”ساگر۔۔۔۔۔“
وہ نام تھا یا لہجہ، ساگر کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا، اور پھر آہستہ آہستہ وہ پانی بہنے لگا۔
امل نے جب ان سے پوچھا کی آپ کون تو ان خاتون نے کیسے گہرا سانس لے کر کہا تھا ”میں ساگر کی ماں ہوں“
امل کو اتنا زور کا شاک لگا تھا کہ کچھ لمحے اسے واقعی لگا کہ اس نے غلط سنا ہے۔
”آپ۔۔۔۔۔کون ۔۔۔ ہیں؟
اس نے دوبارہ پوچھا تھا اپنی تسلی کے لیے اور دوبارہ وہی جواب پا کر اسے یقین آ گیا تھا کہ وہ خواب نہی دیکھ رہی۔ ساگر کی ماں اس کے سامنے کھڑی تھی۔
اس نے انھیں اندر بٹھایا اور پانی پلایا۔
”کب شادی کی اس نے؟“
پانی کا گلاس اسے تھماتے ہوۓ وہ بولی تھیں۔
”ڈیڑھ سال ہوگیا ہے“ اس نے مختصراً کہا۔
”پسند کی شادی کی ہوگی اس نے۔ کافی خوبصورت ہو تم۔“
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔ امل بھی جواباً مسکرا دی۔ مگر ان دونوں کی مسکراہٹ ایک جیسی تھی۔ کھوکھلی اور بناوٹی۔
”میرے بارے میں کچھ بتایا ہوگا اس نے؟“
اس کی ماں نے امل سے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
”ساگر کے بارے میں کتنا جانتی ہو؟“
اب انھوں نے یہی سوال کچھ دوسرے انداز میں پوچھا۔
”اتناجانتی ہوں جتنا ایک دوسرے پہ اعتبار کرنے کے لیے کافی ہے۔“
اس نے گول مول سا جواب دیا۔ وہ دلچسپ انداز سے اسے دیکھنے لگیں جیسے اس کی بات نے انھیں متاثر کیا ہو۔
”تم واقعی ایک اچھی بیوی ثابت ہو گی میرے بیٹے کے لیے۔“
امل بس مسکرا ہی سکی۔ وہی زبردستی کی مسکراہٹ۔
”اس نے کبھی اپنے باپ کے بارے میں یا اپنے ماضی کے بارے میں تم سے کوٸ بات نہی کی؟“
انھوں نے پھر امل سے پوچھا تھا۔ نجانے وہ کیا جاننا چاہ رہی تھیں۔
”اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ایک یتیم خانے میں پلا بڑھا تھا اور پھر اسے ایک فیملی اپنے ساتھ لے گٸ تھی ایڈاپٹ کر کے۔ چھ عرصہ وہ ان کے ساتھ رہا پھر کسی وجہ سے اسے وہ گھر چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد وہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پہ کھڑا ہو گیا اور پھر ہماری شادی ہو گٸ۔“
امل نے مختصراً بتایا جو وہ ساگر کے بارے میں جانتی تھی۔
”میرے بیٹے نے بہت دکھ اٹھاۓ ہیں۔ اس کی زندگی اتنی آسان نہی رہی جتنی تم مجھے بتا رہی ہو۔ میں نے غلطی کی جو اسے اس کے باپ کے پاس چھوڑا۔ اس کم ظرف سے اپنی اولاد بھی سنبھالی نہ جا سکی۔“
YOU ARE READING
Saagar (Complete)
Romanceوہ ساگر جیسا تھا۔ ساری زندگی اس نے لوگوں کی بھیڑ میں بھی تنہا گزاری تھی۔ اسے کبھی محبت نہی ملی مگر اسے محبت ہو گٸ تھی۔ کیا زندگی میں اس کے لیے محبت تھی ہی نہی؟ کیا وہ اس محبت کا حقدار نہی تھا جو سب کو ملتی تھی؟ کیا وہ محبت دے کر بھی محبت پا نہی سکتا...
