتا چہرہ دیکھا اور پھر صوفے پر ذرا آگے ہوکر بیٹھی۔۔ پھر اس کے گود میں رکھے ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے نرم سے ہاتھ میں قید کیا تو امل چونکی۔۔

"جو ہوگیا اسے بُھول جاٶ۔۔"

قانتہ نے بہت نرمی سے کہا تھا۔ اسکا گلا دُکھنے لگا۔ آنسو بہت دیر سے روک رکھے تھے جس کی وجہ سے درد اب اندر ہی اندر گُھل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں گلابی پڑنے لگیں۔۔

"میں ٹھیک ہوں۔۔"

اس نے کمزور سی آواز میں کہا ضرور، مگر قانتہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں نکالا۔ اس کے لمس سے پتہ نہیں کیوں اسے ولی کے احساس کی خوشبو آیا کرتی تھی۔۔ شاید ہم جس انسان کے بھی قریب ہوتے ہیں اسی کی خوشبو، اس کے لمس کا احساس، اسکا انداز سب کچھ ہمارے اندر غیر محسوس طریقے سے اترتا جاتا ہے۔۔ قانتہ کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ امل کو اسے دیکھ کر ولی کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ بنا کسی تعلق کے اس سے دو ہی ملاقاتوں میں قریب ہوگٸ تھی۔۔

"لیکن مجھے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔"

انہوں نرمی سے مسکرا کر اس کے جواب کی نفی کی تو اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ بالکل ولی کا سا انداز تھا۔۔ آہستہ سے اس کی آنکھیں پڑھ کر اس کے جملوں کا انکار کرنے والا انداز۔۔

"میں ڈر گٸ تھی۔۔"

اس نے جھکا چہرہ اُٹھا کر قانتہ کو براہِ راست دیکھنے سے پرہیز کیا۔ لاٶنج کے اس طرف صوفوں پر خواتین کا رش خاصہ کم تھا کیونکہ رسم کا اہتمام باہر سبزہ زار پر کیا گیا تھا۔ یہاں لاٶنج تک بھی مہمانوں کے شور کی دبی دبی سی آواز آرہی تھی۔۔

"میں نے ہمیشہ خود کو عام لڑکیوں سے اونچا سمجھا، ہمیشہ خود کی عزت کی اور دوسروں سے کرواٸ۔ میں عام لڑکیوں کی طرح نہیں، میں غلط جگہ پر کہی گٸ غلط بات کو اور غلط بات کرنے والے کو روک سکتی ہوں تو میں کچھ بھی کرسکتی ہوں۔ اگر مجھے لفظوں کی ٹھوکروں سے سب کچھ اُڑانا آتا ہے تو میں ایک عام دبّو اور اندھی، بہری لڑکی سے قدرے مختلف ہوں۔ میں dignified ہوں۔ قابلِ عزت۔۔ کسی کو بھی میری بے عزتی کرنے کا کوٸ حق نہیں اور یقین کریں قانتہ۔۔ میں نے کبھی بھی کسی کو خود پر بولنے نہیں دیا۔ لوگ اگر کوٸ نازیبہ بات کر بھی جاتے ہیں تو میں انہیں اسی وقت روک دیتی ہوں مگر آج۔۔"

اس نے گیلی سانس اندر کو کھینچی۔ قانتہ نرمی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔

"آج اس نے مجھ سے کہا کہ ہر کسی سے بات نہیں کی جاتی۔ ہر کوٸ بات سے سمجھنے والا نہیں ہوتا۔ وہ اتنی جلدی سمجھ گیا اور میں۔۔ میں ساری زندگی سے اسی زعم میں ہوں کہ میں اپنے لفظوں سے کچھ بھی کرسکتی ہوں۔ کسی کو بھی روک سکتی ہوں، کسی کو بھی انجام تک پہنچا سکتی ہوں، مگر میں غلط تھی قانتہ۔ میں تو ایک کمزور سی لڑکی ہوں۔ آج جب نفیس نے مجھ سے بدتمیزی کی تو میں اسے روک نہیں پاٸ اور اگر ولی نہیں آتا تو پتہ نہیں۔۔"

حصارِ یارWhere stories live. Discover now