Epidode:22 (2nd last ep)

93 5 0
                                    

"آج کا موضوع گفتگو! 'عفو و درگزر اور صبر' ہے۔۔۔ درگزر کرنا! مطلب معاف کرنا۔ ہمارے رب العالمین کی بے شمار صفات میں سے بھی ایک صفت ہے درگزر کرنا۔" زہرہ یونیورسٹی کی ایک کلاس کو اسلامیات کے ایک موضوع پر لیکچر دے رہی تھی۔

"انسان غلطی کرتا ہے، گناہ کرتا ہے لیکن اگر وہی انسان سچے دل سے اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہے تو ہمارا رب اس انسان کے تمام گناہ معاف کر دیتے ہیں۔۔۔اگر ہم بطور مسلمان، اللہ تعالٰی کی صفت پر عمل کرنے کی کوشش کریں، لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھیں، تو ہماری زندگیاں بہت آسان ہو جائیں گی،رشتوں کی تلخیاں ختم ہو جائیں گی،اس لیے ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔" زہرہ ایک لڑکی کا ہاتھ فضا میں بلند ہوتا دیکھ کر رکی۔

"جی؟ آپ کو کوئی سوال کرنا ہے؟" زہرہ نے اس لڑکی سے مسکرا کر پوچھا

"یس میم! اگر کوئی ہم پر ظلم کرے اور ظلم کرنے والا ہم سے زیادہ طاقتور ہو تو کیا ظلم برداشت کرتے رہنا چاہئے، صبر کرتے رہنا چاہیے اور پھر اتنا ظلم سہنے کے بعد بھی معاف کر دینا چاہیے؟" لڑکی نے سوال کیا۔

"ہممم۔۔۔ابھی جیسا میں نے کہا کہ معاف کرنا اچھی بات ہے۔ اول تو یہ کہ جب آپ پر ظلم ہو رہا ہو تو اس کے خلاف آواز بلند کریں مگر جیسا آپ نے کہا کہ اگر ظالم طاقتور ہو تو آپ یہ بات یاد رکھیں، اللہ اس سے زیادہ طاقتور ہیں، ہر چیز پر قادر ہیں۔۔۔بہت مشکل ہوتا ہے کسی ایسے شخص کو معاف کرنا جس نے ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہوں۔اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
"جب کوئی تم پر ظلم کرے، تو میرے انتقام پر راضی ہو جائو، کیونکہ میرا انتقام تمہارے انتقام سے بہتر ہے" (القرآن)

آپ پر اگر کوئی ظلم ہو اور آپ اس کے خلاف کچھ نہ کر سکیں تو اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں اور صبر کریں۔ پھر دیکھیے گا کیسے اللہ ان کی دراز کی گئی رسی کو کھینچتے ہیں۔
اشاد باری تعالی ہے:
"بےبشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
(القرآن)

ظلم اور والدین سے بدسلوکی ایسے گناہ ہیں جن کی سزا دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے۔ ظالم کو اللہ مہلت ضرور دیتے ہیں مگر! پھر ان کی پکڑ بھی شدید ہوتی ہے۔
اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔صبر کریں اسی سے مدد مانگیں وہ ضرور مدد کرتے ہیں۔۔" وہ یونیورسٹی میں اسلامیات کی لیکچرار تھی اور اب بھی ایک کلاس کو درگزر اور صبر پر لیکچر دے رہی تھی۔

"زہرہ"۔۔۔ ایک ایسی لڑکی جس پر، اس کی برات والے دن ہی طلاق کا لیبل لگ گیا، جس نے اپنی ماں اور باپ کیلئے اپنے دکھوں اور خواہشوں کو اپنے ہی دل میں دفن کر دیا، جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ مل کر گھر کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا لی، جس نے اپنے علاوہ ہر کسی کی پرواہ کی، اپنی زندگی اپنی ماں اور بہن بھائی کے ساتھ گزارنے کا عہد کر لیا۔۔۔
وہ آج ایک یونیورسٹی کی پروفیسر ہے، کیونکہ اس نے ہمت نہیں ہاری، ہر طرح کے حالات کا سامنا کیا، جب حالات بہتر ہوئے تو اپنی پڑھائی مکمل کی۔

تپتی دھوپ کا سفر(COMPLETED✅)Onde histórias criam vida. Descubra agora