ساگر اگلے کچھ دن مصروف رہا تھا۔ عماد اس کا پرانا اور گہرا دوست تھا اس لیے اسے کافی انتظامات سنبھالنے تھے۔ تقریباً سب کچھ اچھے سے مینیج ہو رہا تھا۔
ایک دن ٹاٸم نکال کر وہ مومنہ اور امل کو اپنے ساتھ شاپنگ پہ لے آیا۔
وہ اس وقت کپڑوں کی دکان میں کھڑے تھے۔
”کیا پہننا پسند کریں گی آپ؟“
وہ پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ اس کی چواٸس پوچھ رہا تھا۔
”اممم۔۔۔مجھے تو کچھ سمجھ نہی آ رہا۔ تم بتاٶ۔۔۔۔“
امل چاروں طرف لگے کپڑوں کو دیکھ کر سوچ رہی تھی مگر فیصلہ نہی کر پا رہی تھی۔ سب کچھ ہی اچھا لگ رہا تھا۔
”میرا خیال ہے آپ کو بارات کے لیے۔۔۔۔۔“ اس نے ایک ساڑھی کی طرف اشارہ کیا جو ایک ڈمی پر لٹکی تھی ”ساڑھی پہننی چاہیے۔“
امل کو اس کی فرماٸش پر اچھنبا ہوا۔
”مجھے ساڑھی پہننی نہی آتی۔ میں نے کبھی ساڑھی نہی پہنی۔“
اس نے فکرمندی سے کہا۔
“Thats no problem. There is always a first time...”
وہ مسکرا کر اس کے کان کے قریب بولا تھا۔
پھر اس نے اس کے لیے اپنی مرضی کے کپڑے اور رنگ خریدے۔ ساگر کی چواٸس لا جواب تھی۔ مومنہ کی شاپنگ مومنہ اور امل کی مرضی سے ہوٸ تھی۔
جیولری وغیرہ امل اور مومنہ نے اپنی اپنی پسند سے خریدی تھی۔
۔۔۔
ساگر بستر پر سو رہا تھا اور صبح کے دس بج گے تھے۔ اسے اتنی دیر تک سونے کی عادت نہی تھی۔ امل ناشتہ بنا کر اسے جگانے آٸ۔
"ساگر اٹھ جاٶ دس بج گۓ ہیں جانا نہی ہے کیا؟"
آج عماد کی شادی تھی اور اس نے جا کر کچھ انتظام سنبالنے تھے۔
"ہمممم۔۔۔۔۔"
وہ نیند میں ہی کسمسایا۔
"ساگر۔۔۔۔عماد بھاٸ کا دو مرتبہ فون آ چکا ہے۔"
عماد کا نام سنتے ہی اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔
"واٹ؟ آپ نے پہلے کیوں نہی جگایا مجھے۔"
وہ ایک دم بستر سے اٹھا تھا۔
"کب سے تو جگا رہی ہوں۔ جلدی آٶ ناشتہ کر لو پھر چلے جانا"
وہ تیار ہو کر ناشتہ کر چکا تھا اب نکلنے والا تھا۔ امل دروازے تک اسے چھوڑنے آٸ تھی۔
"چھے بجے میں آ جاٶں گا آپ لوگ تیار رہیے گا۔ پھر اکٹھے چلیں گے۔"
امل نے سر ہلایا تو وہ مسکرایا اور نزریک ہو کر اس کے ماتھے پہ بوسا دیا۔
"میں چلتا ہوں پھر۔۔۔"
YOU ARE READING
Saagar (Complete)
Romanceوہ ساگر جیسا تھا۔ ساری زندگی اس نے لوگوں کی بھیڑ میں بھی تنہا گزاری تھی۔ اسے کبھی محبت نہی ملی مگر اسے محبت ہو گٸ تھی۔ کیا زندگی میں اس کے لیے محبت تھی ہی نہی؟ کیا وہ اس محبت کا حقدار نہی تھا جو سب کو ملتی تھی؟ کیا وہ محبت دے کر بھی محبت پا نہی سکتا...
