حمئل اپنے دوپٹے کو دروازے سے نکال کر فورًا سیدھی ہوئی اور پاس سے گزرتے دو لڑکوں میں سے ایک کی طرف دیکھ کر بولی "تمہیں شرم نہیں آتی؟ تم اس دن سے میرا پیچھاکر رہے ہو؟"
"آپ نے ہم سے کچھ کہا؟"عماد رکا اور حمائل کی طرف دیکھ کر ،ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ وقار بھی عماد کے ساتھ ہی ، سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور حمائل کو دیکھنے لگا۔ "جی بالکل! بلکہ یہ جو صاحب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ان سے کہا ہے۔ اس دن اکیلے کالج کے باہر لڑکیوں کو چھیڑ رہے تھے اور اب میرا پیچھا کرنے کے لیے آپ کو بھی ساتھ لے آئے ہیں۔" حمائل وقار کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی۔"بہت ہی کوئی افسوس کی بات ہے وقار۔ تو میرے بغیر ہی لڑکیاں تاڑنے کالج پہنچ گیا۔"عماد ،وقار کی طرف دیکھ کر تاسف سے بولا۔ وقار نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے اس کی کمر میں ایک مکا مارا۔ "عماد! میں فاطمہ کو لینے گیا تھا۔" وقار دانت پیستے ہوئے بولا۔
"دیکھاااا ! مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ یہ کسی لڑکی کے چکر میں وہاں آئے تھے۔" حمائل اونچی آواز میں جوش سے بولی،جیسے کوئی انکشاف کیا ہو۔پاس سے گزرتے ہوئے لوگ حمائل کی بات پر مسکرا دیے۔
نیلی جینز پر سفید گھٹنوں تک آتا کرتا پہنے اور سفید ہی دوپٹہ گلے میں ڈالے، چہرہ ہر طرح کے میک اپ سے پاک، بالوں کا اونچا جوڑا بنائے اور چہرے پر غصہ سجائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
وقار اور عماد جو بہت غور سے اس کی بات سن رہے تھے، انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر عماد نے ایک جاندار قہقہ لگایا اور پھر کتنی ہی دیر ہنستا چلا گیا۔ جبکہ وقار سنجیدہ کھڑا حمائل کو گھور رہا تھا۔
حمائل ایک دم بہت کنفیوز ہو گئی۔ وہ کبھی سنجیدہ کھڑے وقار کو دیکھتی اور کبھی ہنستے ہوئے عماد کو۔ "کیا مسئلہ ہے اب؟ اس طرح گھور کیوں رہے ہو؟" حمائل وقار کے سامنے اپنا ہاتھ لہراتے ہوئے بولی۔ "آپ بہت ہی فضول بولتی ہیں۔"وقار نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ "تو۔۔۔آپ کو کیا تکلیف ہے؟ میرا منہ ہے میری مرضی،میں جو مرضی بولوں۔"حمائل بھنویں اچکا کر بولی۔"اوہو! میں بتاتا ہوں آپ کو۔ یہ بقول آپ کے جس لڑکی کے چکر میں کالج گیا تھا وہ خوش قسمتی سے اس کی چھوٹی بہن ہے۔"عماد ہنستے ہوئے بولا۔وقار نے اسے گھورا تو فورًا سیدھا کھڑا ہو گیا اور اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
حمائل نے ایک نظر وقار کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ حارث شاپ سے باہر آگیا۔ "حمائل کیا ہوا اندر کیوں نہیں آرہی؟" حارث نے حمائل سے پوچھا۔
"السلام علیکم حارث بھائی!"حمائل کے جواب دینے سے پہلے ہی وقار بول پڑا۔ "اوہ! والیکم اسلام! کیسے ہو وقار؟"حارث نے وقار سے گلے ملتے ہوئے پوچھا۔ "جی اللہ کا شکر۔ آپ سنائیں؟"وقار مسکراتے ہوئے بولا۔حمائل جو حیران کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی ، حارث کی طرف دیکھ کر دھیمی آواز میں بولی "بھائی آپ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟" "ہاں! یہ وقار حیدر ہیں۔ ہمارے ہی آفس میں ایمپلائی ہیں اور بہت جلد اپنا بزنس شروع کریں گے۔ اور یہ ان کے ساتھ عماد، وقار کے دوست۔ "حارث نے حمائل کو تفصیل سے جواب دیا۔ حمائل نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ "اور وقار یہ میری چھوٹی اور اکلوتی بہن حمائل۔"حارث نے حمائل کے گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے وقار سے اس کا تعارف کروایا۔ وقار نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔

YOU ARE READING
تپتی دھوپ کا سفر(COMPLETED✅)
General Fictionیہ کہانی ہے رشتوں کے تلخ روپ کی۔۔۔صبر کی، خدا پر یقین کامل کی ،زندگی کے کٹھن راستوں سے گزر کر منزل پر پہنچنے کی۔آزمائیشوں اودکھوں سے بھری زندگی کی۔ محبت کے خوبصورت سفر کی۔۔۔ تپتی دھوپ کے سفر کی کہانی۔۔۔۔