٢٢۔

192 16 0
                                        


"تم سب کو تحفے دیتے ہو، مجھے کیوں نہی دیتے؟"

ساگر جو خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا، ایک دم سے مسکرایا تھا۔ وہ کس موقع پر کیا سوال کر رہی تھی۔

"دیا تو تھا۔ آپ نے توڑ دیا تھا۔"

اس نے مسکرا کر آہستہ سے کہتے ہوۓ، امل کو کچھ یاد دلانے کی کوشش کی تھی۔ امل نے بے اختیار اس کی ہتھیلی کے کٹ کو دیکھ کر انگلی پھیری تھی۔

"میرا مطلب آپ کو اداس کرنا نہی تھا۔ مذاق کر رہا تھا"

وہ اس کے اچانک سنجیدہ اور اداس ہوتے چہرے کو دیکھتے بولا تھا۔

"میں نے تمھارے ساتھ بہت زیادتی کی۔ مجھے ایسا نہی کرنا چاہیے تھا۔ اسی لیے تم مجھے کوٸ تحفہ نہی دیتے بالکل ٹھیک کرتے ہو"

وہ اداسی سے کہہ رہی تھی۔

"ایسی بات تو نہی ہے۔ آپ کے لیے کپڑے، جوتے اور دوسری چیزیں نہی لاتا کیا میں؟"

ساگر نے اسے یاد دلایا۔

"وہ ضرورت کی چزیں ہیں۔ تحفے میں شمار نہی ہوتیں۔"

امل نے نروٹھے پن سے کہا۔

"تو آپ کو کیا چاہیے؟"

ساگر نے بالوں کی ایک لٹ امل کے کان کے پیچھے کرتے پوچھا۔

"اب یہ بھی میں بتاٶں؟ تحفہ بھی مانگ کے لیا تو کیا فاٸدہ؟ ابھی تک تم نے مجھے شادی کا بھی گفٹ نہی دیا۔ منہ دکھاٸ بھی نہی دی۔"

امل نے اب باقاٸدہ منہ بنا لیا تھا۔

"اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے۔ میں کیسے دے سکتا تھا۔۔۔۔"

اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔

"بعد میں تو دے سکتے تھے۔ تمھاری نیت ہی نہی تھی مجھے کچھ دینے کی۔ بس ساری محبتیں اور تحاٸف مومنہ اور ماں جی کے لیے ہی تھیں مجھ سےتو تم بس دکھاوے کی محبت کرتے ہو۔۔۔"

امل نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور منہ پھیر لیا۔

"ایسی بات نہی ہے۔ بلکہ ایک منٹ۔ تحفہ تو ہے میرے پاس۔۔۔بس دے نہی سکا۔۔۔"

اس نے آخری بات آہستہ سے کہی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اب وہ الماری کھول رہا تھا۔ کچھ چیزیں الٹ پلٹ کیں پھر ایک چھوٹی سی ڈبی اٹھا لایا۔ کالے رنگ کی مخملیں ڈبی اس نے امل کے سامنے کی۔

"یہ آپ کی منہ دکھاٸ۔۔۔"

اس نے ڈبی اس کے سامنے کھولی اور اس میں سے ایک انگوٹھی نکال کر امل کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنا دی۔ وہ بالکل امل کے ہی ناپ کی تھی۔

امل نے نخرے سے انگوٹھی کو دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔

"کیا ہوا؟ اچھا نہی لگا؟"

ساگر اس کے تاثرات دیکھ کر سمجھ نہی سکا۔

"یہ انگوٹھی۔۔۔۔۔۔یہ بالکل اس جیسی ہے جو میرے بابا نے مجھے گفٹ کی تھی"

Saagar (Complete)Where stories live. Discover now