"یہ آپ سے کس نے کہا؟"
ساگر نے درمیان میں ہی کاٹ دی تھی اس کی بات۔ وہ کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
"میرے ساتھ کوٸ زبردستی نہی ہوٸ۔ ہاں آپ کے ساتھ ہوٸ ہو تو میں کچھ کہہ نہی سکتا۔ مگر میرے لیے ان کا سب سے بڑا تحفہ ہے یہ شادی۔"
اب وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔ وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے گٸ جو ایک فٹ کے فاصلے پر بیٹھا اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ امل مسکرا بھی نہ سکی۔ ایک عجیب سی بے چینی اسے گھیرنے لگی۔ کچھ توقف کے بعد وہ پھر بولا تھا۔
"میں اکیلا رہتا تھا۔ پھر آپکا مجھ سے لاکھ اختلاف سہی مگر انھوں نے مجھے اپنا بیٹا بنا لیا۔ اور وہ پیار دیا جو ساری زندگی مجھے نہی ملا۔ وہ میرے لیے سگی ماں سے بڑھ کر تھیں۔ خوشیوں کی عمر چھوٹی ہوتی ہے۔ مگر وہ جاتے جاتے بھی مجھے اکیلا نہی چھوڑ کر گٸیں۔ انھوں نے اپنی جان سے پیاری بیٹی مجھے سونپ دی۔"
وہ خاموشی سے اس کے اعتراف اور انکشاف سن رہی تھی۔ تھوڑی دیر وہ اس کی طرف سے کسی جواب کا منتظر رہا مگر وہ کچھ نہی بولی تو اس نے پھر سے کہنا شروع کیا۔
"ایک دفعہ انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا شادی کے بارے میں۔ وہ ایسے فکرمند تھیں جیسے ماٸیں بیٹوں کے لیے ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کبھی سوچا نہی۔ انھیں شاید لگا ہو کہ میں ساری زندگی اکیلا ہی رہوں گا تو پوچھنے لگیں کہ مجھے کوٸ لڑکی پسند ہے؟ میں نے کہا مجھے تو پسند ہے مگر اسکو میں پسند نہی۔ نام لیے بنا ہی وہ سمجھ گٸیں میں کس کی بات کر رہا تھا۔ اور جانتی ہیں جواب میں انھوں نے مجھے کیا کہا؟"
وہ ذرا سی گردن موڑ کر اسے دیکھتا ہلکا سا ہنسا تھا۔
"انھوں نے کہا کہ اگر مومنہ بڑی ہوتی تو اسی سے میری شادی کروا دیتیں۔"
وہ جانتی تھی کہ وہ مومنہ کو چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔ مگر وہ اس کی سگی بہن تو نہی تھی نا۔ اور اس کی امی نے ایسا کیوں کہا۔ اور کیا وہ اس لڑکی کو جانتی تھیں جسے یہ پسند کرتا تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر انھوں نے اس سے اس کی شادی کیوں کرواٸ تھی۔ امل کے ذہن میں کٸ طرح کے سوالات اٹھنے لگے تھے۔
باہر دروازہ بجنے کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔ مومنہ واپس آچکی تھی۔ ساگر مسکراتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور امل نے دروازہ کھولا۔ مومنہ اندر داخل ہو گٸ۔
"آپی۔ جلدی سے کھانا دے دیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔"
اس کے کہنے پر امل کو یاد آیا کہ وہ ساگر سے کھانے کا پوچھنا ہی بھول گٸ تھی۔ وہ دن کا کھانا اکثر گھر نہی کھاتا تھا تو آج اسے بھی خیال نہی آیا۔
ساگر کپڑے بدل چکا تھا اور اب ہاتھ منہ دھو کر باہر نکل رہا تھا۔
"ارے ساگر بھاٸ۔ آپ اس وقت گھر پہ؟"
YOU ARE READING
Saagar (Complete)
Romanceوہ ساگر جیسا تھا۔ ساری زندگی اس نے لوگوں کی بھیڑ میں بھی تنہا گزاری تھی۔ اسے کبھی محبت نہی ملی مگر اسے محبت ہو گٸ تھی۔ کیا زندگی میں اس کے لیے محبت تھی ہی نہی؟ کیا وہ اس محبت کا حقدار نہی تھا جو سب کو ملتی تھی؟ کیا وہ محبت دے کر بھی محبت پا نہی سکتا...
