٢٥۔

383 24 24
                                        


صبح سب سے پہلے امل کی آنکھ کھلی۔ وہ ساگر کے چہرے کو دیکھنے لگی۔ کتنا معصوم اور دل موہ لینے تک پیارا لگتا تھا وہ سوتے ہوۓ کوٸ امل سے پوچھتا۔

وہ کہنی کے بل سر کو اونچا کر کے کتنی دیر اسے دیکھتی رہی۔ کتنی پر سکون نید سو رہا تھا وہ۔ امل نے اس کے سینے پہ سر رکھ دیا۔ اس کے دل کی دھڑکن سننا اچھا لگ رہا تھا۔

کچھ دیر میں اس نے اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتے محسوس کیا۔ وہ جاگ گیا تھا اور اسے خود سے اور نزدیک کر رہا تھا۔ امل نے زرا سا سر اونچا کر کے اسے دیکھا۔

”آپ کو پتا ہے میں سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتا تھا؟ “

ساگر نے کہنا شروع کیا۔ وہ اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔

”آپ کو کھونے سے۔“

امل نے اس کی آنکھوں میں کٸ جذبوں کی لپٹیں محسوس کی تھیں۔

”اس رات جب آپ گھر چھوڑ کر چلی گٸ تھیں۔۔۔۔۔میں بتا نہی سکتا میں کیا محسوس کر رہا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا جیسے کسی نے میرے جسم سے روح نکال لی ہو۔۔۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھوں میں درد نظر آ رہا تھا۔

”محبت کتنا بے بس کر دیتی ہے نا انسان کو؟۔۔۔۔۔میں آپ سے محبت کرتا تھا مگر آپ کو بتا نہی سکتا تھا۔ مجھے ڈر تھا آپ میری محبت کو کوٸ اور نام نہ دے دیں۔ اس لیے میں آپ سے دور رہتا تھا۔ لیکن شادی کے بعد میں اس بات سے ڈرنے لگا کہ ایک دن آپ پہ میری حقیقت کھل جاۓ گی اور آپ پھر مجھے چھوڑ کر چلی جاٸیں گی۔
میں یہ برداشت نہی کر سکتا تھا۔ اس لیے دل ہی دل میں آپ کو چاہنے لگا۔۔۔۔۔
اور پھر آپ کو بھی مجھ سے محبت ہو ہی گٸ۔ میں جب آپ کو اپنی پرواہ کرتے دیکھتا تھا تو خوش گمان ہو جاتا تھا لیکن جب جب مجھے اپنی حقیقت یاد آتی تھی، میری ساری خوش گمانیاں پھر سے غاٸب ہونے لگ جاتیں۔۔۔
مجھے نہی پتا تھا آپ کیسا محسوس کرتیں میرے جیسے انسان کے ساتھ رہنا؟ اس لیے میں اپنے اس رشتے کو آگے نہی بڑھا رہا تھا۔ اگر آپ کومجھ سے نفرت ہو جاتی اور آپ مجھے چھوڑ کر چلی جاتیں تو میں ساری زندگی اپنے آپ سے لڑتا رہتا، اپنے آپ کو کوستا رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن میں آپ کا دل سے ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے قبول کر لیا۔۔۔“

وہ دھیمے سے مسکرایا۔ امل نے اس کے خوبصورت چہرے پہ اداسیاں دیکھی تھیں۔

”تم کتنا بولتے ہو۔۔۔۔۔۔۔تم صرف ”آٸ لو یو“ بولتے ہوۓ اچھے لگتے ہو۔ وہی بولتے رہا کرو۔۔“

امل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا اور سر دوبارہ اس کے سینے پہ رکھ دیا۔ساگر کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گٸ۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بدلا۔

”آٸ لو یو میری جان۔۔۔“

اس نے زور سے امل کو اپنے ساتھ لگایا تھا اور اس کے بالوں پہ پیار دیا۔ امل کو کتنا تحفظ ملتا تھا اس کے وجود سے، وہ لفظوں میں بیان نہی کر سکتی تھی۔ اب تو وہ اس کی کُل کاٸنات بن گیا تھا۔

Saagar (Complete)Hikayelerin yaşadığı yer. Şimdi keşfedin