Episode:4

129 6 9
                                    

حمائل اپنی دوست کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی کالج سے نکل رہی تھی جب وہ اپنی دوست کو کسی بات سے چھیڑ کر وہاں سے بھاگی اور جا کر وقار سے ٹکرا گئی۔ حمائل نے اپنے ہاتھ میں ایک پینٹنگ پکڑی ہوئی تھی جو وقار سے ٹکرانے کے بعد زمین پر گر گئی تھی۔

وقار فورًا سے دو قدم پیچھے کو ہوا۔ حمائل نے ایک نظر زمین پر کیچڑ میں پڑی اپنی پینٹنگ پر ڈالی اور پھر مڑ کر کھا جانے والی نظروں سے وقار کو دیکھا۔ "افف اللہ! یہ کیا کر دیا آپ نے؟میری ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔"حمائل صدمے اور بے بسی سے بولی۔ "ایکسکیوزمی! یہ میں نے نہیں آپ نے خود کیا ہے۔آپ کی غلطی ہے۔"وقار نے تحمل سے جواب دیا۔

"بہت خوب! ایک تو میری پینٹنگ خراب کر دی اور الزام بھی مجھ ہی پر لگا رہے ہیں۔ "حمائل غصے سے دانت پیستے ہوئے بولی۔ "جی بالکل۔اگر آپ بھاگنے کی بجائے سیدھے طریقے سے انسانوں کی طرح چلتیں تو آپ کا یہ شاہکار زمین پر نہ گرتا۔"وقار طنز کرتے ہوئے بولا۔ "ماشااللہ سے اچھے خاصے ڈھیٹ انسان ہیں آپ۔ بجائے سوری کہنے کے بحث کر رہے ہیں۔" وہ غصے سے بولی۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر ڈالے۔آرٹ کمپٹیشن میں حصہ لینے کے لیے وہ پچھلے ایک مہینے سے وہ پیٹنگ بنا رہی تھی اور آج ہی اپنی دوستوں کو دکھانے کے لیے کالج لائی تھی۔وہ ہر سال کسی نہ کسی آرٹ کمپٹیشن میں حصہ لیتی اور ہر بار مقابلہ جیت جاتی۔ مگر اس بار اس کی ساری محنت بغیر کوئی مقابلہ جیتے ہی ضائع ہو گئی تھی۔

"معذرت وہ کرتا ہے جس کی غلطی ہو اور جہاں تک میرا خیال ہے میری کوئی غلطی نہیں ہے۔"وقار اپنی پیشانی پر آتے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے بولا۔ "اوہ مسٹر ایٹیٹیوڈ(mr.attitude)! تمہارے خیالات بہت ہی غلط ہیں ،ایک سوری تو تم سے بولا نہیں جا رہا اور اپنی یہ زلفیں ایسے سنوار رہے ہو جیسے پتا نہیں کہاں کے نواب ہو۔"حمائل کی بات کا اشارہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے کی طرف تھا۔
وقار ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے تو اپنے دھیان میں پیشانی پر آتے بالوں کو پیچھے کیا تھا۔ وقار کو کیا معلوم تھا کہ وہ اس بات کو بھی نوٹس کرے گی۔

"آپ چاہتی کیا ہیں؟" وقار اس کی بے تکی باتوں سے تنگ آکر بولا۔ "کیا مطلب کیا چاہتی ہوں۔ آپ نے میری پینٹنگ خراب کی ہے اس کے لیے سوری بولیں۔"وہ آنکھیں گھما کر بولی۔
"اللہ حافظ۔"وقار اس کی بات اگنور کر کے،اپنا ایک ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بولا اور فاطمہ کو گیٹ سے باہر آتا دیکھ کر اپنی بائیک کی طرف چل پڑا۔ "ہونہہ! مسٹر ایٹیٹیوڈ!" حمائل غصے اپنی پینٹنگ اٹھاتے ہوئے بولی اور پیر پٹخ کر اپنی وین کر طرف چل دی۔
______________________________________

" اوئے تو کیا رُسی نوں( ناراض بہو) جیسی شکل بنا کر بیٹھا ہوا ہے؟"عماد اس کے آفس کے کیبن کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر آتے ہوئے بولا۔ وقار جو کہنیاں میز پر ٹکائے سر جھکائے بیٹھا تھا عماد کی آواز پر چونک کر سر اٹھایا۔ "تو پھر آگیا ہے۔"وقار دانت پیستے ہوئے بولا۔ "مجھے لگا میرا دوست مجھے یاد کر رہا ہے اس لیے فورًا دوڑا چلا آیا۔چل اب جلدی سے کچھ آڈر کر بہت بھوک لگ رہی ہے۔" عماد کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔

