٢١۔

182 14 1
                                        


مومنہ سکول سے آگٸ تھی۔ ساگر کی امی کی آمد کی وجہ سے وہ اتنی کھو گٸ تھی کہ اس نےدن کا کھانا بھی نہی بنایا تھا۔ مومنہ کے کھانا مانگنے پر اسے یاد آیا۔

”تم ایسا کرو فروٹس کھا لو۔“

اس نے مومنہ کو پھل دے دیے اور خود بھی اسی سے پیٹ بھر لیا۔ ساگر جانے کہاں چلا گیا تھا۔ اس کی حالت ٹھیک نہی تھی۔ وہ بھی ایک شاک سے گزر رہا تھا۔ اسے اس وقت تنہاٸ درکار تھی۔

رات ہو گٸ تھی اور ساگر کا کچھ پتا نہی تھا۔ امل نے اس کا فون کٸ بار ٹراٸ کیا تھا مگر وہ بند جا رہا تھا۔ امل کوفکر ہونے لگی۔ ساگر نے کبھی فون تو بند نہی کیا تھا۔ اس نے زوار سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ دوبارہ آفس آیا ہی نہی۔ اس نے عماد کانمبر نکال کر اسے کال ملاٸ۔ وہ بھی نہی جانتا تھا کہ ساگر کہاں ہے۔ اب امل کو سچ میں تشویش ہونے لگی۔ وہ اس کی وجہ سے پریشان تھی۔ جانے کہاں ہو گا؟ کچھ کھایا پیا بھی ہو گا یا نہی؟

۔۔۔

امل کو اسکی فکر ستانے لگی۔ ساری رات وہ گھر نہی آیا تھا ۔ اگلی صبح وہ بھی سورج نکلنے کے کافی دیر بعد آیا اور آہستہ سے لاٶنج میں ہی ٹک گیا تھا۔ امل باہر آٸ تو اسے دیکھ کر اس نے نظریں چرا لیں۔

امل نے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوٸ تھیں جیسے بہت رویا ہو۔ حلیہ بھی عجیب سا تھا۔ پہلی نظر میں ہی وہ کوٸ بنجارا سا لگنے لگا تھا۔ جس کا کوٸ ٹھکانہ نہ ہو، جس کا سب کچھ لٹ چکا ہو، جو ٹوٹ چکا ہو، بکھر چکا ہو۔

”کہاں رہ گۓ تھے تم؟ ٹھیک تو ہونا؟“

امل اس کے قریب آٸ اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ وہ یونہی سر جھکاۓ بیٹھا رہا۔ اس نے امل کی طرف دیکھا بھی نہی۔ وہ جیسے ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کاجسم گرم تھا۔ اسے بخار ہو رہا تھا۔

”اٹھو۔ اندر جا کر لیٹو۔“

امل نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور اندر بیڈ پر لٹا دیا۔ وہ کچھ نیند لیتا تو بہتر ہو جاتا۔

وہ سو گیا تھا مگر شام تک اس کا بخار خاصا تیز ہو چکا تھا۔ امل کو سمجھ نہی آٸ کیا کرے۔ اس نے عماد کو ہی کال ملا دی۔ وہ اس کی طبیعت کا سن کر فوراً ہی گھر آ گیا تھا۔

”بھابھی کیا ہوا ہے ساگر کو؟“

وہ بھی بہت پریشان ہو گیا تھا۔

”پتا نہی۔  کل اس کی والدہ آٸ تھیں۔ ان کے جانے کے بعد سے یہ گھر سے چلاگیا اور پھر صبح گھر آیا۔ اب اس کا بخار اتنا تیز ہو گیا ہے۔ مجھے سمجھ نہی آرہا تھا کس کو مدد کے لیے بلاٶں اس لیے آپ کوفون کر دیا۔“

اس نے وضاحت دی۔

”اچھا کیا آپ نےمجھے بلا لیا۔ میں ڈاکٹر کو لےکر آتا ہوں۔ آپ فکرنہ کریں یہ ٹھیک ہوجاۓ گا۔“

عماد نے امل کو تسلی دی تھی مگر ساگر کی حالت دیکھ کر وہ خود بھی اچھا خاصا پریشان ہو گیا تھا۔ ساگر بے سدھ پڑا تھا۔ نہ آنکھیں کھول رہا تھا اورنہ ہل رہا تھا۔ اس کی نبض بھی بہت آہستہ چل رہی تھی۔

Saagar (Complete)Donde viven las historias. Descúbrelo ahora