#Do_not_copy_paste_without_my_permission
#حصارِ_یار
#رابعہ_خان
#سترہویں_قسط
ہاشم بے چینی سے پورچ میں ٹہلتا بار بار حسین کا نمبر ڈاٸل کررہا تھا مگر ہر دفعہ کی، کی گٸ کالز لمحہ بہ لمحہ پلٹ کر آرہی تھیں۔ اس نے بالوں میں ہاتھ چلا کر حسین کے ڈراٸیور کا نمبر ڈاٸل کیا مگر وہاں سے بھی جواب ندارد۔۔!
اس کی بے چینی اب پریشانی میں بدل کر سوا ہونے لگی تھی۔ پھر کسی خیال کے تحت وہ لاٶنج میں تیزی سے چلتا آیا اور درمیانے ٹیبل پر رکھی چابیاں اُٹھاتا باہر کی جانب بڑھنے لگا۔۔
نگار اس کے پیچھے آرہی تھیں۔۔"کیا ہوا کچھ پتہ چلا۔۔؟ آدھی رات سے بھی زیادہ وقت ہوچکا ہے ہاشم اب تو۔! "
انگلیاں مروڑتی اب وہ دروازے میں کھڑی تھی۔۔
"جی کرتا ہوں کچھ ماں جی تم تو اندر جاٶ۔ جیسے ہی کچھ پتہ چلے گا بتاٶنگا تمہیں۔۔ ابھی اندر جا کر بس دعا کرو کہ بابا مجھے مل جاٸیں خیریت سے۔۔"
الجھ کر کہتا اب وہ جلدی جلدی گاڑی کی طرف جارہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی گاڑی سڑک پر تیزی کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔۔ پیشانی پر ڈھیروں بل اور سردی میں کنپٹی سے پھوٹتا پسینہ۔۔
یوں لگتا تھا گویا اب وہ سہی معنوں میں پہاڑ کے نیچے آگیا ہو۔ پھر اسٹیرنگ سے ہاتھ ہٹا کر موباٸل میں پر چند نمبر ملاۓ اور لب کاٹتے موباٸل کان پر جمایا۔۔"شہیر۔۔ تین چار بندوں کو بابا کو ڈھونڈنے کے لیۓ کہہ دو۔۔ کیونکہ اب مجھے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔۔ کچھ گڑبڑ ہے۔۔ فٹافٹ۔۔ ذرا سی بھی دیر نہیں ہونی چاہیۓ۔۔"
اس نے فون کان سے ہٹا کر سامنے بنے ڈیش بورڈ پر ڈالا اور پھر پیشانی مسلتا اندر ابلتی پریشانی کو کم کرنے لگا۔۔ کچے راستے اب تک ویسے ہی سنسان پڑے تھے۔۔
اسی پہر ولی کی گاڑی سفید حویلی کے پورچ میں آکر رکی تھی۔ اس کا چہرہ حد درجہ سپاٹ ہورہا تھا اور نقوش اس قدر سخت تھے کہ کوٸ دیکھتا تو ڈر جاتا۔۔ انتقام خوشی نہیں دیا کرتا۔۔ اتنا اندازہ اسے اب تک ہوگیا تھا۔ گاڑی کا دروازہ بند کرتا وہ اندر کی جانب بڑھا۔۔ حویلی خاموش پڑی تھی۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے۔۔
بغیر کسی تردد کے اس نے اپنے قدم کمرے کے جانب پھیرے۔ اور چلتے چلتے وہ ایک پل کو رک سا گیا۔ زینوں کے اس پار کوٸ دکھا تھا اسے۔ کون ہوسکتا ہے۔۔! اس کی آنکھیں سکڑ گٸیں۔۔ پھر محتاط قدم اٹھاتا وہ زینوں کے قریب آ کر ایک پل کو ٹھہر گیا۔۔"کون ہے۔۔؟۔۔"
کوٸ جواب نہ آنے کے باعث اس کے اعصاب یکدم الرٹ ہوۓ تھے۔ دو قدم مزید چل کر اس نے جیسے ہی زینے کے اس پار قدم رکھا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔
”شکیلا تم۔۔۔! رات کے اس وقت یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟“
شکیلا اسے دیکھ کر گویا پرسکون ہوٸ تھی۔
”میں آپکا ہی انتظار کررہی تھی ولی سرکار۔۔“
وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آٸ اور پھر رازداری سے اسے کچھ بتانے لگی۔۔ چند لمحوں بعد ولی اپنے کمرے میں تھا۔ شال کو کندھے سے اتار کر صوفے پر ڈالا اور پھر شاور لینے واش روم کی جانب بڑھا۔۔ جب واپس پلٹا تو بال حسبِ عادت ماتھے پر گر رہے تھے اور چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری ہورہا تھا۔۔ خاموش، ٹھنڈا، سپاٹ۔۔

YOU ARE READING
حصارِ یار
General Fictionوالدین کے ظلم کی بِنا پر۔۔ سفّاک معاشرے کا نشانہ بنی ولی کی ذات۔۔ ایک درد بھری کہانی۔۔ ٹوٹے بکھرے وجود کی کہانی۔۔ ولی اور امل کی کہانی۔۔ حصارِ یار کی کہانی۔۔ 💔