عماد کی تو جیسے روٹین ہی بن گئی تھی ہر دوسرے دن وقار کے آفس آکر کھانے پینے کی۔ "ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ تجھے یاد کروں۔"وقار اسے گھورتے ہوئے بولا۔ "بیٹا خوش قسمت ہے تو کہ تجھے میرے جیسا دوست ملا ہے۔ لوگ تو ترستے ہیں ایسے دوستوں کے لیے۔" عماد اپنے کالر جھاڑتے ہوئے اکڑ کر بولا۔ "اب تو میرا دماغ خراب کر دے پہلے ہی اس لڑکی نے۔۔۔"وقار بولتے ہوئے ایک دم خاموش ہو گیا کیونکہ وہ عماد کو اچھی طرح جانتا تھا۔وہ بال کی کھال اتارنے میں ماہر تھا۔جب تک وہ الف سے لے کر یے تک ساری بات نہ پوچھ لیتا اسے سکون نہ ملتا۔ اور وہ ابھی اتنی لمبی چوڑی وضاحت دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔

"ایک منٹ بھائی!ایک منٹ۔یہ تو کس لڑکی کی بات کر رہا ہے؟" عماد نے میز پر جھکتے ہوئے جوش سے پوچھا۔ وقار نے اپنی بے وقوفی پر غصے سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔اور پھر دوپہر والا سارا قصہ عماد کو سنا دیا کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا۔

"تو یار تو بول دیتا بیچاری کو سوری۔"ساری بات سننے کے بعد عماد کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔ "ہونہہ بیچاری!" وقار میز پر پڑی فائل کھولتے ہوئے منہ میں بڑبڑایا۔ "اوئے ہوئے! کہیں میرے بھائی کا دل تو نہیں آگیا اس لڑکی پر۔" وقار کے کوئی جواب نہ دینے پر وہ شوخی سے بولا۔
"زیادہ بکواس نہ کر اور نکل یہاں سے مجھے بہت کام ہیں۔فارغ نہیں ہوں تیری طرح۔"وقار دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ "بس اب اسی کی کسر رہ گئی تھی نا کہ تو مجھے اب بےروزگار ہونے کے طعنے دے گا۔"عماد اٹھتے ہوئے بولا۔ "اچھا نا جا رہا ہوں۔ایسے اتنے پیار سے دیکھے گا تو مجھے نظر لگ جائے گی۔"عماد، وقار کے گھورنے پر معصوم شکل بناتے ہوئے بولا اور اس کے کیبن سے نکل گیا۔ وقار نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
______________________________________

"کیا کر رہی ہو؟"حارث لائونج میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ "کچھ بھی نہیں کر رہی۔ بہت بور ہو رہی ہوں۔"حمائل جو صوفے پر نیم دراز بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی،ریموٹ سے ٹی وی آف کرتے ہوئے بولی۔ "ہممم۔۔۔شوپنگ کرنے چلیں۔"حارث نے اسے مشورہ دیا۔ "نہیں میں نے نہیں کرنی شوپنگ ووپنگ" حمائل چڑ کر بولی۔ "اچھا تم نہ کرنا شوپنگ۔میں نے تو کرنی ہے نا، تم ویسے ہی چلو میرے ساتھ"حارث اسے مناتے ہوئے بولا۔ "اچھا ٹھیک ہے چلیں۔" حمائل اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے کھڑی ہر کر بولی۔ "چلو۔۔۔"حارث اور وہ باہر کی جانب چل پڑے۔

چھٹی کا دن تھا۔ مصطفٰی صاحب اور فرحت بیگم ،مصطفٰی صاحب کے کسی دوست کی طرف دعوت پر گئے ہوئے تھے۔حارث جب شام کو سو کر اٹھا تو حمائل کو ڈھونڈتے ہوئے لائونج میں آیا جہاں وہ صوفے پر نیم دراز بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔

وہ دونوں حارث کی شاپنگ کے لیے ایک مال میں آئے تھے۔ حارث اپنی کپڑے وغیرہ خریدنے کے لیے مینز سیکشن کی طرف گیا۔حمائل بھی اسی کے ساتھ تھی۔حارث ایک شاپ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا حمائل بھی اسی کے ساتھ اندر جانے لگی،لیکن اس کے دوپٹے کا کونا دروازے میں لگی کیل میں اڑ گیا۔ وہ اپنا دوپٹہ نکالنے کے لیے مڑی تو اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جسے دیکھ کر اس کی پیشانی پر غصے سے چند لکیریں نمودار ہوئیں۔
______________________________________
To be continued...

تپتی دھوپ کا سفر(COMPLETED✅)Where stories live. Discover now