عموماً وہ رات کھانے سے پہلے ہی آتا تھا۔ یا اگر کسی کام سے تھوڑا جلدی آ جاتا تھا۔ آج دن میں ہی آ گیا تھا۔ تو امل اس کے لیے بھی چاۓ بنا رہی تھی۔
امل نے چاۓ بنا کر وہ بھی میز پر رکھ دی اور مومنہ کو آواز دی۔ اب کی بار امل پہلے ہی دوسری جانب والی کرسی پر بیٹھ گٸ جو اب تک سوکھ چکی تھی۔
مومنہ پہلے آٸ اور ساگر بعد میں۔ مومنہ ہی اسے بلا کر لاٸ تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھا تھا۔ بار بار تو قسمت مہربان نہی ہو سکتی تھی نا۔
وہ چپ چاپ چاۓ پینے لگا تھا۔
"ساگر بھاٸ میں نے کیک کھانا ہے۔"
مومنہ نے نٸ فرماٸش کر دی۔ ساگر مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے اٹھا۔
"چاۓ تو پی کر جاٶ۔"
امل نے آواز دی۔
"آکر پی لوں گا۔" وہ وہیں دروازے سے کہتا باہر نکل گیا۔ امل اس کی طرف مڑی۔
"کیا ضرورت تھی اس بے تکی فرماٸش کی؟ پہلے کیا اس پہ کم بوجھ ہے ہمارا جو تم اب اس کا مزید خرچا کروا رہی ہو؟"
"کیا ہو گیا آپی۔ انھوں نے خود کہا ہے جس چیز کا دل کرے بتا دوں۔ تو میں نے بتا دیا۔"
"مومنہ تم ابھی چھوٹی ہو اس بات کو نہی سمجھ سکتی۔ وہ ہمارے لیے غیر ہے۔ اور غیروں پہ اتنا بھروسہ اور حق نہی رکھتے۔"
"غیر کیوں آپی۔ آپ کی ان سے شادی ہوٸ ہے۔آپ کے تو شوہر ہیں نا وہ۔ اور کتنا خیال کرتے ہیں آپ کا۔ پھر بھی آپ انھیں غیر ہی سمجھتی ہیں۔"
"تم نہی سمجھو گی۔ یہ شادی بس ایک دکھاوا ہے دوسروں کے لیے تا کہ کوٸ ہمیں بے سہارا نہ سمجھے۔ اور اس نے بس امی کے کہنے پہ یہ شادی کی ہے۔ اس لیے زیادہ امیدیں نہ لگاٶ تم اس سے۔"
"کیا پتا وہ سچ میں آپ سے ہی شادی کرنا چاہتے ہوں بس اس لیے نہ کہتے ہوں کہ آپ کو برا نہ لگ جاۓ۔"
"وہ مجھ سے نہی کسی اور سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ مگر وہ لڑکی بھی اسے پسند نہی کرتی تھی۔ اس لیے مجبوری میں مجھ سے کر لی۔"
"انھیں بس ایک ہی لڑکی پسند نہی کرتی تھی۔ اور اسی سے شادی کر لی انھوں نے۔"
مومنہ کی بات سن کر ایک لمحے کو تو اسے سمجھ نہی آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ جب تک سمجھ آیا وہ کیک لے کر آچکا تھا۔
"یہ لو۔ تمھارا پسندیدہ چاکلیٹ فروسٹ۔ آسکریم بھی ہے پر وہ رات کو کھاٸیں گے۔"
اس نے میز پر ہی شاپر رکھ دیا اور اپنی ٹھنڈی چاۓ پینے لگا تھا۔
"یہ تو ٹھنڈی ہو گٸ ہے۔ میں دوسری بنا دیتی ہوں۔"
امل کچن میں چلی گٸ مگر اسے ابھی تک مومنہ کی بات سناٸ دے رہی تھی۔
"انھیں بس ایک ہی لڑکی پسند نہی کرتی تھی۔ اور اسی سے شادی کر لی انھوں نے۔"
تو کیا وہ اسے۔۔۔۔نہی۔ ضروری تو نہی کہ وہی ایک ناپسند کرتی ہو۔ کوٸ اور ہی ہوگی۔ مومنہ بھی نا۔ ٹی وی ڈرامے دیکھ دیکھ کر فضول اندازے لگاتی رہتی ہے۔
YOU ARE READING
Saagar (Complete)
Romanceوہ ساگر جیسا تھا۔ ساری زندگی اس نے لوگوں کی بھیڑ میں بھی تنہا گزاری تھی۔ اسے کبھی محبت نہی ملی مگر اسے محبت ہو گٸ تھی۔ کیا زندگی میں اس کے لیے محبت تھی ہی نہی؟ کیا وہ اس محبت کا حقدار نہی تھا جو سب کو ملتی تھی؟ کیا وہ محبت دے کر بھی محبت پا نہی سکتا...
